قبائیلی امور کی وزارت
مرکزی وزیر جناب جوئل اورام اور نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر آر بالاسبرامنیم نے مشترکہ طور پر آئی ٹی ڈی اے اور آئی ٹی ڈی پی کو مستحکم کرنے کیلئے قومی خاکہ اور عمل درآمد پر مبنی اصلاحاتی رہنما اصول جاری کئے
دو اہم دستاویزات پر مبنی 19 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 217 آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پی پر مشتمل ملک گیر مشاورتی عمل کو قبائلی ترقیاتی منصوبوں کو آخری سرے تک مؤثر انداز میں پہنچانے کیلئے عملی اصلاحاتی لائحہ عمل تیار ہوا
प्रविष्टि तिथि:
15 AUG 2026 9:55PM by PIB Delhi
قبائلی امور کے مرکزی وزیر جناب جوئل اورام اور نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر آر بالاسبرامنیم نے آج وزارتِ قبائلی امور کی دو اہم دستاویزات آئی ٹی ڈی اے اور آئی ٹی ڈی پی کو مستحکم کرنے کے لئے قومی خاکہ اور آئی ٹی ڈی اے و آئی ٹی ڈی پی کو مستحکم کرنے کے لئے عملی پر مبنی رہنما اصول کا مشترکہ طور پر اجرا کیا۔
یہ دونوں دستاویزات ایک جامع، مشاورت پر مبنی اور شواہد سے ثابت شدہ قومی کوشش کا نتیجہ ہیں۔ اس کوشش کا مقصد مربوط قبائلی ترقیاتی ایجنسیوں اور منصوبوں (آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پی) کو مضبوط بنانا ہے، جو ملک بھر میں قبائلی ترقی کو فروغ دینے والے اہم علاقائی سطح کے ادارے ہیں۔

قبائلی امور کی وزارت میں سکریٹری محترمہ رنجنا چوپڑا، وزارتِ قبائلی امور کے ایڈیشنل سکریٹری جناب منیش ٹھاکر اور وزارت کے دیگر اعلیٰ افسران کی موجودگی میں دونوں اشاعتوں کا اجرا کیا گیا۔
اس موقع پر وزیر موصوف نے کہا کہ آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پی ہمیشہ سے سرکاری پروگراموں اور قبائلی برادریوں کے درمیان ایک اہم رابطے کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ ‘دھرتی آبا قبائلی گرام اتکرش ابھیان’ (ڈی اے جے جی یو اے) اور‘پی ایم-جن من’ کے تحت کئے جا رہے کاموں کے وسیع پیمانے کو دیکھتے ہوئے ان کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر بالاسبرامنیم نے کہا کہ درجہ بندی، حقیقی وقت میں اعداد و شمار پر مبنی نگرانی اور تال میل کے وہ اصول، جنہوں نے پسماندہ اضلاع اور بلاکس میں مطلوبہ نتائج کے حصول میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے، اب آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پی کی اصلاحات کا لازمی حصہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شواہد پر مبنی انتظامی توجہ پسماندہ علاقوں میں تبدیلی لا سکتی ہے۔ یہ اشاعتیں قبائلی ترقی کے نظام میں اسی ماڈل کو اپنانے کی کوشش ہیں، جس کے تحت آئی ٹی ڈی اے کے ذریعے سہولیات اور حقوق کو آخری فرد تک مکمل طور پر پہنچایا جائے گا۔
یہ کوشش وزارت قبائلی امور کی سکریٹری محترمہ رنجنا چوپڑا کی مجموعی رہنمائی اور دوراندیشی میں انجام دی گئی۔ انہوں نے شواہد پر مبنی اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ادارہ جاتی اصلاحات پر زور دیتے ہوئے پورے مشاورتی عمل کا خاکہ تیار کیا۔ محترمہ چوپڑا کی یہ مسلسل رہنمائی کہ ہر جگہ ایک ہی طریقۂ کار کو نافذ کرنے کے بجائے مقامی حالات کے مطابق جواب دہ علاقائی ادارے تشکیل دیے جائیں، ملک بھر میں آئی ٹی ڈی اے اور آئی ٹی ڈی پی کو مضبوط بنانے کے لیے وزارت کے لائحۂ عمل کی ایک اہم اسٹریٹجک بنیاد بنی۔

وزارت نے اپریل 2026 میں 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 214 آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پی کو شامل کرتے ہوئے اس کوشش کا آغاز کیا۔ اس کے لیے پروجیکٹ افسران، ریاستی قبائلی بہبود کے محکموں اور قبائلی تحقیقی اداروں کو شامل کرتے ہوئے ایک معیاری تشخیصی عمل اپنایا گیا۔ اسے محض میز پر بیٹھ کر کیے جانے والے تبادلہ خیال کے بجائے زمینی سطح سے شروع ہونے والے اور مشاورت پر مبنی عمل کے طور پر وضع کیا گیا تھا۔ اس میں ریاستی سطح کی ورکشاپس، فیلڈ دورے اور براہِ راست بات چیت شامل تھی، جس کے ذریعے زمینی سطح کے چیلنجوں اور کامیاب طریقۂ کار کی بنیاد پر قومی لائحۂ عمل تیار کیا جا سکا۔ اس عمل کا اختتام ‘شواہد پر مبنی آئی ٹی ڈی اے تشخیصی اسکورنگ فریم ورک’ کی تیاری کے ساتھ ہوا، جس میں پانچ ادارہ جاتی شعبوں کے تحت 15 پیمانوں پر اداروں کا جائزہ لیا گیا۔
اس کام کو زمینی سطح پر نافذ کرنے کے لیے اپریل اور مئی 2026 میں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں منظم مشاورتی ورکشاپس منعقد کی گئیں۔ ان ورکشاپس کی قیادت ڈی اے جے جی یو اے ڈویژن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ورنالی ڈیکا اور ای ایم آر ایس کی ڈپٹی سکریٹری محترمہ جعفر ملک نے کی۔ افسران نے تمام آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پی کے پروجیکٹ افسران اور ریاستی قبائلی تحقیقی اداروں کے نمائندوں سے براہِ راست بات چیت کی تاکہ ادارہ جاتی صورتِ حال کو سمجھا جا سکے اور زمینی سطح سے اعداد و شمار جمع کیے جا سکیں۔ اس کے بعد اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اعداد و شمار کی تفصیلی جانچ اور تصدیق کی گئی کہ تجزیے کا عمل مکمل طور پر زمینی حقائق پر مبنی ہو۔ بعد ازاں ان نتائج کا تجزیہ کرکے قومی خاکہ، لائحۂ عمل اور عملیاتی رہنما اصولوں کا مجموعہ تیار کیا گیا۔
یہ کوشش 3 جون 2026 کو ایک اہم مرحلے میں داخل ہوئی، جب وزارت نے نئی دہلی کے وگیان بھون میں آئی ٹی ڈی اے اور آئی ٹی ڈی پی کو مستحکم کرنے کے موضوع پر قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ ہندوستان کی صدر جمہوریہ محترمہ دروپدی مرمو نے اس پروگرام کو رونق بخشی۔
قومی خاکہ تشخیصی طریقۂ کار اور اسٹریٹجک رہنما اصول فراہم کرتا ہے، جبکہ عملیاتی رہنما اصول ان تجاویز کو عملی اقدامات میں تبدیل کرتے ہیں۔ ان اقدامات میں ادارہ جاتی تنظیمِ نو، تال میل، شواہد پر مبنی منصوبہ بندی، ڈیجیٹل حکمرانی، نتائج پر مبنی نگرانی اور استعدادِ کار میں اضافہ شامل ہیں۔ پہلی بار ریاستوں کے لیے ایک مشترکہ ادارہ جاتی تشخیصی طریقۂ کار فراہم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے ہر آئی ٹی ڈی اے اپنی خامیوں کی نشاندہی کر سکتا ہے اور اپنے حالات کے مطابق کارکردگی میں بہتری کے لیے لائحۂ عمل تیار کر سکتا ہے۔
جناب جوئل اورام نے کہا کہ اس کا مقصد صرف اداروں کی درجہ بندی کرنا نہیں، بلکہ مسلسل ادارہ جاتی بہتری کی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ تمام آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پی پروجیکٹ افسران کے ساتھ ریاستی سطح پر جائزہ اجلاس منعقد کریں، ادارے کے لحاظ سے مخصوص عملی منصوبہ تیار کریں اور سہ ماہی نگرانی کا نظام قائم کریں۔
وزیر موصوف نے زیادہ مؤثر فنڈز کی منتقلی کے نظام کے ذریعے آئی ٹی ڈی اے/آئی ٹی ڈی پی کے نظام کو مضبوط بنانے کی سفارش کی۔ اس میں آئی ٹی ڈی اے کو براہِ راست فنڈز منتقل کرنے کے امکانات تلاش کرنا، منصوبوں کے بہتر نفاذ کے لیے تکنیکی عملے کی تعداد میں اضافہ کرنا، اور تال میل، جواب دہی اور کام کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے پنچایتی راج اداروں کے نمائندوں اور ریاستی سطح کے اعلیٰ عہدیداروں کی فعال شرکت کے ساتھ باقاعدہ گورننگ کونسل کے اجلاس کو ادارہ جاتی شکل دینا شامل ہے۔
دونوں معزز شخصیات نے ریاستوں، پروجیکٹ افسران، قبائلی تحقیقی اداروں اور وزارت کے افسران کو مبارک باد دی، جن کے زمینی تجربات نے ان دونوں اہم اشاعتوں کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ن ع
U.NO.2213
(रिलीज़ आईडी: 2300513)
आगंतुक पटल : 4