سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
پی ایچ ڈی کے چیلنجز سے سیمی کنڈکٹر تحقیق تک:قومی درج فہرست ذات فیلوشپ اسکیم نے سنگیتا داس کے تعلیمی سفر کو کیسے سنوارا
प्रविष्टि तिथि:
17 AUG 2026 3:56PM by PIB Delhi
اعلیٰ تعلیم اور جدید تحقیق کا حصول علمی، تکنیکی اور ذاتی نوعیت کے اہم چیلنجز سے بھرپور ہو سکتا ہے۔ تحقیق کی ذمہ داریوں کے ساتھ مالی اور خاندانی ذمہ داریاں نبھانے والے اسکالرز کے لیے بروقت فیلوشپ کی معاونت ان کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے اسکالرز کے لیے فیلوشپ کی معاونت کس طرح مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اس کی ایک مثال 34 سالہ درج فہرست ذات سے تعلق رکھنے والی اسکالر محترمہ سنگیتا داس ہیں، جنہوں نے بی ٹیک اور ایم ٹیک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد پی ایچ ڈی کی۔ وہ اس وقت حکومتِ ہند کی وزارتِ برقیات و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے’’چِپس ٹو اسٹارٹ اَپ‘‘ پروگرام کے تحت بطور پروجیکٹ ایسوسی ایٹ دوم کام کر رہی ہیں۔
اپنے پی ایچ ڈی کے سفر کے دوران سنگیتا کو کئی علمی، تکنیکی اور ذاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں تحقیقی دباؤ، تجربات اور سیمولیشن میں ناکامی، تحقیقی مقالے شائع کرنے کی سخت مقررہ مدت اور ذاتی ذمہ داریوں کے ساتھ تحقیقی کام میں توازن قائم رکھنے کی مشکلات شامل تھیں۔ تحقیق جاری رکھتے ہوئے انہیں مالی مشکلات اور کام اور ذاتی زندگی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
ان کے خاندانی حالات نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ ان کے والد ریٹائرڈ استاد تھے اور ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انہیں مسلسل دیکھ بھال اور معاونت کی ضرورت تھی۔ اسی دوران جب سنگیتا کو قومی درج فہرست ذات فیلوشپ اسکیم کے لیے منتخب کیا گیا، تو وہ ایک نومولود بچے کی ماں بھی تھیں۔ تحقیق کی ذمہ داریوں کے ساتھ بچے کی دیکھ بھال اور خاندانی ذمہ داریاں نبھانا ان کے لیے انتہائی مشکل تھا۔ ان تمام حالات کے باوجود وہ اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے عزم کے ساتھ ثابت قدم، پُرعزم اور اپنی تحقیق پر پوری توجہ مرکوز رکھے رہیں۔
ان کی قومی درج فہرست ذات فیلوشپ کے تحت مالی معاونت 30 نومبر 2020 سے شروع ہوئی۔ اس فیلوشپ نے ان کے پی ایچ ڈی کے سفر کے ایک اہم مرحلے میں انہیں نمایاں مالی اور تعلیمی معاونت فراہم کی۔ اس کی مدد سے وہ بڑے مالی دباؤ کے بغیر اپنی تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں، جبکہ اپنے نومولود بچے کی دیکھ بھال اور بیماری کے دوران اپنے والد کی نگہداشت سمیت خاندانی ذمہ داریاں بھی نبھاتی رہیں۔

اس اسکیم کے تحت انہیں مالی معاونت، تعلیمی معاونت، تحقیقی فیلوشپ اور اعلیٰ تعلیم کے لیے حوصلہ افزائی فراہم کی گئی، جس کے تحت انہیں ماہانہ 31,000 روپے کی مالی معاونت حاصل ہوئی۔
قومی درج فہرست ذات فیلوشپ کی معاونت سے سنگیتا اپنی اہم ذاتی اور خاندانی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اپنی تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھنے میں کامیاب رہیں۔ ان کی بی ٹیک، ایم ٹیک اور پی ایچ ڈی کی تعلیمی قابلیتیں اور موجودہ طور پر پروجیکٹ ایسوسی ایٹ دوم کے طور پر ان کی ذمہ داری، سیمی کنڈکٹر اور چِپ ڈیزائن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ان کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کی عکاس ہیں۔
سنگیتا بیرونِ ملک پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق کا موقع حاصل کرنا چاہتی ہیں، تاکہ سیمی کنڈکٹر اور چِپ ڈیزائن کی جدید ٹیکنالوجیز کے شعبے میں اپنی تحقیقی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں اور بین الاقوامی تجربہ حاصل کر سکیں۔ وہ چِپ ڈیزائن اور وی ایل ایس آئی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کسی معروف کثیر قومی کمپنی میں بھی کام کرنا چاہتی ہیں، جہاں وہ سیمی کنڈکٹر صنعت میں جدید تحقیق اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کر سکیں۔
اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے محترمہ سنگیتا داس نے کہا:
’’قومی درج فہرست ذات فیلوشپ نے مجھے مالی دباؤ کے بغیر اپنی تحقیق جاری رکھنے اور ساتھ ہی اپنی خاندانی ذمہ داریاں نبھانے کی طاقت فراہم کی۔ اس فیلوشپ نے میرے تعلیمی سفر کو نئی سمت دی اور مجھے اپنے عالمی عزائم کی جانب آگے بڑھنے میں مدد فراہم کی۔‘‘
سنگیتا کا سفر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ فیلوشپ کی معاونت کس طرح علمی، مالی اور خاندانی مشکلات کے باوجود اسکالرز کو اعلیٰ سطح کی تحقیق جاری رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔ بچوں کی دیکھ بھال اور خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ مشکل پی ایچ ڈی تحقیق کو کامیابی سے جاری رکھنے سے لے کر سیمی کنڈکٹر اور چِپ ڈیزائن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پیشہ ورانہ کریئر بنانے تک، ان کا سفر عزم، ثابت قدمی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے بروقت معاونت کی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔
******
ش ح۔م ح ۔اش ق
U. No. 2228
(रिलीज़ आईडी: 2300477)
आगंतुक पटल : 9