سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال: خواتین محققین کے لیے کریئر میں ترقی کے مواقع
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 AUG 2026 3:34PM by PIB Delhi
حکومت نے اپنے قومی شماریاتی نظام کے ذریعے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور تحقیق کے شعبوں میں خواتین کی شرکت کا جائزہ لیا ہے۔ محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی)کی تحقیق وتردقی کی شماریات 2026-2025 رپورٹ کے مطابق،ایس ٹی ای ایم تحقیق کے شعبے میں خواتین کی شرکت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جو 2000-01 میں 13 فیصد سے بڑھ کر 2020-21 میں 18.6 فیصد اور پھر 24-2023 میں 29 فیصد تک پہنچ گئی۔یہ اعداد و شمار ایس ٹی ای ایم تحقیق کی افرادی قوت میں خواتین کی شرکت کا جائزہ پیش کرتے ہیں۔
خواتین محققین کی پیشہ ورانہ ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کے لیے نیتی آیوگ، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی(ڈی ایس ٹی)اور سی ایس آئی آر-نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کمیونیکیشن اینڈ پالیسی ریسرچ(سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر)سمیت پالیسی اور تحقیقی اداروں کی جانب سے کئی مطالعات کیے گئے ہیں۔ان میں نیتی آیوگ کی ”ارادے سے اثرات تک: کام کی جگہ پر صنفی مساوات کے لیے بہترین طریقوں کا مجموعہ (2025)“، سی ایس آئی آر-این آئی ایس سی پی آر کی ”ایس ٹی ای ایم میں خواتین — صنفی مساوات کی جانب سی ایس آئی آرکا ایک سروے (2022)“اورڈی ایس ٹی کی ”تحقیق اور ترقی کے اعداد و شمار کی رپورٹس (2026)“شامل ہیں۔ان مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ بڑی تعداد میں خواتین اعلیٰ تعلیم اور ڈاکٹریٹ مکمل کرتی ہیں، پھر بھی انہیں اب بھی ساختی، ادارہ جاتی اور سماجی و ثقافتی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کی پیشہ ورانہ ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔نشانزدکیے گئے اہم چیلنجز میں دیکھ بھال کی ذمہ داریوں کے باعث کریئر میں تعطل، بچوں کی نگہداشت کے لیے ناکافی بنیادی سہولیات، منظم طور پر دوبارہ ملازمت میں واپسی کے پروگراموں کی محدود دستیابی، کام کے مستحکم انتظامات اور رہنمائی کے مواقع کی کمی، کام اور نجی زندگی میں توازن برقرار رکھنے کا دباؤ اور ان عوامل کے صحت اور فلاح و بہبود پر اثرات شامل ہیں۔
حکومت خواتین سائنس دانوں کو ان کے کریئر کے مختلف مراحل میں کریئر میں وقفے کے بعد دوبارہ تحقیق کے شعبے میں واپسی کے لیے معاونت فراہم کرنے کی غرض سے کئی اسکیمیں نافذ کر رہی ہے۔محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے خواتین کے لیے سائنس اور انجینئرنگ -کرن (وائز کرن)اسکیم نافذ کی جا رہی ہے، جس میں وائز-پی ایچ ڈی، وائز پوسٹ-ڈاکٹورل فیلوشپ(وائز-پی ڈی ایف)،وائز – سماجی چیلنجز کے ساتھ مواقع (وائز-اسکوپ)، دانشورانہ املاک کے حقوق میں وائز انٹرن شپ (وائز-آئی پی آر) اور ودوشی پروگرام شامل ہیں۔یہ پروگرام خواتین کو ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ تحقیق، تحقیق کے عملی اطلاق، دانشورانہ املاک کے حقوق سے متعلق تربیت اور سینئر خواتین سائنس دانوں کو تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔
محکمہ بایوٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی)خواتین سائنس دانوں کو کریئر میں وقفے کے بعد بایوٹیکنالوجی اور اس سے متعلقہ تحقیقی شعبوں میں دوبارہ شامل ہونے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بایوٹیکنالوجی کریئر ایڈوانسمنٹ اینڈ ری اورینٹیشن (بایو کیئر)اسکیم نافذ کر رہا ہے۔محکمہ صحت تحقیق (ڈی ایچ آر)، وزارت صحت و خاندانی بہبود، مرکزی شعبے کی اسکیم صحت کی تحقیق کے لیے انسانی وسائل کی ترقی کے تحت خواتین سائنس دان اسکیم نافذ کرتا ہے۔ اس کا مقصد ان خواتین محققین کی معاونت کرنا ہے جو زچگی یا خاندانی ذمہ داریوں کے باعث کریئر میں وقفے کے بعد حیاتیاتی اور صحت سے متعلق تحقیق کے شعبے میں دوبارہ واپسی اختیار کرتی ہیں۔
ان اقدامات کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں۔ وائز -کرن کے تحت 4,000 سے زائد خواتین سائنس دانوں کو تحقیق کے لیے معاونت فراہم کی گئی ہے، جبکہ 942 خواتین کو دانشورانہ املاک کے حقوق کے شعبے میں تربیت دی گئی، جن میں سے 413 خواتین رجسٹرڈ پیٹنٹ ایجنٹس بن چکی ہیں۔بایوٹیکنالوجی کریئر ایڈوانسمنٹ اینڈ ری اورینٹیشن اسکیم کے تحت ملک کے مختلف تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں میں 415 خواتین محققین کو معاونت فراہم کی گئی ہے، جس سے انہیں تحقیقی شعبے میں دوبارہ اپنے کریئر کا آغاز کرنے میں سہولت ملی ہے۔
یہ معلومات وزیرمملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی علوم اور وزیر مملکت برائے وزیراعظم دفتر؛ عملہ، عوامی شکایات و پنشن؛ محکمہ جوہری توانائی اور خلائی امور، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح ۔م ش۔م ش
U. No.2205
(ریلیز آئی ڈی: 2300390)
وزیٹر کاؤنٹر : 18