خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
حکومت بچوں کو آن لائن نقصانات سے محفوظ رکھتے ہوئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنے کے مواقع فراہم کے تئیں پرعزم ہے
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 4:05PM by PIB Delhi
حکومت ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تبدیلی لانے والی صلاحیت بالخصوص بچوں کے لیے تعلیم، معلومات اور مختلف خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے میں ان کے اہم کردار کو تسلیم کرتی ہے۔ تاہم، حکومت ان ٹیکنالوجیز سے وابستہ خطرات سے بھی بخوبی آگاہ ہے، جن میں نقصان دہ مواد تک رسائی، سائبر بُلنگ، آن لائن بدسلوکی، اسکرین کے سامنے ضرورت سے زیادہ وقت گزارنا اورحد سے زیادہ ڈیجیٹل انحصار شامل ہیں۔ اس لیے ڈیجیٹل ماحول میں بچوں کے تحفظ کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
حکومت نے بچوں سمیت صارفین کے لیے محفوظ، قابل اعتماد اور جواب دہ آن لائن ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اطلاعاتی ٹیکنالوجی قانون، 2000، اطلاعاتی ٹیکنالوجی (ثالثی اداروں کے لئے رہنما اصول اور ڈیجیٹل میڈیاضابطۂ اخلاق) قواعد، 2021 (ترمیم شدہ) اور ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ، 2023 کے تحت جامع قانونی اور ضابطہ جاتی نظام وضع کئے ہیں۔
اطلاعاتی ٹیکنالوجی قانون، 2000، اطلاعاتی ٹیکنالوجی (ثالثی اداروں کے لئےرہنما اصول اور ڈیجیٹل میڈیاضابطۂ اخلاق) قواعد، 2021 کے ساتھ ملا کر ایک جامع قانونی نظام فراہم کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایک محفوظ اور جواب دہ آن لائن ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ ان قواعد کے تحت ثالثی اداروں کے لیے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کرنا لازم ہے، جبکہ ایسے غیر قانونی مواد کی میزبانی یا ترسیل پر پابندی ہے جس میں فحش یا عریاں مواد، رازداری کی خلاف ورزی کرنے والا مواد، بچوں کے لیے نقصان دہ مواد، نفرت یا تشدد کو فروغ دینے والا مواد، کسی فرد کی نقالی یا جعل سازی، یا عوامی نظم و نسق کے لیے خطرہ پیدا کرنے والا مواد شامل ہو۔
ڈیجیٹل ذاتی معلومات کے تحفظ سے متعلق قانون، 2023 بچوں کے تحفظ کے لیے مزید حفاظتی اقدامات فراہم کرتا ہے۔ اس کے تحت بچوں کے ذاتی ڈیٹا(معلومات) پر کارروائی کرنے سے قبل والدین یا قانونی سرپرست کی قابل تصدیق رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو ہدف بنا کر ان کے ڈیٹا کی نگرانی، رویّوں پر نظر رکھنےاور ٹارگٹڈ اشتہارات جیسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ڈی پی ڈی پی قواعد قابل تصدیق والدین کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے عملی طریقۂ کار بھی متعین کرتے ہیں، جن میں شناخت اور عمر کی تصدیق اور ورچوئل ٹوکنز کا استعمال شامل ہے۔ ان قوانین کے تحت رضامندی واپس لینے کا حق بھی فراہم کیا گیا ہے جبکہ معلومات کے ذمہ دار اداروں پر قانون کی دفعات کے مطابق متعلقہ معلومات حذف کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
وزارت داخلہ(ایم ایچ اے)نے انڈین سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر(آئی 4سی)قائم کیا ہے، جو قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں(ایل ای ایز)کو سائبر جرائم سے جامع اور مربوط انداز میں نمٹنے کے لیے ایک مؤثر نظام اور ماحول فراہم کرتا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم رپورٹنگ پورٹل(https://cybercrime.gov.in) عوام کو ہر قسم کے سائبر جرائم کی اطلاع دینے کی سہولت فراہم کرتا ہے، جس میں بچوں کے خلاف جرائم پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے جامع اور مربوط ردِعمل کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی غرض سے مرکزی حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں عوامی بیداری میں اضافہ، انتباہات اور مشاورت جاری کرنا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں، استغاثہ سے وابستہ افسران اور عدالتی افسران کی تربیت اور سائبر فارنسک سہولیات کو جدید بنانا شامل ہیں۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن (ین سی پی سی آر)نے بھی آن لائن تحفظ کو فروغ دینے کے لیے متعدد وسائل اور رہنما اصول تیار کیے ہیں۔ ان میں بچوں، والدین، اساتذہ اور عام عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے ’’آن لائن محفوظ رہیں‘‘ کے رہنما اصول، اسکولوں میں بچوں کی حفاظت اور سلامتی سے متعلق کتابچہ جس میں سائبر بُلنگ کی روک تھام کے رہنما اصول شامل ہیں اور 2024 میں اسکول کے بچوں کے لیے سائبر بُلنگ کی روک تھام سے متعلق رہنما ہدایات شامل ہیں۔یہ تمام وسائل آن لائن تحفظ، شکایت درج کرانے کے طریقۂ کار، احتیاطی اقدامات اور ذمہ دارانہ آن لائن رویّے کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔
مالی سال 2025-26کے دوران بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن (این سی پی سی آر)نے ملک بھر میں ریاستی اور ضلع سطح پر بچوں کے حقوق سے متعلق مختلف موضوعات و مسائل، جن میں اسکولی تحفظ اور سائبر سلامتی شامل ہیں، پر کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ کمیشن نے اسکول منتظمین اور اساتذہ کے لیے بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین اور حفاظتی طریقۂ کار کے بارے میں صلاحیت سازی کے پروگرام بھی منعقد کیے۔ اس کے علاوہ این سی پی سی آرکی جانب سے اسکولی تحفظ اور بچوں کی سلامتی سے متعلق ورچوئل طریقے سے ضلع ورکشاپس بھی منعقد کی جا رہی ہیں۔
بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن (این سی پی سی آر)نے 2021 میں ”بچوں کی جانب سے موبائل فون اور انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والے دیگر آلات کے استعمال کے جسمانی، رویّاتی اور نفسیاتی و سماجی اثرات“کے موضوع پر قومی سطح کا ایک مطالعہ بھی کرایا تھا۔اس مطالعے کا بنیادی مقصد یہ سمجھنا تھا کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سے منسلک دیگر آلات کے استعمال سے بچوں کی جسمانی، رویّاتی اور نفسیاتی و سماجی صحت پر کس نوعیت کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔یہ ملک کے مختلف خطوں پر محیط ایک قومی سطح کا مطالعہ تھا۔ اس میں 5,811 شرکاء کے ردعمل حاصل کیے گئے، جن میں 3,491 اسکول جانے والے بچے، 1,534 والدین اور 786 اساتذہ شامل تھے۔ یہ شرکاء ملک کی چھ ریاستوں کے 60 اسکولوں سے تعلق رکھتے تھے۔مطالعے کی رپورٹ این سی پی سی آرکی ویب سائٹ پر دستیاب ہے:
https://ncpcr.gov.in/public/viewPdf/165650458362bc410794e02_effect1.PDF
وزارتِ تعلیم نے جولائی 2020 میں ڈیجیٹل تعلیم سے متعلق پرگیاتا رہنما ہدایات جاری کیں، جو محفوظ اور مؤثر آن لائن تعلیم کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہیں۔ ان میں طلبہ کی فلاح و بہبود، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور الیکٹرانک آلات کے محتاط و ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای)نے بھی ان کوششوں کو مزید تقویت دیتے ہوئے ڈیجیٹل آداب سے متعلق رہنما اصول، اساتذہ کے لیے سائبر سکیورٹی تربیت اور اسکولوں میں سائبر سیفٹی سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لیے قائم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ قومی کونسل برائے تعلیمی تحقیق و تربیت (این سی ای آر ٹی)نے بھی اپنےتعلیمی نصاب میں سائبر تحفظ کو شامل کیا ہے اور سائبر تحفظ و سلامتی سے متعلق تعلیمی مواد تیار کیا ہے۔
نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ(این سی ای آر ٹی)نے بھی اپنے تعلیمی نصاب میں سائبر سیفٹی کو شامل کیا ہے اور سائبر تحفظ و سلامتی سے متعلق مختلف تعلیمی مواد تیار کیا ہے۔
حکومت بچوں کو آن لائن نقصانات سے محفوظ رکھتے ہوئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سے استفادہ کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے تئیں پرعزم ہے۔
یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کی۔
***
ش ح ۔م ش۔م ش
U. No.2200
(रिलीज़ आईडी: 2300382)
आगंतुक पटल : 8