سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 اے آئی نے ٹیومر کے دوبارہ بننے کی ذمہ دار پوشیدہ کینسر اسٹیم سیلز کا سراغ لگایا،علاج میں درستگی کی نئی راہ ہموار

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 12 AUG 2026 3:42PM by PIB Delhi

مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایک نئے فریم ورک نے کینسر اسٹیم جیسی خلیات کی نشوونما کی تین الگ الگ حالتوں کی نشاندہی کی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی ہزاروں مریضوں کے نمونوں میں چھپی ہوئی کینسر اسٹیم سیلز کا سراغ لگانے میں مدد دے سکتی ہے اور بالخصوص محدود طبی سہولیات والے علاقوں میں مریض کی ضرورت کے مطابق درست علاج کی راہ ہموار کرتے ہوئے پریسیژن میڈیسن کو حقیقت کے مزید قریب لے جا سکتی ہے۔

کینسر آج بھی انسانیت کو درپیش سب سے بڑے طبی چیلنجز میں سے ایک ہے۔ اگرچہ جدید علاج کینسر کے لاکھوں خلیات کو ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، تاہم بعض اوقات خلیات کی ایک معمولی سی تعداد زندہ بچ جاتی ہے، جو ٹیومر کے دوبارہ بننے، جسم کے دوسرے اعضا تک پھیلنے اور علاج کے خلاف مزاحمت پیدا ہونے کا سبب بنتی ہے۔

سائنسدان طویل عرصے سے یہ سمجھتے آئے ہیں کہ کینسر اسٹیم جیسی یہ نایاب خلیات ٹیومر کو زندہ رہنے اور دوبارہ بننے میں مدد دیتی ہیں اور ٹیومر کے دوبارہ بننے، جسم کے دیگر حصوں تک پھیلاؤ اور علاج کی ناکامی کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ تاہم، یہ خلیات انتہائی نایاب ہونے کے ساتھ ساتھ مسلسل اپنی شناخت اور خصوصیات تبدیل کرتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی درست نشاندہی کرنا کینسر کی تحقیق میں ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

حکومتِ ہند کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے ایک خودمختار ادارے ایس۔ این۔ بوس نیشنل سینٹر فار بیسک سائنسز (ایس این بی این سی بی ایس) کے محققین نے اشوکا یونیورسٹی کے اشتراک سے اب مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک ایسا فریم ورک تیار کیا ہے، جو ٹیومر کے جین کے اظہار سے متعلق اعداد و شمار کی مدد سے کینسر اسٹیم جیسی خلیات کی پوشیدہ حالتوں کا سراغ لگاتا ہے۔

ڈاکٹر شبھاشس ہلدر کی قیادت میں ہونے والی اس تحقیق میں ٹیم کے پہلے تیار کردہ مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارم ‘آنکو مارک’ کو مزید آگے بڑھایا گیا ہے۔ ‘آنکو مارک’ نے لاکھوں خلیات میں کینسر کے پھیلاؤ کو متحرک کرنے والی حیاتیاتی خصوصیات کی درست شناخت کرتے ہوئے 99 فیصد سے زائد پیش گوئی کی درستگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

ٹیومر کی افزائش، جسم کے دیگر حصوں تک پھیلاؤ اور ادویات کے خلاف مزاحمت کو فروغ دینے والے بنیادی حیاتیاتی عوامل کی پیمائش میں محققین کی مدد کرکے ‘آنکو مارک’ نے یہ ثابت کیا کہ مصنوعی ذہانت کس طرح وسیع جینیاتی اعداد و شمار میں پوشیدہ پیچیدہ حیاتیاتی معلومات کو سامنے لا سکتی ہے۔ اس کامیابی کے بعد تحقیقی ٹیم نے اب کینسر حیاتیات کے ایک انتہائی پیچیدہ مسئلے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ان نایاب اسٹیم جیسی خلیات کی شناخت، جو ٹیومر کی ارتقائی تبدیلی کو متحرک کرتی ہیں۔ان کا نیا فریم ورک ‘اے سی ایس سی ای این ڈی’، یعنی مصنوعی ذہانت پر مبنی کینسر اسٹیم جیسی خلیات کا تجزیہ کار اور نیوپلازم کو الگ کرنے والا نظام، روایتی طریقوں سے آگے بڑھتا ہے، جو ٹیومر کو صرف ایک ‘‘اسٹیم نیس’’ اسکور دیتے ہیں۔ اس کے بجائے یہ کینسر اسٹیم جیسی خلیات کی نشوونما کی تین الگ حالتوںکثیر صلاحیت جیسی، متعدد صلاحیت جیسی اور واحد صلاحیت جیسی کی نشاندہی کرتا ہے، جس سے ٹیومر میں موجود مختلف اقسام کی خلیاتی خصوصیات کا ایک غیر معمولی تفصیلی منظر سامنے آتا ہے۔ یہ نظام اعلیٰ ریزولوشن والی سنگل سیل سیکوینسنگ سے حاصل شدہ معلومات کو گہری مشین لرننگ کے ساتھ یکجا کرکے روایتی بلک ٹیومر آر این اے سیکوینسنگ کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس طرح ان پوشیدہ خلیاتی آبادیوں کا ان ہزاروں مریضوں کے نمونوں میں بھی مطالعہ ممکن ہوجاتا ہے، جہاں سنگل سیل تجربات دستیاب نہیں ہوتے۔

محققین نے موجودہ کمپیوٹیشنل طریقوں کے مقابلے میں ‘اے سی ایس سی ای این ڈی’ کی سخت جانچ کی اور ثابت کیا کہ مختلف آزاد ڈیٹا سیٹس اور سیکوینسنگ پلیٹ فارمز پر یہ نظام مسلسل موجودہ طریقوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کے بعد تحقیقی ٹیم نے اس فریم ورک کو بین الاقوامی سطح کے کینسر کے بڑے ڈیٹا بیسز، جن میں ٹی سی جی اے اور پری کوگ شامل ہیں، کے 25,000 سے زائد ٹیومر نمونوں کے تجزیے کے لیے استعمال کیا۔ تجزیے سے معلوم ہوا کہ ایسے ٹیومر جن میں انتہائی مؤثر اور کثیر صلاحیت جیسی کینسر اسٹیم سیلز کی تعداد زیادہ تھی، ان میں مریضوں کے کم زندہ رہنے، ٹیومر کے دوبارہ بننے کے زیادہ امکانات اور جدید مدافعتی علاج کے لیے کم ردعمل کا تعلق پایا گیا۔

ان خطرناک خلیات کی شناخت کے علاوہ ‘اے سی ایس سی ای این ڈی’ نے ان سالماتی حیاتیاتی نظاموں کا بھی سراغ لگایا جو ان خلیات کو زندہ رہنے، حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور مدافعتی نظام سے بچ نکلنے کے قابل بناتے ہیں۔ یہ معلومات سائنسدانوں کو نئی ادویاتی اہداف تلاش کرنے، ایسے مریضوں کی شناخت کرنے میں مدد دے سکتی ہیں جن میں بیماری دوبارہ لوٹنے کا زیادہ امکان ہو اور کینسر کے لیے زیادہ مؤثر اور مریض کی ضرورت کے مطابق درست علاج وضع کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔

مصنوعی ذہانت جدید حیاتیاتی اور طبی تحقیق میں تیزی سے ایک ناگزیر معاون بنتی جا رہی ہے۔ اے آئی محققین کو وسیع جینیاتی ڈیٹا میں چھپے ایسے حیاتیاتی نمونوں اور رجحانات کا سراغ لگانے کے قابل بناتی ہے، جن کا دستی طور پر تجزیہ کرنا تقریباً ناممکن ہوتا۔

‘آنکو مارک’ اور‘اے سی ایس سی ای این ڈی’ جیسے مطالعات اس بات کی مثال ہیں کہ مصنوعی ذہانت کس طرح ایسی سائنسی دریافتوں کے عمل کو تیز کر سکتی ہے، جو بالآخر کینسر کی تشخیص کو بہتر بنانے، علاج کے ردعمل کی پیش گوئی کرنے اور زیادہ مؤثر علاج کی تیاری میں رہنمائی فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

اشاعت کا لنک: https://doi.org/10.1093/narcan/zcag015

****

ش ح۔۔ ش ت۔ ش ب ن

U-2204


(ریلیز آئی ڈی: 2300366) وزیٹر کاؤنٹر : 15
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी