سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
پی ایم راحت اسکیم پر عمل درآمد کی صورت حال
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
12 AUG 2026 4:13PM by PIB Delhi
موٹر وہیکلز ایکٹ، 1988 کی دفعہ 162 کے قانونی جواز کے مطابق پی ایم راحت (روڈ ایکسیڈنٹ وکٹمز ہاسپٹلائزیشن اینڈ اَشورڈ ٹریٹمنٹ) اسکیم کو 13.02.2026 کو ملک بھر میں نافذ کرنے کے لیے شروع کیا گیا۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد سڑک حادثات کے متاثرین کو بروقت اور بلا تعطل طبی امداد فراہم کرکے، خاص طور پر اہم شروعاتی پہلے گھنٹےیعنی’سنہری گھنٹے‘کے دوران، سڑک حادثات سے ہونے والی اموات میں کمی لانا ہے۔ ’ سنہری گھنٹہ‘سے مراد کسی شدید چوٹ کے بعد ایک گھنٹے تک کا وہ اہم وقت ہے، جس کے دوران فوری طبی امداد فراہم کرکے موت کو روکنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت ہر متاثرہ فرد کے لیے زیادہ سے زیادہ 1.5 لاکھ روپے تک کے علاج کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، جو حادثے کی تاریخ سے زیادہ سے زیادہ 7 دن تک دستیاب ہوگی، خواہ حادثہ کسی بھی قسم کی سڑک پر پیش آیا ہو۔ اس کے علاوہ علاج کی یہ سہولت ان تمام متاثرین کو دستیاب ہوگی جو موٹر گاڑیوں کے استعمال کے باعث پیش آنے والے سڑک حادثات میں متاثر ہوئے ہیں۔
ملک گیر پیمانے پر 13؍فروری 2026 کواس اسکیم کے نفاذ کے بعد سے مورخہ31.07.2026 تک 34 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مجموعی طور پر 22,481 متاثرین نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے۔ ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے تفصیلات ضمیمہ-1 میں منسلک ہیں۔
اسپتالوں کی جانب سے کیے گئے دعووں کی مجموعی رقم کے مقابلے میں، ریاستی صحت ایجنسیوں (ایس ایچ اے) نے 12.59 کروڑ روپے کے دعووں کی منظوری دی ہے۔ اس میں سے 10.56 کروڑ روپے اسپتالوں کو ادا کیے جا چکے ہیں۔
مورخہ 4 جون 2025 کو جاری کردہ اسکیم کے رہنما خطوط ایس او 2489 (ای) تحت نامزد اسپتالوں، بشمول آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم-جے اے وائی) کے تحت فہرست میں شامل وہ اسپتال جو قومی صحت اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے اس اسکیم کے لیے جاری کردہ رہنما خطوط کی تعمیل کرتے ہیں، اس اسکیم کے مقاصد کے لیے نامزد اسپتال تصور کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ این ایچ اے کی جانب سے 20 مئی 2025 کو جاری کردہ تفصیلی رہنما خطوط کی بنیاد پر مزید اسپتالوں کو نامزد کرکے اس اسکیم میں شامل کریں۔
اسکیم کے تحت داخلہ دینے یا علاج سے انکار کرنا اسکیم کی قابل اطلاق دفعات کی عدم تعمیل کے مترادف ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو طبی اداروں کو منظم کرنے والے قوانین، بشمول کلینیکل اسٹیبلشمنٹس (رجسٹریشن اور ضابطہ) ایکٹ، 2010، یا متعلقہ ریاست کے مخصوص قوانین کے تحت کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔اس کے علاوہ اسپتالوں کو اسکیم میں شامل کرنے سے متعلق رہنما خطوط میں عدم تعمیل کی صورت میں تادیبی کارروائی، معطلی اور اسکیم سے اسپتال کو خارج کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ متاثرہ شخص ’سنہری گھنٹہ ( گولڈن آور)کے اندر اسپتال پہنچ سکے، 112 ایمرجنسی رسپانس سپورٹ سسٹم کے ساتھ مربوط نظام قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت متاثرہ شخص یا مددگار شہری 112 پر کال کرکے قریبی نامزداسپتال کی تفصیلات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ایمبولینس کی سہولت بھی حاصل کرسکتا ہے۔
پی ایم راحت اسکیم کے نفاذ کی صورتحال سے متعلق ضمیمہ
ضمیمہ-اول
|
نمبر شمار
|
ریاست؍ مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
منظور شدہ معاملے
|
مقررہ مدت کے اندر پولیس کی جانب سے کوئی جواب موصول نہ ہونے کے بعد اسکیم سے خارج کیے گئے معاملے
|
جان لیوا معاملے، جنہیں ریاستی پولیس نے اسکیم کے تحت اہل نہیں پایا*
|
مجموعی تعداد
|
|
1
|
گجرات
|
6,416
|
474
|
146
|
7,036
|
|
2
|
مدھیہ پردیش
|
6,275
|
336
|
150
|
6,761
|
|
3
|
آسام
|
968
|
1,089
|
34
|
2,091
|
|
4
|
اتر پردیش
|
679
|
168
|
40
|
887
|
|
5
|
جموں و کشمیر
|
680
|
57
|
12
|
749
|
|
6
|
آندھرا پردیش
|
391
|
244
|
42
|
677
|
|
7
|
چھتیس گڑھ
|
371
|
257
|
16
|
644
|
|
8
|
ہریانہ
|
431
|
44
|
17
|
492
|
|
9
|
اوڈیشہ
|
380
|
58
|
32
|
470
|
|
10
|
ہماچل پردیش
|
355
|
7
|
13
|
375
|
|
11
|
تریپورہ
|
267
|
77
|
31
|
375
|
|
12
|
پڈوچیری
|
223
|
107
|
4
|
334
|
|
13
|
کرناٹک
|
154
|
136
|
37
|
327
|
|
14
|
راجستھان
|
211
|
91
|
9
|
311
|
|
15
|
مہاراشٹر
|
49
|
197
|
54
|
300
|
|
16
|
تمل ناڈو
|
46
|
98
|
6
|
150
|
|
17
|
کیرالہ
|
31
|
106
|
1
|
138
|
|
18
|
بہار
|
84
|
5
|
9
|
98
|
|
19
|
میگھالیہ
|
76
|
19
|
|
95
|
|
20
|
پنجاب
|
5
|
21
|
1
|
27
|
|
21
|
چنڈی گڑھ
|
15
|
5
|
|
20
|
|
22
|
دادر اور نگر حویلی اور دامن اور دیو
|
|
18
|
|
18
|
|
23
|
جھارکھنڈ
|
13
|
4
|
|
17
|
|
24
|
اتراکھنڈ
|
7
|
9
|
|
16
|
|
25
|
دہلی
|
|
15
|
|
15
|
|
26
|
سکم
|
11
|
4
|
|
15
|
|
27
|
لداخ
|
6
|
8
|
|
14
|
|
28
|
تلنگانہ
|
2
|
7
|
3
|
12
|
|
29
|
مغربی بنگال
|
1
|
4
|
1
|
6
|
|
30
|
اروناچل پردیش
|
|
4
|
|
4
|
|
31
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
|
3
|
|
3
|
|
32
|
گوا
|
1
|
1
|
|
2
|
|
33
|
منی پور
|
1
|
|
|
1
|
|
34
|
میزورم
|
|
1
|
|
1
|
|
|
کل
|
18,149
|
3,674
|
658
|
22,481
|
*نوٹ: جن معاملات کو اسپتال انتظامیہ کی جانب سے جان لیوا قرار دیا گیا ہے، وہ اسکیم کے تحت علاج کے اہل رہیں گے، جب تک کہ ای-ڈی اے آر پر پولیس کی جانب سے معاملہ مسترد نہ کر دیا جائے یا 48 گھنٹے مکمل نہ ہو جائیں، ان دونوں میں سے جو بھی پہلے ہو۔
یہ معلومات سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر جناب نتن گڈکری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
ش ح۔م ع ن۔ ش ب ن
U- 2107
(ریلیز آئی ڈی: 2299497)
وزیٹر کاؤنٹر : 12