سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
حکومت نے بزرگ شہریوں کے لیے فلاح و بہبود، دیکھ بھال اور سماجی تحفظ کے اقدامات کو مزید مضبوط بنا دیا
اے وی وائی اے وائی اسکیم، صحت کی دیکھ بھال اور سماجی تحفظ کے اقدامات ہندوستان کی بڑھتی ہوئی بزرگ آبادی کے لیے امدادی نظام کو تقویت دے رہے ہیں
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 8:04PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت نے بزرگ شہریوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے اور ان کی فلاح و بہبود، دیکھ بھال، سماجی تحفظ اور پروقار زندگی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد جامع اقدامات کیے ہیں۔
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت جناب بی ایل ورما نے لوک سبھا میں جناب یدوویر وڈیار کو دیے گئے ایک تحریری جواب میں بتایا کہ ہندوستان میں بزرگوں کی آبادی 2011 کے 10 کروڑ سے بڑھ کر 2036 تک 23 کروڑ ہونے کا امکان ہے، اور کل آبادی میں ان کا تناسب 8.4 فیصد سے بڑھ کر 14.9 فیصد ہو جائے گا۔
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت ملک بھر میں بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے ایک چھتری (امبریلا) اسکیم کے طور پر اٹل وایو ابھودے یوجنا(اے وی وائی اے وائی) کو نافذ کر رہی ہے۔ یہ اسکیم سات اجزاء پر مشتمل ہے جن میں پناہ گاہ اور دیکھ بھال، ریاستی سطح کے اقدامات، شکایات کا ازالہ، معاون آلات، جدید حل، بزرگوں کی دیکھ بھال اور ان کی صحت مند و فعال زندگی کے لیے دیگر اقدامات شامل ہیں۔
گزشتہ تین برسوں کے دوران 24-2023 سے 26-2025 تک، اے وی وائی اے وائی کے تحت مجموعی طور پر 10,00,456 مستفیدین، این ایس اے پی کے تحت 2,21,30,687 مستفیدین اور این پی ایچ سی ای کے تحت 28,29,63,879 مستفیدین کا احاطہ کیا گیا۔
بزرگ شہریوں کے مربوط پروگرام (آئی پی ایس آر سی) کے تحت غیر سرکاری اور رضاکارانہ تنظیموں کو اولڈ ایج ہومز اور مسلسل دیکھ بھال کے مراکز چلانے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے گرانٹ ان ایڈ فراہم کی جاتی ہے، جہاں ضرورت مند اور نادار بزرگوں کو مفت رہائش، تغذیہ بخش خوراک، طبی سہولیات اور تفریح جیسی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ بزرگ شہریوں کے لیے ریاستی ایکشن پلان (ایس اے پی ایس آر سی) ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو آگاہی کی بیداری، حساسیت، موتیا بند کے آپریشنز اور دیگر ریاست کے مخصوص اقدامات کے لیے مالی و عملی تعاون فراہم کرتا ہے۔
حکومت نے بزرگ شہریوں کی قومی ہیلپ لائن ’ایلڈر لائن‘ کے ذریعے ان کی شکایات کے ازالے اور امدادی خدمات کو بھی مزید فعال اور مضبوط بنایا ہے۔ یکم اکتوبر 2021 کو شروع کی گئی یہ ٹول فری ہیلپ لائن 14567 بزرگ شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرتی ہے اور انہیں مرکزی و ریاستی حکومتوں کے متعلقہ قوانین، اسکیموں اور پروگراموں کے بارے میں آگاہی فراہم کرتی ہے۔
راشٹریہ وایوشری یوجنا(آر وی وائی) کے تحت، 15,000 روپے ماہانہ سے کم آمدنی والے ان بزرگ شہریوں کو معاون آلات اور جسمانی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جو عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے کسی معذوری یا کمزوری کا شکار ہیں تاکہ ان کے جسمانی افعال کو معمول کے مطابق لایا جا سکے۔ یکم اپریل 2017 کو شروع کی گئی یہ اسکیم سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت کے تحت قائم ایک مرکزی عوامی شعبے کے ادارے آرٹیفیشل لمبس مینوفیکچرنگ کارپوریشن آف انڈیا(اے ایل آئی ایم سی او) کے ذریعے نافذ کی جا رہی ہے۔

سینیئر کیئر ایجنگ گروتھ انجن(ایس اے جی ای) کا جزو ان جدید حلوں کو فروغ دیتا ہے جو بزرگوں کو عام طور پر درپیش آنے والے مسائل کو حل کرتے ہیں۔ اس کے تحت اختراعی اسٹارٹ اپس کی نشاندہی کی جاتی ہے اور انہیں بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے پروڈکٹس، طریقہ کار اور خدمات فراہم کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، جس میں حکومت کی طرف سے منتخب فرموں کے حصص میں سرمائے کی شراکت ان کی کل ایکویٹی کے 49 فیصد سے زیادہ نہیں ہوتی۔
بزرگوں کی پیشہ ورانہ دیکھ بھال کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے، حکومت ٹریننگ آف جیریئٹرک کیئر گیورز (بزرگوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کی تربیت) نامی جزو پر بھی عمل درآمد کر رہی ہے۔ اس کا مقصد تربیت یافتہ کیئر گیورز کی رسد اور مانگ کے درمیان فرق کو ختم کرنا اور بزرگوں کی نگہداشت کے شعبے میں ایک پیشہ ورانہ کیڈر تیار کرنا ہے۔
صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت کے اقدامات کے ذریعے بزرگ شہریوں کے لیے طبی امدادی نظام کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔ آیوُشمان بھارت - پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (اے بی- پی ایم جے اے وائی) کے تحت 70 سال اور اس سے زائد عمر کے تمام بزرگ شہریوں کو ان کی سماجی و معاشی حالت سے قطع نظر، 5 لاکھ روپے تک کا ہیلتھ انشورنس کا احاطہ فراہم کیا جاتا ہے۔
نیشنل پروگرام فار ہیلتھ کیئر آف دی ایلڈرلی(این پی ایچ سی ای) کمیونٹی پر مبنی پرائمری ہیلتھ کیئر کے طریقہ کار، پرائمری اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کی سطح پر مخصوص خدمات، ضلع اسپتالوں میں مخصوص سہولیات، علاقائی جیریئٹرک سینٹرز کو مضبوط بنانے اور معلومات و تعلیم سے متعلق اقدامات کے ذریعے بزرگ شہریوں کی صحت اور بہبود پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ پروگرام بزرگوں کی دیکھ بھال کے شعبے میں مسلسل نگرانی، آزادانہ اندازے اور تحقیق کی سہولت بھی فراہم کرتا ہے۔ راشٹریہ وریشٹھ جن سواستھیہ یوجنا کے ثانوی و ثالثی جزو کے نتیجے میں 17 علاقائی جیریئٹرک سینٹرز اور دو قومی سنٹرز آف ایجنگ قائم کیے گئے ہیں۔
دیہی ترقی کی وزارت کی طرف سے نافذ کردہ نیشنل سوشل اسسٹنس پروگرام(این ایس اے پی) کے ذریعے بھی سماجی تحفظ کی فراہم کی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت، مستحق بزرگ شہریوں کو 60 سے 79 سال کی عمر کے لیے 200 روپے ماہانہ اور 80 سال یا اس سے زیادہ عمر کے بزرگوں کے لیے 500 روپے ماہانہ کا مرکزی پنشن کا حصہ ملتا ہے، جبکہ ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے اس میں مزید اضافی رقم شامل کرتے ہیں۔
حکومت اے وی وائی اے وائی کے نفاذ اور نتائج کا جائزہ لینے کے لیے وقفے وقفے سے اس کا جائزہ لیتی ہے۔ بزرگ شہریوں کو درپیش نئے ابھرتے ہوئے مسائل اور چیلنجوں کو سمجھنے کے لیے متعلقہ فریقین کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی نئے مالیاتی دور میں اسکیم کو جاری رکھنے سے پہلے تھرڈ پارٹی جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ ان جائزوں کے نتائج اور سفارشات کو اسکیم پر عمل درآمد کی نظر ثانی کرنے اور نئی ضروریات کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہےتاکہ بزرگ شہریوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے جا سکیں۔
حکومت کا یہ کثیر جہتی طریقہ کار سماجی دیکھ بھال، طبی سہولیات،پنشن کی فراہمی، شکایات کے ازالے، معاون آلات، بزرگوں کی نگہداشت اور اختراعات کو یکجا کرتا ہے تاکہ ملک کی بزرگ آبادی کی بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور ان کے لیے ایک پروقار، محفوظ اور خوشحال زندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
***
ش ح۔ س ک –ش ہ ب
U-2078
(रिलीज़ आईडी: 2299328)
आगंतुक पटल : 6