سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
پارلیمانی سوال :انسپائر پروگرام
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 3:46PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)اور وزیر مملکت وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، محکمۂ جوہری توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے ’’سائنس میں جدت طرازی اور ترغیب یافتہ تحقیق‘‘ (انسپائر) پروگرام نے تعلیمی اور تحقیقی مراحل کے مختلف مدارج پر سائنسی صلاحیتوں کو منظم انداز میں پروان چڑھایا ہے۔ یہ پروگرام چار اہم اجزا کے ذریعے طلبہ اور نوجوان محققین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔انسپائر مانک (ملین مائنڈز آگمینٹنگ نیشنل ایسپریشن اینڈ نالج)کے تحت 10 سے 17 سال کی عمر کے طلبہ یعنی جماعت ششم سے بارہویں تک کے طلبہ میں اختراعی صلاحیت اور سائنسی تخلیقی فکر کو فروغ دیا جاتا ہے۔ اس کے تحت طلبہ کو اپنے اصل خیالات اور اختراعات پیش کرنے اور انہیں عملی شکل دینے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
اعلیٰ تعلیم کے لیے انسپائر اسکالرشپ کے تحت 17 سے 22 سال کی عمر کے ہونہار طلبہ کو قدرتی اور بنیادی علوم میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے تحت ہر سال 12,000 اسکالرشپ دی جاتی ہیں۔ جن میں سے ہر اسکالرشپ کی مالیت سالانہ 80,000 روپے ہے۔
انسپائر فیلوشپ کے ذریعے غیر معمولی صلاحیت کے حامل گریجویٹس اور انسپائر اسکالرز کو کل وقتی پی ایچ ڈی پروگراموں کے ذریعے تحقیق جاری رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس کے تحت زیادہ سے زیادہ پانچ سال تک مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ جس میں جونیئر ریسرچ فیلو(جے آر ایف)کے طور پر ماہانہ 37,000 روپے، سینئر ریسرچ فیلو(ایس آر ایف)کے طور پر ماہانہ 42,000 روپے، قابلِ اطلاق مکان کرایہ الاؤنس اور سالانہ 20,000 روپے کی ہنگامی تحقیقی گرانٹ شامل ہے۔انسپائر فیکلٹی فیلوشپ کے تحت عموماً 27 سے 32 سال کی عمر کے ممتاز پوسٹ ڈاکٹریٹ محققین کو پانچ سالہ فیلوشپ کے ذریعے معاونت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ محفوظ زمروں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے مقررہ عمر میں قابلِ اطلاق رعایت بھی دی جاتی ہے۔ فیلوشپ حاصل کرنے والوں کو ماہانہ 1,25,000 روپے، سالانہ 2,000 روپے کا اضافہ اور فیلوشپ کی مدت کے دوران 35 لاکھ روپے کی تحقیقی گرانٹ فراہم کی جاتی ہے۔
حکومت سائنس کے شعبے میں ہونہار طلبہ کو اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کی جانب راغب کرنے کے لیے ’’سائنس میں جدت طرازی اور ترغیب یافتہ تحقیق‘‘ (انسپائر)پروگرام کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران انسپائر پروگرام کے مختلف اجزا کے تحت انجام دی جانے والی سرگرمیوں، بشمول ہر جزو کے تحت معاونت حاصل کرنے والے طلبہ اور نوجوان محققین کی تعداد، کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں۔
|
پروگرام/مالی سال
|
22-2021
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
انسپائر مانک
|
52720
|
43381
|
46926
|
50009
|
49805
|
|
انسپائر - شی
|
18039
|
19771
|
18236
|
20354
|
24276
|
|
انسپائر فیلوشپ
|
2768
|
2872
|
2811
|
2448
|
3364
|
|
انسپائر فیکلٹی فیلوشپ
|
474
|
338
|
299
|
225
|
477
|
ملک کی نوجوان نسل میں اختراعی تحقیق کو فروغ دینے کے مقصد سے ان اجزا کے اثرات کی مسلسل نگرانی اور تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی مؤثر اور حکمتِ عملی پر مبنی منصوبہ بندی کو یقینی بنایا جا سکے۔
حکومت نے انسپائر پروگرام کی رسائی اور شمولیت کو نمایاں طور پر وسعت دینے کے لیے متعدد ہدفی اقدامات کیے ہیں۔ جن میں ملک کے دیہی، دور دراز اور ترقیاتی اعتبار سے اہم اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ ان اقدامات میں ریاستی محکمۂ تعلیم، ضلعی تعلیمی افسران، اسکولوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کی وسیع پیمانے پر تشہیر، نامزدگیوں کے معیار اور دائرۂ کار کو بہتر بنانے کے لیے بیداری مہمات، تعارفی پروگرام، آن لائن اجلاس اور اساتذہ و اسکول انتظامیہ کے لیے استعداد سازی کی ورکشاپس کا انعقاد، نیز اسکولی طلبہ میں اختراعی خیالات کی شناخت، حوصلہ افزائی اور پرورش کے لیے ضلعی، ریاستی اور قومی سطح کی نمائشوں اور منصوبہ جاتی مقابلوں کا انعقاد شامل ہے۔اختراعی ماحول کو مزید مضبوط بنانے کے لیے آئی آئی ٹی، این آئی ٹی، آئی آئی ایس ای آر اور دیگر ممتاز سائنسی اداروں کے اشتراک سے رہنمائی کے پروگرام بھی منعقد کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے منتخب طلبہ کو نمونۂ اوّل کی تیاری، اختراع اور سائنسی تحقیق کے حوالے سے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔ ان مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ملک کے مختلف خطوں اور معاشرے کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی انسپائر پروگرام میں جامع شرکت ممکن ہوئی ہے۔
دیہی اور دور دراز اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی ایک بڑی تعداد اختراعی گرانٹس، رہنمائی اور قومی سطح کے پلیٹ فارمز پر اپنی سائنسی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع سے مستفید ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر، ان اقدامات نے سائنسی مزاج اور تحقیق و جستجو کی ثقافت کو مضبوط کیا ہے، نچلی سطح پر اختراعات کو فروغ دیا ہے، سائنس کی تعلیم، وظائف اور تحقیقی فیلوشپس تک مساوی رسائی کو وسعت دی ہے اور ملک کے بیشتر خطوں سے نوجوان سائنسی صلاحیتوں کی تیاری کے دائرۂ کار کو مزید وسیع کیا ہے۔
***
ش ح ۔م ح ۔ع ن
U. No. 2079
(रिलीज़ आईडी: 2299310)
आगंतुक पटल : 6