ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: عالمی موسمیاتی کارروائی میں اہم سنگِ میل حاصل

प्रविष्टि तिथि: 13 AUG 2026 8:11PM by PIB Delhi

ہندوستان کی قومی سطح پر متعین شراکت (این ڈی سی) میں تین مقداری اہداف شامل ہیں۔ ان میں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی اخراجی شدت میں کمی، نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی کے ذرائع کا حصہ بڑھانا اور اضافی کاربن سنک پیدا کرنا شامل ہے۔

ہندوستان نے 2005 کی سطح کے مقابلے میں 2022 میں اپنی جی ڈی پی کی اخراجی شدت میں 37.38 فیصد کمی حاصل کرلی ہے، جبکہ این ڈی سی کے تحت 2030 تک اخراجی شدت میں 45 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی کے ذرائع سے مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا حصہ جون 2025 میں 50 فیصد سے تجاوز کرگیا، جس کے ساتھ ہی ہندوستان نے مقررہ مدت سے پانچ سال پہلے ہی این ڈی سی کا یہ ہدف حاصل کرلیا۔ 30 جون 2026 تک ملک کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی کے ذرائع کا حصہ 54.18 فیصد ہوگیا ہے۔

ہندوستان نے 2005 سے 2022 کے دوران اضافی 2.44 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO) کے مساوی کاربن سنک بھی قائم کیا ہے۔ این ڈی سی کے تحت 2030 تک اضافی جنگلات اور درختوں کے احاطے کے ذریعے 2.5 سے 3.0 ارب ٹن CO کے مساوی اضافی کاربن سنک قائم کرنے کا ہدف مقرر ہے۔

اپریل 2026 میں اقوام متحدہ کے موسمی تبدیلی پر فریم ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) میں پیش کی گئی ہندوستان کی پہلی دو سالہ شفافیت رپورٹ کے مطابق اقتصادی ترقی اور جی ڈی پی سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو الگ کرنے میں قابل تجدید توانائی کے فروغ اور تمام اقتصادی سرگرمیوں میں توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے والی پالیسیوں کا اہم کردار رہا ہے۔

غیر فوسل ایندھن پر مبنی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت سے متعلق این ڈی سی کا ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کرنے میں قابل تجدید توانائی کی پیداوار اور اسے قومی بجلی کے گرڈ میں شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے والی متعدد پالیسیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کاربن سنک میں اضافہ جنگلات کے تحفظ اور بحالی کو مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے دی جانے والی ترجیح کے باعث ممکن ہوا ہے۔ اس کے لیے جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، سبز احاطے میں اضافے اور تحفظ کی سرگرمیوں میں عوام کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے مختلف پالیسیاں، قوانین، ضوابط، پروگرام اور اسکیمیں نافذ کی گئی ہیں، جبکہ جنگلات پر انحصار کرنے والی برادریوں کے حقوق کا بھی تحفظ کیا جارہا ہے۔

2035 کے لیے این ڈی سی کے اہداف میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ نئے مقداری اہداف کے تحت 2005 کی سطح کے مقابلے میں جی ڈی پی کی اخراجی شدت میں 47 فیصد کمی، غیر فوسل ایندھن پر مبنی توانائی کے ذرائع سے مجموعی نصب شدہ بجلی کی صلاحیت کا حصہ 60 فیصد تک پہنچانا اور 2005 کو بنیادی سال مانتے ہوئے جنگلات اور درختوں کے احاطے کے ذریعے 3.5 سے 4.0 ارب ٹن CO کے مساوی کاربن سنک قائم کرنا شامل ہے۔

این ڈی سی میں پانچ معیاری اہداف بھی شامل ہیں، جن کا مقصد پائیدار طرز زندگی کو فروغ دینا، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانا اور وکست بھارت @2047 کے ہدف سے ہم آہنگ ماحول دوست اور صاف ستھرے ترقیاتی راستے کو اپنانا ہے۔

ہندوستان کی اہم موسمیاتی ذمہ داریوں پر عمل درآمد میں پیش رفت کو متعدد معروف بین الاقوامی اداروں نے بھی وسیع پیمانے پر تسلیم کیا ہے، جن میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او)، یو این ایف سی سی سی، اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)، اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی)، عالمی بینک اور بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (آئی آر ای این اے) شامل ہیں۔

یہ معلومات ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے وزیر مملکت کیرتی وردھن سنگھ نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

 

 

************

 

ش ح ۔   م    د۔  م  ص

(U : 2064 )


(रिलीज़ आईडी: 2299252) आगंतुक पटल : 6
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी