سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
این ایم بی اے کے تحت ملک بھر میں 30.52 کروڑ سے زائد افراد تک رسائی، 11.87 کروڑ سے زیادہ نوجوان اور 8.45 کروڑ خواتین بیدار
مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر میں منشیات کی مانگ میں کمی اور بحالی کی خدمات کو مضبوط کیا
جموں و کشمیر میں ’نشہ مکت بھارت ابھیان‘ کے تحت 1.20 کروڑ سے زائد افراد کو بیدار کیا گیا
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 8:00PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت نے نیشنل ایکشن پلان فار ڈرگ ڈیمانڈ ریڈکشن (این اے پی ڈی ڈی آر) منشیات کی مانگ میں کمی کے منصوبے کے تحت جموں و کشمیر میں منشیات کے استعمال کی روک تھام، علاج اور بحالی کی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ یہ اطلاع سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت کی جانب سے راجیہ سبھا میں دی گئی۔
وزارت سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی جانب سے 2018 میں ایمس کے نیشنل ڈرگ ڈیپینڈنس ٹریٹمنٹ سینٹر یعنی منشیات کی لت کے علاج کے قومی مرکز (این ڈی ڈی ٹی سی) کے ذریعے کرائے گئے ہندوستان میں منشیات کے استعمال کی نوعیت اور پھیلاؤ سے متعلق قومی سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں اوپیئڈز کے استعمال کی شرح 4.91 فیصد تھی اور 10 سے 75 سال کی عمر کے تقریباً 5.40 لاکھ افراد اس سے متاثر تھے۔
سروے کے مطابق شراب کے استعمال کی شرح 3.50 فیصد تھی، جس کے تقریباً 3.90 لاکھ صارفین تھے۔ اس کے بعد سکون آور ادویات کا استعمال 1.54 فیصد، تقریباً 1.70 لاکھ افراد؛ بھنگ کا استعمال 1.31 فیصد، تقریباً 1.40 لاکھ افراد؛ اور انہیلنٹس کا استعمال 1.22 فیصد، تقریباً 1.35 لاکھ افراد میں پایا گیا۔
راجیہ سبھا میں سجاد احمد کچلو کے تحریری سوال کے جواب میں سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کے وزیر مملکت بی ایل ورما نے بتایا کہ حکومت جموں و کشمیر میں علاج اور بحالی کی سہولیات کے ایک نیٹ ورک کی مدد کررہی ہے۔ اس میں نشے کے عادی افراد کے لیے ایک انٹیگریٹڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹر (آئی آر سی اے)، تین آؤٹ ریچ اینڈ ڈراپ اِن سینٹرز (او ڈی آئی سیز)، دو کمیونٹی بیسڈ پیئر لیڈ انٹروینشن (سی پی ایل آئی) پروگرام، چھ ڈسٹرکٹ ڈی ایڈکشن سینٹرز (ڈی ڈی اے سیز) اور 21 ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسلٹیز (اے ٹی ایف) شامل ہیں۔
جموں و کشمیر میں وزارت کے تعاون سے چلنے والے مراکز میں منشیات کی لت کا علاج کرانے والے افراد کی تعداد 2021-22 میں 5,382 سے بڑھ کر 2025-26 میں 46,491 ہوگئی۔ یہ تعداد 2022-23 میں 27,843، 2023-24 میں 36,588 اور 2024-25 میں 40,546 رہی۔
این اے پی ڈی ڈی آر کے تحت وزارت ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو انسدادی تعلیم، بیداری پیدا کرنے، صلاحیت سازی اور منشیات کی طلب میں کمی سے متعلق پروگراموں کے لیے مالی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں اور رضاکار تنظیموں کو آئی آر سی اے، سی پی ایل آئی، او ڈی آئی سی اور ڈی ڈی اے سی مراکز کے قیام اور انتظام کے لیے بھی مالی معاونت دی جاتی ہے، جبکہ سرکاری اسپتالوں کو ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسلٹیز قائم کرنے کے لیے مدد فراہم کی جاتی ہے۔

ملک بھر میں این اے پی ڈی ڈی آر کے تحت چلنے والی سرگرمیوں میں 344 انٹیگریٹڈ ری ہیبلیٹیشن سینٹرز فار ایڈکٹس (آئی آر سی اے)، 45 کمیونٹی بیسڈ پیئر لیڈ انٹروینشن (سی پی ایل آئی) پروگرام، 76 آؤٹ ریچ اینڈ ڈراپ اِن سینٹرز (او ڈی آئی سیز)، 155 ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسلٹیز (اے ٹی ایف) اور 145 ڈسٹرکٹ ڈی ایڈکشن سینٹرز (ڈی ڈی اے سیز) شامل ہیں۔ آئی آر سی اے میں داخل کرکے علاج کے ساتھ مشاورت، جسم سے منشیات کے اثرات ختم کرنے کا عمل، نشے سے نجات، بعد از علاج نگہداشت اور سماج کے مرکزی دھارے میں دوبارہ شمولیت کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ سی پی ایل آئی پروگراموں میں 18 سال سے کم عمر بچوں پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ او ڈی آئی سیز میں ابتدائی جانچ، تشخیص، مشاورت اور علاج و بحالی کی خدمات کے لیے متعلقہ مراکز سے رابطہ اور رجوع کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
وزارت کی جانب سے ٹول فری نشہ چھڑانے کی ہیلپ لائن 14446 بھی چلائی جارہی ہے، جہاں مدد کے خواہاں افراد کو ابتدائی مشاورت اور فوری طور پر متعلقہ خدمات سے جوڑنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اب تک اس ہیلپ لائن پر 4.6 لاکھ سے زیادہ کالز موصول ہوچکی ہیں، جن میں جموں و کشمیر سے موصول ہونے والی 11 ہزار سے زائد کالز بھی شامل ہیں۔
نشہ سے پاک ہندوستان مہم (این ایم بی اے) 15 اگست 2020 کو ملک کے 272 نشان زدہ حساس اضلاع میں شروع کی گئی تھی، جسے اگست 2023 سے ملک کے تمام اضلاع تک توسیع دے دی گئی ہے۔ اس مہم کا مقصد منشیات کے استعمال کے حوالے سے بیداری پھیلانا ہے، خاص طور پر اعلیٰ تعلیمی اداروں، یونیورسٹی کیمپس اور اسکولوں میں۔
ریاستوں کے تعاون سے این ایم بی اے کے تحت اب تک ملک بھر میں 30.52 کروڑ سے زائد افراد تک رسائی حاصل کرکے انہیں منشیات کے مضر اثرات کے بارے میں بیدار کیا جاچکا ہے، جن میں 11.87 کروڑ سے زائد نوجوان اور 8.45 کروڑ خواتین شامل ہیں۔ تعلیمی اداروں میں 28.61 لاکھ سے زائد سرگرمیاں منعقد کی گئی ہیں، جبکہ ملک بھر میں 28.29 لاکھ سے زائد افراد کا علاج اور بحالی کی جاچکی ہے۔
جموں و کشمیر میں بھی اس مہم کے تحت بڑے پیمانے پر بیداری اور رسائی کی سرگرمیوں کے ذریعے 1.20 کروڑ سے زائد افراد کو بیدار کیا گیا ہے، جن میں 69.14 لاکھ سے زائد نوجوان اور 51.20 لاکھ خواتین شامل ہیں۔ مرکز کے زیر انتظام علاقے میں مجموعی طور پر 8,565 نشہ مکت متروں نے بھی اس مہم میں شمولیت اختیار کی ہے۔
************
ش ح ۔ م د۔ م ص
(U : 2062 )
(रिलीज़ आईडी: 2299244)
आगंतुक पटल : 3