PIB Backgrounder
ایم ایم ڈی آر ترمیمی بل، 2026
معدنیات پر ٹیکس عائد کرنے کے نظام میں یقینی اور یکسانیت
प्रविष्टि तिथि:
13 AUG 2026 3:54PM by PIB Delhi
معدنیات کے ضوابط: ایک جائزہ
معدنیات اہم قدرتی وسائل ہیں اور ان کی جغرافیائی و سیاسی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ یہ بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل نظام، مینوفیکچرنگ، توانائی کے تحفظ اور قومی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مختلف علاقوں میں معدنی وسائل کی متوازن اور پائیدار ترقی عوامی مفاد اور طویل مدتی خوشحالی کو آگے بڑھانے کی ایک اہم بنیاد ہے۔
بھارت میں کان کنی کا انتظام مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 1957 کے تحت کیا جاتا ہے۔ وسیع تر عوامی مفاد میں اس ایکٹ کی دفعہ 2 کے تحت کانوں کے ضابطے اور معدنیات کی ترقی کا اختیار مرکز کے پاس ہے۔ مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026 کے ذریعے اس ایکٹ میں ایسی تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں جن کا مقصد ملک بھر میں معدنی شعبے کے لیے ایک یکساں اور متوازن مالیاتی نظام قائم کرنا ہے۔ یہ بل ریاستی حکومتوں کو مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرائط یا پابندیوں کے بغیر معدنی حقوق اور معدنیات والی زمینوں پر کوئی نیا ٹیکس عائد کرنے سے روکتا ہے۔ یہ بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہو چکا ہے۔
ترمیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ایم ایم ڈی آر ترمیمی بل، 2026 کان کنی کے شعبے میں ٹیکس اور دیگر محصولات کے موجودہ نظام سے پیدا ہونے والے درج ذیل مسائل سے نمٹتا ہے:
- کان کنی کے شعبے پر ٹیکس کا بھاری بوجھ۔
- کان کنی کا کام شروع ہونے کے بعد بھی ٹیکس، سیس اور دیگر محصولات کا غیر متوقع طور پر عائد کیا جانا۔
- معدنیات کی پیداوار یا ترسیل پر متعدد ٹیکس، سیس اور دیگر محصولات کا عائد ہونا۔
- مختلف ریاستوں میں ٹیکس اور دیگر محصولات کی شرحوں میں یکسانیت کا فقدان۔
- ٹیکس، سیس یا دیگر محصولات کا سابقہ تاریخ سے مؤثر ہونا۔
ان چیلنجز نے کان کنی کے شعبے کے ساتھ ساتھ عوامی مفاد کے لیے بھی متعدد مسائل پیدا کیے:
- حد سے زیادہ مالیاتی بوجھ نے کان کنی کو تجارتی اعتبار سے غیرموزوں بنا دیا، معدنیات کے استخراج کی حوصلہ شکنی کی اور بعض معاملات میں کانوں کو بند کردیا گیا۔
- اضافی اور غیر متوقع اخراجات نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کان کنی کے کاروبار کو نسبتاً زیادہ متاثر کیا۔
- زیادہ اور غیر یکساں محصولات نے صنعتوں کو مقامی سپلائی چین سے گریز کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹیں کمزور ہوئیں، نقل و حمل کے اخراجات بڑھے اور آلودگی میں اضافہ ہوا۔
- ملکی سطح پر معدنیات کی مہنگی فراہمی نے معدنیات کی درآمد میں اضافے کا خطرہ بھی پیدا کیا، حالانکہ ملک میں معدنی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔
- متعدد اور غیر یکساں ٹیکسوں کے باعث ٹیکس پر ٹیکس لگنے کی صورتِ حال پیدا ہوئی اور تعمیل کے اخراجات بڑھ گئے، جس سے اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہوئی۔
- معدنیات کے استخراج کے مرحلے پر حد سے زیادہ ٹیکس کا بوجھ بالآخر اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے، جس سے عام شہری کے لیے زندگی کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔
- ٹیکسوں کے سابقہ تاریخ سے نفاذ کے سبب قانونی اعتبار سے غیریقینی کی صورتحال پیدا ہوئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچا۔
|
معدنیات کے استخراج پر عائد ہونے والا کوئی بھی مالیاتی بوجھ ملک بھر میں یکساں اور متوازن نظام کے مطابق ہونا چاہیے۔ محصولات کبھی بھی کان کنی کی اقتصادی اہمیت یا منافع بخش ہونے کی صلاحیت سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ قدرتی وسائل کے امین کی حیثیت سے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی مفاد کا تحفظ کرے۔ اسے یہ یقینی بنانا چاہیے کہ پورے بھارت میں معدنی وسائل کی ترقی ہم آہنگ انداز میں ہو، نہ کہ وسائل کی بنیاد پر ترقی کے غیر مساوی اور محدود علاقائی مراکز وجود میں آئیں۔
|
بل کی اہم دفعات
اس بل کے ذریعے ایم ایم ڈی آر ایکٹ، 1957 میں مخصوص اور اہم ترامیم کی گئی ہیں۔ اس کی اہم دفعات درج ذیل ہیں:
1. معدنیات والی زمینوں پر مرکزی حکومت کا اختیار:اب مرکزی حکومت معدنی مواد رکھنے والی معدنیاتی زمینوں کو بھی منظم کرے گی۔ ایسی زمینوں کی شناخت ایم ایم ڈی آر ایکٹ کے تحت مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ معیارات کے مطابق کی جائے گی۔ یہ موجودہ شق کے علاوہ ہے، جس کے تحت کانوں کے ضابطے اور معدنیات کی ترقی پر مرکزی حکومت کا اختیار تسلیم کیا گیا ہے۔
2. نئی دفعہ 9ڈی — ریاستی محصولات پر پابندیاں:کوئی بھی ریاستی حکومت معدنی حقوق یا معدنیات والی زمینوں پر کسی بھی نام سے کوئی ٹیکس، سیس یا دیگر محصول عائد نہیں کرے گی۔ اس میں معدنیات کی مقدار، معدنیات کی قدر، رائلٹی یا کسی بھی دوسری بنیاد پر عائد کیے جانے والے محصولات شامل ہیں۔ ایسے محصولات صرف مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ شرائط یا پابندیوں کے مطابق ہی عائد کیے جا سکیں گے۔
3. سابقہ محصولات کا معاملہ:ترمیم کے نافذ ہونے سے قبل ریاست کی جانب سے عائد کیا گیا ایسا کوئی محصول جو ادا یا وصول نہیں کیا گیا، ناقابلِ اعتبار تصور کیا جائے گا۔ تاہم، اس ترمیم کے نفاذ سے قبل جو رقوم جمع یا وصول کی جا چکی ہیں، انہیں واپس کرنے کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔
4. دفعہ 13 کے تحت قواعد بنانے کا اختیار:ایم ایم ڈی آر ایکٹ کی دفعہ 13 میں ترمیم کرکے مرکزی حکومت کو قواعد وضع کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ان قواعد میں ریاستی حکومتوں کی جانب سے ایسے محصولات عائد کرنے کے لیے شرائط یا پابندیاں مقرر کی جائیں گی۔
بل کے اثرات
اس بل کا مقصد معدنی شعبے کے مالیاتی نظام میں یقینی، استحکام اور پیش بینی کو یقینی بنانا ہے۔ توقع ہے کہ اس سے قومی اقتصادی ترقی کو مزید فروغ ملے گا۔
۔
|
پہلے
|
بعد
|
|
معدنیات کی حامل زمینیں یونین کی ریگولیٹری دسترس سے باہر تھیں۔
|
معدنیات کی حامل زمینوں کو یونین ریگولیشن کے تحت لایا جاتا ہے۔
|
|
ہر ریاست میں کان کنی پر مختلف طریقے سے ٹیکس لگایا جاتا تھا۔
|
نئے سیکشن 9D کے تحت ایک واحد، مرکز سے ہدایت شدہ ٹیکس فریم ورک لاگو ہوگا۔
|
|
مائننگ آپریشن شروع ہونے کے بعد بھی نئے ٹیکس متتعارف کرائے جاسکتے ہیں۔
|
ریاستیں مرکزی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ شرائط کے علاوہ نئے محصولات نہیں لگا سکتیں۔
|
|
سابقہ ٹیکس کے مطالبات کسی بھی وقت اٹھائے جا سکتے ہیں۔
|
تمام زیر التواء سابقہ واجبات اب ناجائز قرار دیے گئے ہیں۔
|
|
سب سے زیادہ بوجھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کان کنوں پر پڑا۔
|
ہر کان کن اب ایک منصفانہ اور مساوی فریم ورک سے استفادہ کرتاہے۔
|
آگے کی سڑ
آگے کا راستہ
یہ بل بھارت کے معدنی وسائل کے انتظام و انصرام کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ایک مستحکم اور یکساں مالیاتی نظام کو یقینی بنا کر اس کا مقصد معدنی وسائل کی تلاش، اہم معدنیات کے تحفظ اور وسائل کی پائیدار ترقی کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ اقدامات بھارت کو وکست بھارت کی جانب آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
حوالے:
Parliament of India:
https://sansad.in/ls/legislation/bills
Office of Union Minister for Coal and Mines:
https://x.com/KishanReddyOfc/status/2086816534840905747/photo/1
Click here to see PDF
*****
ش ح۔ک ح - ف ر
U-no-2031
(रिलीज़ आईडी: 2299061)
आगंतुक पटल : 7