ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ہنر مندی کی ترقی کے پروگرام

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 3:40PM by PIB Delhi

حکومت ہند کے اسکیل انڈیا مشن کے تحت ہنری مندی کی ترقی اور کاروباری امور کی وزارت ملک بھر میں ریاست کیرالہ سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو مختلف اسکیموں، جیسےپردھان منتری کوشل وکاس یوجنا(پی ایم کے وی وائی)، ، جن شکشن سنستھان(جے ایس ایس)، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس)کے تحت ہنرمندی کے مراکز کے وسیع نیٹ ورک اور کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم کے تحت صنعتی تربیتی اداروں کے ذریعے ہنرمندی، ازسر نو ہنرمندی اور ہنرمندی میں اضافے کی تربیت فراہم کرتی ہے۔ اسکیل انڈیا مشن کا مقصد ہندوستان کے نوجوانوں کو صنعت سے متعلق ہنر سے آراستہ کرکے مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے۔ اسکیل انڈیا مشن کے تحت چند اہم اسکیمیں درج ذیل ہیں:

پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی):پی ایم کے وی وائی اسکیم کے تحت کیرالہ سمیت ملک بھر کے نوجوانوں کو مختصر مدتی تربیت (ایس ٹی ٹی) کے ذریعے ہنر مندی کی تربیت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ پہلے سے حاصل شدہ ہنر کی باضابطہ شناخت (آر پی ایل) کے ذریعے ہنر میں مزید اضافے اور ازسرِ نو ہنر مندی کی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔

جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس) اسکیم:اس اسکیم کا مقصد 15 سے 45 سال کی عمر کے ناخواندہ، نو خواندہ، ابتدائی سطح کی تعلیم رکھنے والے افراد اور 12ویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسکول چھوڑنے والے افراد کو پیشہ ورانہ ہنر فراہم کرنا ہے۔ ’ دیویانگ جن‘اور دیگر مستحق افراد کے معاملے میں عمر کی مقررہ حد میں مناسب رعایت دی جاتی ہے۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں خواتین، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔

نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس):اس اسکیم کا مقصدعملی تربیت کی تربیت کو فروغ دینا اور زیرِ تربیت فرد کو وظیفے کی ادائیگی کے لیے مالی معاونت فراہم کرکے اپرنٹس کی شمولیت میں اضافہ کرنا ہے۔ تربیت میں بنیادی تربیت کے ساتھ ساتھ صنعت میں کام کی جگہ پر ملازمت کے دوران تربیت / عملی تربیت شامل ہے۔

کاریگر تربیتی اسکیم (سی ٹی ایس):اس اسکیم کے تحت ملک بھر کے صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) کے ذریعے طویل مدتی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ آئی ٹی آئیز مختلف معاشی شعبوں کا احاطہ کرنے والے متعدد پیشہ ورانہ / ہنر مندی کے تربیتی کورسز پیش کرتے ہیں، جن کا مقصد صنعت کو ہنرمند افرادی قوت فراہم کرنا اور نوجوانوں کو خود روزگار کے قابل بنانا ہے۔

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے، سال وار اور اسکیم وار، وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی اہم ہنرمندی ترقی اسکیموں کے تحت 22-2021سے26-2025 کے دوران کیرالہ سمیت ملک بھر میں تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی تعداد کی تفصیلات ضمیمہ I تا IV میں فراہم کی گئی ہیں۔

ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت  اسکیموں میں تقرریوں کا ریکارڈ صرف پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے مختصر مدتی تربیتی جزو کے تحت اس کے پہلے تین مرحلوں (پی ایم کے وی وائی 1.0، پی ایم کے وی وائی 2.0 اور پی ایم کے وی وائی 3.0) میں رکھا گیا، جنہیں 16-2015سے 22-2021تک نافذ کیا گیا تھا۔ پی ایم کے وی وائی (1.0 تا 3.0) کے تحت کیرالہ میں 26,385 امیدواروں کے تقرر کی اطلاع دی گئی ہے۔ پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت توجہ اس بات پر ہے کہ تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کو ملازمت کے دوران تربیت (او جے ٹی) سمیت صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنرمندی کے کورسز کے ذریعے رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اپنی پسند کے مختلف پیشہ ورانہ راستوں کا انتخاب کرنے کے قابل بنایا جائے۔

حکومت ہنر مندی کے ہندوستان مشن کے تحت ہنر مندی کے اقدامات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتی ہے، جس میں اندراج، سرٹیفیکیشن، تقرری، خود روزگار کے نتائج اور آجروں کی رائے کا جائزہ لے کر یہ جانچا جاتا ہے کہ ان اقدامات سے روزگار کے قابل بنانے اور مستقبل کی ہنرمندی کو مضبوط بنانے میں کس حد تک مؤثریت حاصل ہوئی ہے۔ یہ جائزے نصاب میں مسلسل تازہ کاری، صنعت کے ساتھ تعاون اور عمل درآمد کے طریقہ کار میں بہتری میں معاون ثابت ہوتے ہیں، تاکہ ہنر مندی کے پروگرام بدلتے ہوئے تکنیکی رجحانات اور محنت کی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ رہیں۔ وسیع تر ہنر مندی کی ترقی کی اسکیموں کی مؤثریت کا جائزہ انتظامی معلوماتی نظام پر مبنی نگرانی، تیسرے فریق کے جائزوں اور استفادہ کنندگان کی آرا کے ذریعے بھی لیا جاتا ہے۔ ارون جیٹلی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فنانشل مینجمنٹ (اے جے این آئی ایف ایم) کی جانب سے 2025 میں ان اسکیموں کے آزادانہ اثرات کے جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ ان اہم ہنر مندی کے اقدامات نے رسمی تربیت اور سرٹیفیکیشن تک رسائی کو کامیابی کے ساتھ وسعت دی ہے، جبکہ استفادہ کنندگان کے ایک نمایاں حصے میں ہنر کے اعتماد، روزگار میں شرکت اور آمدنی کے نتائج میں قابلِ پیمائش بہتری بھی لائی ہے۔

اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فراہم کی جانے والی ہنرمندی صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو اور اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو، ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت نے ملک بھر میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ درج ذیل مخصوص اقدامات کیے ہیں:

  • قومی کونسل برائے پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (این سی وی ای ٹی) کو ایک اعلیٰ سطحی نگران ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے، جو تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے شعبے میں معیار کو یقینی بنانے کے لیے ضوابط اور معیارات وضع کرتی ہے۔ این سی وی ای ٹی صنعت سے متعلق اداروں کو تربیت کی اسناد جاری کرنے والے اداروں اور/یا تشخیصی اداروں کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
  • اسناد جاری کرنے والے اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صنعت کی طلب کے مطابق صلاحیت تیار کریں، انہیں قومی پیشہ ورانہ درجہ بندی، 2015 کے مطابق متعین پیشوں سے منسلک کریں اور صنعت سے ان کی توثیق حاصل کریں۔ این سی وی ای ٹی نے صنعت کی ضروریات کے مطابق 10,209 اہلیتوں کی منظوری دی ہے، جن میں سے 2,975 اہلیتیں فی الحال درست اور فعال ہیں، جبکہ 7,234 اہلیتیں محفوظ شدہ ریکارڈ میں منتقل کر دی گئی ہیں۔
  • ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) صنعتوں کے اشتراک سے فلیکسی مفاہمتی یادداشت اسکیم اور دوہری تربیتی نظام نافذ کر رہا ہے، تاکہ صنعتی تربیتی اداروں کے طلبہ کو حقیقی صنعتی ماحول میں تربیت فراہم کی جا سکے۔
  • ڈی جی ٹی نے آئی بی ایم، مائیکروسافٹ، آٹوڈیسک، اے ڈبلیو ایس، شیل وغیرہ جیسی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، تاکہ ریاستی اور علاقائی سطح پر اداروں کے لیے صنعت سے روابط کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ شراکت داریاں جدید ٹیکنالوجیز میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ ہنر کی تربیت فراہم کرنے میں معاون ہیں۔
  • پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے تحت نئے دور کی/مستقبل کی ہنرمندی سے متعلق ملازمت کے کرداروں کو آنے والی مارکیٹ کی طلب اور صنعت کی ضروریات کے پیش نظر مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ، روبوٹکس، میکاٹرونکس، ڈرون ٹیکنالوجی وغیرہ جیسے شعبوں میں صنعت 4.0 کی ضروریات کے ساتھ خصوصی طور پر ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
  • ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) نے کاریگر تربیتی اسکیم کے تحت نئے دور کی/مستقبل کی ہنرمندی کے کورسز متعارف کرائے ہیں، تاکہ 5 جی نیٹ ورک، مصنوعی ذہانت کی پروگرامنگ، سائبر سکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ آف تھنگز وغیرہ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تربیت فراہم کی جا سکے۔
  • وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری نے اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) کا آغاز کیا ہے، جو ہنرمندی، تعلیم، روزگار اور صنعت کاری کے نظام کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر مربوط کرتا ہے تاکہ زندگی بھر خدمات کی ایک وسیع رینج فراہم کی جا سکے۔ اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کے ذریعے امیدوار ہنرمندی کی تربیت، روزگار اور اپرنٹس شپ کے مواقع تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی تفصیلات ایس آئی ڈی ایچ پورٹل پر دستیاب ہیں، تاکہ انہیں ممکنہ آجروں سے جوڑا جا سکے۔
  • دو (02) ہندوستانی انسٹی ٹیوٹ آف اسکلز (آئی آئی ایس) احمد آباد اور ممبئی میں سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی) کے تحت قائم کیے گئے ہیں، جن کا مقصد صنعت کی ضروریات کے مطابق تیار افرادی قوت کو ابھرتے ہوئے معاشی مواقع سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
  • 36 سیکٹر اسکل کونسلز (ایس ایس سیز) قائم کی گئی ہیں، جن کی قیادت متعلقہ شعبوں کے صنعت کار رہنما کر رہے ہیں۔ ان کونسلز کو اپنے متعلقہ شعبوں میں ہنرمندی کی ترقی کی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور ہنرمندی کی اہلیت کے معیارات طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
  • وزارت کی جانب سے ملک بھر میں تصدیق شدہ امیدواروں کے لیے تقرری کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے کوشل مہوتسو اور پردھان منتری قومی اپرنٹس شپ میلے منعقد کیے گئے ہیں۔
  • قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 میں پیشہ ورانہ تعلیم کو مرکزی دھارے کی تعلیم کے ساتھ زیادہ مربوط کرنے اور تعلیمی و پیشہ ورانہ راستوں کے درمیان آسانی سے منتقلی کو فروغ دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اسی تصور کے تحت یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے تعاون سے تیار کردہ اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام (اے ای ڈی پی) ڈگری اور ڈپلومہ پروگراموں میں زیرتعلیم طلبہ کو اپنے نصاب کے لازمی حصے کے طور پر اپرنٹس شپ کی تربیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ پروگرام روزگار کے حصول کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، نتائج پر مبنی تعلیم کو فروغ دیتا ہے، صنعت اور تعلیمی اداروں کے روابط کو مضبوط بناتا ہے اور صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنر حاصل کرنے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
  • حکومت نے پی ایم-سیتو (پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائبیلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آئیز) کا آغاز کیا ہے۔ یہ 60,000 کروڑ روپے کی مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے، جس کے تحت ملک بھر کے 1,000 سرکاری صنعتی تربیتی اداروں کو ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت جدید بنایا جائے گا، جس میں 200 ہب آئی ٹی آئیز اور 800 اسپوک آئی ٹی آئیز شامل ہیں۔ صنعت کی قیادت میں چلنے والی اس پہل کے ذریعے سیکھنے والوں اور ابتدائی مرحلے کے کاروباری مالکان کو متعلقہ ہنر، حقیقی دنیا کا تجربہ اور جامع پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کرکے روزگار کے حصول کی صلاحیت میں اضافہ اور صنعت کاری کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ادارہ جاتی نظام اور اہم صنعتی روابط کو مضبوط بنا کر یہ تقرری  کےلیے بہترمعاونت فراہم کرتی ہے، جبکہ پہلی بار کاروبار شروع کرنے والے صنعت کاروں کو کامیابی کے ساتھ اپنے کاروباری منصوبے شروع کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے بااختیار بناتی ہے۔

ضمیمہ-I

پی ایم کے وی وائی اسکیم کے تحت 2021-22 سے 26-2025کے دوران ملک بھر میں تربیت یافتہ امیدواروں کی ریاست؍مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے سال وار تعداد:

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے

2021-22

2022-23

2023-24

2024-25

2025-26

انڈمان اور نکوبار جزائر

613

310

648

909

30

آندھرا پردیش

13,199

5,798

32,449

35,471

3,094

اروناچل پردیش

8,884

667

4,152

10,054

125

آسام

24,517

8,721

38,190

75,182

5,902

بہار

47,643

12,213

23,613

99,982

4,451

چنڈی گڑھ

893

491

319

628

148

چھتیس گڑھ

9,495

4,356

8,385

16,452

490

دہلی

19,965

2,262

10,686

12,277

2,769

گوا

604

176

183

236

12

گجرات

35,001

6,503

19,975

39,762

949

ہریانہ

18,191

8,963

27,411

75,942

8,308

ہماچل پردیش

8,724

3,539

5,348

19,341

3,582

جموں و کشمیر

21,339

7,352

28,895

85,557

4,689

جھارکھنڈ

34,233

5,302

8,796

30,034

1,785

کرناٹک

23,153

8,410

13,025

69,486

7,339

کیرالہ

12,968

5,673

8,832

10,449

1,118

لداخ

731

246

445

312

0

لکشدیپ

120

0

0

120

0

مدھیہ پردیش

46,659

21,345

34,884

2,59,871

16,686

مہاراشٹر

39,864

14,913

35,284

75,368

8,180

منی پور

6,424

1,146

2,879

20,798

1,067

میگھالیہ

3,406

1,245

2,502

7,938

1,168

میزورم

4,742

1,162

3,533

6,871

1,384

ناگالینڈ

4,184

1,803

3,830

7,299

662

اوڈیشہ

12,645

12,116

21,457

26,231

2,189

پڈوچیری

1,622

689

1,556

3,096

646

پنجاب

18,539

7,568

11,836

1,06,699

10,259

راجستھان

38,511

9,232

23,564

2,80,156

10,856

سکم

1,322

381

2,802

2,874

0

تمل ناڈو

29,057

8,029

34,533

85,689

10,786

تلنگانہ

13,107

8,040

15,390

22,188

6,344

دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو

252

31

301

1,407

75

تریپورہ

4,490

1,608

5,081

14,363

1,906

اتر پردیش

69,015

25,568

71,771

4,63,503

28,823

اتراکھنڈ

10,522

2,942

11,669

35,364

3,650

مغربی بنگال

31,406

12,370

25,768

36,410

3,916

 

ضمیمہ II

جے ایس ایس اسکیم کے تحت ملک بھر میں 2021-22 سے 2025-26 کے دوران تربیت یافتہ امیدواروں کی ریاست/یوٹیکے لحاظ سے سال وار تعداد:

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے

2021-22

2022-23

2023-24

2024- 25

2025-26

انڈمان اور نکوبارجزائر

900

1,800

1,800

1,800

1,797

آندھرا پردیش

11,699

16,200

10,800

10,769

10,795

اروناچل پردیش

-

-

-

-

 

آسام

9,139

12,600

9,000

10,799

10,798

بہار

28,769

56,594

37,786

36,733

37,073

چنڈی گڑھ

1,600

2,700

1,800

1,770

1,462

چھتیس گڑھ

18,151

37,777

23,376

24,967

25,158

ڈی این ایچ اور ڈی ڈی

2,379

3,255

3,179

2,417

3,197

دہلی

5,440

8,099

5,398

5,391

5,363

گوا

1,740

2,700

1,800

1,700

1,799

گجرات

19,228

23,917

14,160

14,311

14,889

ہریانہ

8,939

10,728

7,181

3,333

3,437

ہماچل پردیش

8,424

28,244

18,630

18,052

18,865

جموں و کشمیر

2,396

500

1,020

680

2,297

جھارکھنڈ

9,964

25,220

22,439

20,976

23,063

کرناٹک

18,735

31,492

21,532

21,509

21,377

کیرالہ

16,148

24,300

16,198

15,929

16,199

لداخ

-

600

212

-

717

لکشدیپ

-

1,481

1,772

900

999

مدھیہ پردیش

52,222

70,259

49,089

51,477

52,082

مہاراشٹر

38,479

52,934

37,273

36,861

37,612

منی پور

6,285

10,278

7,197

7,219

7,200

میگھالیہ

-

1,660

1,800

1,780

1,759

میزورم

900

2,472

1,800

963

922

ناگالینڈ

1,812

1,999

2,631

540

2,560

اوڈیشہ

40,635

71,765

50,828

52,123

52,151

پنجاب

3,567

4,138

3,560

2,980

3,458

راجستھان

12,443

20,651

14,831

15,534

16,180

تمل ناڈو

14,045

19,784

14,780

15,124

15,818

تلنگانہ

10,398

15,639

10,300

10,787

10,793

تریپورہ

2,610

5,397

3,600

3,480

3,567

اتر پردیش

88,648

1,22,510

84,573

82,475

82,532

اتراکھنڈ

12,433

20,687

14,393

13,978

14,304

مغربی بنگال

13,868

17,904

12,599

13,133

14,118

 

ضمیمہ III

2021-22 سے 2025-26 تک کی مدت کے دوران این اے پی ایس اسکیم کے تحت ملک بھر میں شامل زیر تربیت افراد کی سال وار تعداد:

ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقے

2021-22

2022-23

2023-24

2024-25

2025-26

انڈمان اور نکوبارجزائر

9

41

48

199

177

آندھرا پردیش

15,501

16,424

21,701

22,075

26,446

اروناچل پردیش

18

42

65

66

204

آسام

14,007

9,660

8,174

5,801

10,028

بہار

6,476

5,543

5,317

5,502

9,013

چنڈی گڑھ

813

668

1,231

1,692

1,739

چھتیس گڑھ

2,631

4,875

5,249

5,362

6,820

دہلی

17,799

15,817

15,957

22,471

30,330

گوا

3,432

4,406

11,882

11,770

12,412

گجرات

69,568

76,222

83,957

90,796

1,09,027

ہریانہ

42,338

62,867

66,714

66,504

85,979

ہماچل پردیش

5,670

6,825

10,212

9,257

10,891

جموں و کشمیر

832

989

859

1,026

1,230

جھارکھنڈ

8,258

9,151

11,883

9,686

10,674

کرناٹک

41,972

58,629

78,457

92,843

1,16,343

کیرالہ

8,975

11,275

13,104

15,317

15,519

لداخ

18

28

66

50

19

لکشدیپ

4

9

6

8

14

مدھیہ پردیش

17,093

21,205

22,706

26,823

34,210

مہاراشٹر

1,46,903

1,86,010

2,63,245

2,78,423

3,01,910

منی پور

90

32

18

187

219

میگھالیہ

117

181

212

328

175

میزورم

4

4

12

146

280

ناگالینڈ

27

22

15

24

40

اوڈیشہ

8,296

10,458

10,755

10,757

12,416

پڈوچیری

1,090

1,343

2,469

4,268

5,953

پنجاب

11,659

15,361

14,761

15,510

25,649

راجستھان

9,478

15,204

18,230

22,328

32,243

سکم

308

202

298

439

508

تمل ناڈو

49,929

72,311

1,01,553

1,01,788

1,43,236

تلنگانہ

38,454

31,821

37,775

34,017

47,501

دادر اور نگر حویلی اور دمن اور دیو

1,282

1,006

2,878

3,570

4,100

تریپورہ

244

368

383

449

533

اتر پردیش

38,042

56,946

71,505

78,966

1,06,269

اتراکھنڈ

9,986

16,436

21,058

22,887

30,643

مغربی بنگال

18,791

26,109

29,538

23,324

35,153

 

ضمیمہ IV

سیشن22-2021 سے26-2025 کی مدت کے دوران سی ٹی ایس اسکیم کے تحت ملک بھر میں اندراج شدہ امیدواروں کی سال وار تعداد:

ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے

2021-22

2022-23

2023-24

2024-25

2025-26

انڈمان اور نکوبار جزائر

531

450

481

838

829

آندھرا پردیش

45,612

48,110

50,568

52,447

54213

اروناچل پردیش

497

674

733

669

697

آسام

3,500

3,548

5,325

4,256

5725

بہار

110,399

90,830

125,625

116,293

116754

چنڈی گڑھ

910

907

1,083

898

1175

چھتیس گڑھ

22,320

20,816

24,226

22,237

23970

دہلی

8,774

9,261

10,288

9,368

10970

گوا

2,080

2,126

2,255

2,161

2404

گجرات

81,236

84,648

98,454

78,811

90790

ہریانہ

49,032

45,161

54,944

51,465

53477

ہماچل پردیش

20,332

22,691

23,371

18,801

16973

جموں و کشمیر

8,062

8,130

8,504

8,226

10047

جھارکھنڈ

29,760

35,573

40,108

40,263

48331

کرناٹک

66,238

73,068

78,724

64,447

71839

کیرالہ

35,493

34,741

33,196

30,445

30132

لداخ

171

326

368

375

421

لکشدیپ

374

303

360

341

210

مدھیہ پردیش

63,306

69,194

73,224

69,309

79970

مہاراشٹر

112,997

121,884

128,009

115,889

130810

منی پور

108

668

812

721

894

میگھالیہ

508

738

714

992

1000

میزورم

256

334

396

260

328

ناگالینڈ

186

267

240

379

324

اوڈیشہ

57,401

54,005

65,801

54,855

61348

پڈوچیری

689

737

796

695

704

پنجاب

39,992

39,986

43,997

40,370

44247

راجستھان

95,342

99,263

109,648

90,937

88418

سکم

181

424

312

353

431

تمل ناڈو

28,496

35,078

41,127

35,466

39119

تلنگانہ

27,183

26,480

29,579

33,583

40452

دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو

443

666

908

822

841

تریپورہ

1,603

2,470

2,452

2,240

2714

اتر پردیش

273,714

269,106

333,024

317,044

385871

اتراکھنڈ

8,918

10,807

11,499

8,661

11526

مغربی بنگال

29,207

37,711

44,211

40,216

42323

یہ معلومات ہنرمندی کی ترقی اور کاروباری امور کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔

) ش ح – م ع-  ع د)

U.No. 2000


(रिलीज़ आईडी: 2298831) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी