|
ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
ہنر مندی کی ترقی کے پروگرام
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 3:40PM by PIB Delhi
حکومت ہند کے اسکیل انڈیا مشن کے تحت ہنری مندی کی ترقی اور کاروباری امور کی وزارت ملک بھر میں ریاست کیرالہ سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو مختلف اسکیموں، جیسےپردھان منتری کوشل وکاس یوجنا(پی ایم کے وی وائی)، ، جن شکشن سنستھان(جے ایس ایس)، نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس)کے تحت ہنرمندی کے مراکز کے وسیع نیٹ ورک اور کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم کے تحت صنعتی تربیتی اداروں کے ذریعے ہنرمندی، ازسر نو ہنرمندی اور ہنرمندی میں اضافے کی تربیت فراہم کرتی ہے۔ اسکیل انڈیا مشن کا مقصد ہندوستان کے نوجوانوں کو صنعت سے متعلق ہنر سے آراستہ کرکے مستقبل کے لیے تیار کرنا ہے۔ اسکیل انڈیا مشن کے تحت چند اہم اسکیمیں درج ذیل ہیں:
پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی):پی ایم کے وی وائی اسکیم کے تحت کیرالہ سمیت ملک بھر کے نوجوانوں کو مختصر مدتی تربیت (ایس ٹی ٹی) کے ذریعے ہنر مندی کی تربیت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ پہلے سے حاصل شدہ ہنر کی باضابطہ شناخت (آر پی ایل) کے ذریعے ہنر میں مزید اضافے اور ازسرِ نو ہنر مندی کی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
جن شکشن سنستھان (جے ایس ایس) اسکیم:اس اسکیم کا مقصد 15 سے 45 سال کی عمر کے ناخواندہ، نو خواندہ، ابتدائی سطح کی تعلیم رکھنے والے افراد اور 12ویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد اسکول چھوڑنے والے افراد کو پیشہ ورانہ ہنر فراہم کرنا ہے۔ ’ دیویانگ جن‘اور دیگر مستحق افراد کے معاملے میں عمر کی مقررہ حد میں مناسب رعایت دی جاتی ہے۔ دیہی علاقوں اور کم آمدنی والے شہری علاقوں میں خواتین، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس):اس اسکیم کا مقصدعملی تربیت کی تربیت کو فروغ دینا اور زیرِ تربیت فرد کو وظیفے کی ادائیگی کے لیے مالی معاونت فراہم کرکے اپرنٹس کی شمولیت میں اضافہ کرنا ہے۔ تربیت میں بنیادی تربیت کے ساتھ ساتھ صنعت میں کام کی جگہ پر ملازمت کے دوران تربیت / عملی تربیت شامل ہے۔
کاریگر تربیتی اسکیم (سی ٹی ایس):اس اسکیم کے تحت ملک بھر کے صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) کے ذریعے طویل مدتی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ آئی ٹی آئیز مختلف معاشی شعبوں کا احاطہ کرنے والے متعدد پیشہ ورانہ / ہنر مندی کے تربیتی کورسز پیش کرتے ہیں، جن کا مقصد صنعت کو ہنرمند افرادی قوت فراہم کرنا اور نوجوانوں کو خود روزگار کے قابل بنانا ہے۔
ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لحاظ سے، سال وار اور اسکیم وار، وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی اہم ہنرمندی ترقی اسکیموں کے تحت 22-2021سے26-2025 کے دوران کیرالہ سمیت ملک بھر میں تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی تعداد کی تفصیلات ضمیمہ I تا IV میں فراہم کی گئی ہیں۔
ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت اسکیموں میں تقرریوں کا ریکارڈ صرف پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے مختصر مدتی تربیتی جزو کے تحت اس کے پہلے تین مرحلوں (پی ایم کے وی وائی 1.0، پی ایم کے وی وائی 2.0 اور پی ایم کے وی وائی 3.0) میں رکھا گیا، جنہیں 16-2015سے 22-2021تک نافذ کیا گیا تھا۔ پی ایم کے وی وائی (1.0 تا 3.0) کے تحت کیرالہ میں 26,385 امیدواروں کے تقرر کی اطلاع دی گئی ہے۔ پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت توجہ اس بات پر ہے کہ تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کو ملازمت کے دوران تربیت (او جے ٹی) سمیت صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنرمندی کے کورسز کے ذریعے رہنمائی فراہم کرتے ہوئے اپنی پسند کے مختلف پیشہ ورانہ راستوں کا انتخاب کرنے کے قابل بنایا جائے۔
حکومت ہنر مندی کے ہندوستان مشن کے تحت ہنر مندی کے اقدامات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیتی ہے، جس میں اندراج، سرٹیفیکیشن، تقرری، خود روزگار کے نتائج اور آجروں کی رائے کا جائزہ لے کر یہ جانچا جاتا ہے کہ ان اقدامات سے روزگار کے قابل بنانے اور مستقبل کی ہنرمندی کو مضبوط بنانے میں کس حد تک مؤثریت حاصل ہوئی ہے۔ یہ جائزے نصاب میں مسلسل تازہ کاری، صنعت کے ساتھ تعاون اور عمل درآمد کے طریقہ کار میں بہتری میں معاون ثابت ہوتے ہیں، تاکہ ہنر مندی کے پروگرام بدلتے ہوئے تکنیکی رجحانات اور محنت کی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ رہیں۔ وسیع تر ہنر مندی کی ترقی کی اسکیموں کی مؤثریت کا جائزہ انتظامی معلوماتی نظام پر مبنی نگرانی، تیسرے فریق کے جائزوں اور استفادہ کنندگان کی آرا کے ذریعے بھی لیا جاتا ہے۔ ارون جیٹلی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فنانشل مینجمنٹ (اے جے این آئی ایف ایم) کی جانب سے 2025 میں ان اسکیموں کے آزادانہ اثرات کے جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ ان اہم ہنر مندی کے اقدامات نے رسمی تربیت اور سرٹیفیکیشن تک رسائی کو کامیابی کے ساتھ وسعت دی ہے، جبکہ استفادہ کنندگان کے ایک نمایاں حصے میں ہنر کے اعتماد، روزگار میں شرکت اور آمدنی کے نتائج میں قابلِ پیمائش بہتری بھی لائی ہے۔
اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فراہم کی جانے والی ہنرمندی صنعت کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو اور اس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع میں اضافہ ہو، ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت نے ملک بھر میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ درج ذیل مخصوص اقدامات کیے ہیں:
- قومی کونسل برائے پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت (این سی وی ای ٹی) کو ایک اعلیٰ سطحی نگران ادارے کے طور پر قائم کیا گیا ہے، جو تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے شعبے میں معیار کو یقینی بنانے کے لیے ضوابط اور معیارات وضع کرتی ہے۔ این سی وی ای ٹی صنعت سے متعلق اداروں کو تربیت کی اسناد جاری کرنے والے اداروں اور/یا تشخیصی اداروں کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
- اسناد جاری کرنے والے اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ صنعت کی طلب کے مطابق صلاحیت تیار کریں، انہیں قومی پیشہ ورانہ درجہ بندی، 2015 کے مطابق متعین پیشوں سے منسلک کریں اور صنعت سے ان کی توثیق حاصل کریں۔ این سی وی ای ٹی نے صنعت کی ضروریات کے مطابق 10,209 اہلیتوں کی منظوری دی ہے، جن میں سے 2,975 اہلیتیں فی الحال درست اور فعال ہیں، جبکہ 7,234 اہلیتیں محفوظ شدہ ریکارڈ میں منتقل کر دی گئی ہیں۔
- ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) صنعتوں کے اشتراک سے فلیکسی مفاہمتی یادداشت اسکیم اور دوہری تربیتی نظام نافذ کر رہا ہے، تاکہ صنعتی تربیتی اداروں کے طلبہ کو حقیقی صنعتی ماحول میں تربیت فراہم کی جا سکے۔
- ڈی جی ٹی نے آئی بی ایم، مائیکروسافٹ، آٹوڈیسک، اے ڈبلیو ایس، شیل وغیرہ جیسی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں، تاکہ ریاستی اور علاقائی سطح پر اداروں کے لیے صنعت سے روابط کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ شراکت داریاں جدید ٹیکنالوجیز میں تکنیکی اور پیشہ ورانہ ہنر کی تربیت فراہم کرنے میں معاون ہیں۔
- پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا کے تحت نئے دور کی/مستقبل کی ہنرمندی سے متعلق ملازمت کے کرداروں کو آنے والی مارکیٹ کی طلب اور صنعت کی ضروریات کے پیش نظر مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ، روبوٹکس، میکاٹرونکس، ڈرون ٹیکنالوجی وغیرہ جیسے شعبوں میں صنعت 4.0 کی ضروریات کے ساتھ خصوصی طور پر ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
- ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) نے کاریگر تربیتی اسکیم کے تحت نئے دور کی/مستقبل کی ہنرمندی کے کورسز متعارف کرائے ہیں، تاکہ 5 جی نیٹ ورک، مصنوعی ذہانت کی پروگرامنگ، سائبر سکیورٹی، ڈرون ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ آف تھنگز وغیرہ جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تربیت فراہم کی جا سکے۔
- وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری نے اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) کا آغاز کیا ہے، جو ہنرمندی، تعلیم، روزگار اور صنعت کاری کے نظام کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر مربوط کرتا ہے تاکہ زندگی بھر خدمات کی ایک وسیع رینج فراہم کی جا سکے۔ اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کے ذریعے امیدوار ہنرمندی کی تربیت، روزگار اور اپرنٹس شپ کے مواقع تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ تربیت حاصل کرنے والے امیدواروں کی تفصیلات ایس آئی ڈی ایچ پورٹل پر دستیاب ہیں، تاکہ انہیں ممکنہ آجروں سے جوڑا جا سکے۔
- دو (02) ہندوستانی انسٹی ٹیوٹ آف اسکلز (آئی آئی ایس) احمد آباد اور ممبئی میں سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی) کے تحت قائم کیے گئے ہیں، جن کا مقصد صنعت کی ضروریات کے مطابق تیار افرادی قوت کو ابھرتے ہوئے معاشی مواقع سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
- 36 سیکٹر اسکل کونسلز (ایس ایس سیز) قائم کی گئی ہیں، جن کی قیادت متعلقہ شعبوں کے صنعت کار رہنما کر رہے ہیں۔ ان کونسلز کو اپنے متعلقہ شعبوں میں ہنرمندی کی ترقی کی ضروریات کی نشاندہی کرنے اور ہنرمندی کی اہلیت کے معیارات طے کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
- وزارت کی جانب سے ملک بھر میں تصدیق شدہ امیدواروں کے لیے تقرری کے مواقع فراہم کرنے کی غرض سے کوشل مہوتسو اور پردھان منتری قومی اپرنٹس شپ میلے منعقد کیے گئے ہیں۔
- قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 میں پیشہ ورانہ تعلیم کو مرکزی دھارے کی تعلیم کے ساتھ زیادہ مربوط کرنے اور تعلیمی و پیشہ ورانہ راستوں کے درمیان آسانی سے منتقلی کو فروغ دینے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ اسی تصور کے تحت یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے تعاون سے تیار کردہ اپرنٹس شپ ایمبیڈڈ ڈگری پروگرام (اے ای ڈی پی) ڈگری اور ڈپلومہ پروگراموں میں زیرتعلیم طلبہ کو اپنے نصاب کے لازمی حصے کے طور پر اپرنٹس شپ کی تربیت حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ پروگرام روزگار کے حصول کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے، نتائج پر مبنی تعلیم کو فروغ دیتا ہے، صنعت اور تعلیمی اداروں کے روابط کو مضبوط بناتا ہے اور صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنر حاصل کرنے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
- حکومت نے پی ایم-سیتو (پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائبیلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آئیز) کا آغاز کیا ہے۔ یہ 60,000 کروڑ روپے کی مرکزی معاونت یافتہ اسکیم ہے، جس کے تحت ملک بھر کے 1,000 سرکاری صنعتی تربیتی اداروں کو ہب اینڈ اسپوک ماڈل کے تحت جدید بنایا جائے گا، جس میں 200 ہب آئی ٹی آئیز اور 800 اسپوک آئی ٹی آئیز شامل ہیں۔ صنعت کی قیادت میں چلنے والی اس پہل کے ذریعے سیکھنے والوں اور ابتدائی مرحلے کے کاروباری مالکان کو متعلقہ ہنر، حقیقی دنیا کا تجربہ اور جامع پیشہ ورانہ رہنمائی فراہم کرکے روزگار کے حصول کی صلاحیت میں اضافہ اور صنعت کاری کو فروغ دیا جاتا ہے۔ ادارہ جاتی نظام اور اہم صنعتی روابط کو مضبوط بنا کر یہ تقرری کےلیے بہترمعاونت فراہم کرتی ہے، جبکہ پہلی بار کاروبار شروع کرنے والے صنعت کاروں کو کامیابی کے ساتھ اپنے کاروباری منصوبے شروع کرنے اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے بااختیار بناتی ہے۔
ضمیمہ-I
پی ایم کے وی وائی اسکیم کے تحت 2021-22 سے 26-2025کے دوران ملک بھر میں تربیت یافتہ امیدواروں کی ریاست؍مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے سال وار تعداد:
|
ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
2021-22
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
613
|
310
|
648
|
909
|
30
|
|
آندھرا پردیش
|
13,199
|
5,798
|
32,449
|
35,471
|
3,094
|
|
اروناچل پردیش
|
8,884
|
667
|
4,152
|
10,054
|
125
|
|
آسام
|
24,517
|
8,721
|
38,190
|
75,182
|
5,902
|
|
بہار
|
47,643
|
12,213
|
23,613
|
99,982
|
4,451
|
|
چنڈی گڑھ
|
893
|
491
|
319
|
628
|
148
|
|
چھتیس گڑھ
|
9,495
|
4,356
|
8,385
|
16,452
|
490
|
|
دہلی
|
19,965
|
2,262
|
10,686
|
12,277
|
2,769
|
|
گوا
|
604
|
176
|
183
|
236
|
12
|
|
گجرات
|
35,001
|
6,503
|
19,975
|
39,762
|
949
|
|
ہریانہ
|
18,191
|
8,963
|
27,411
|
75,942
|
8,308
|
|
ہماچل پردیش
|
8,724
|
3,539
|
5,348
|
19,341
|
3,582
|
|
جموں و کشمیر
|
21,339
|
7,352
|
28,895
|
85,557
|
4,689
|
|
جھارکھنڈ
|
34,233
|
5,302
|
8,796
|
30,034
|
1,785
|
|
کرناٹک
|
23,153
|
8,410
|
13,025
|
69,486
|
7,339
|
|
کیرالہ
|
12,968
|
5,673
|
8,832
|
10,449
|
1,118
|
|
لداخ
|
731
|
246
|
445
|
312
|
0
|
|
لکشدیپ
|
120
|
0
|
0
|
120
|
0
|
|
مدھیہ پردیش
|
46,659
|
21,345
|
34,884
|
2,59,871
|
16,686
|
|
مہاراشٹر
|
39,864
|
14,913
|
35,284
|
75,368
|
8,180
|
|
منی پور
|
6,424
|
1,146
|
2,879
|
20,798
|
1,067
|
|
میگھالیہ
|
3,406
|
1,245
|
2,502
|
7,938
|
1,168
|
|
میزورم
|
4,742
|
1,162
|
3,533
|
6,871
|
1,384
|
|
ناگالینڈ
|
4,184
|
1,803
|
3,830
|
7,299
|
662
|
|
اوڈیشہ
|
12,645
|
12,116
|
21,457
|
26,231
|
2,189
|
|
پڈوچیری
|
1,622
|
689
|
1,556
|
3,096
|
646
|
|
پنجاب
|
18,539
|
7,568
|
11,836
|
1,06,699
|
10,259
|
|
راجستھان
|
38,511
|
9,232
|
23,564
|
2,80,156
|
10,856
|
|
سکم
|
1,322
|
381
|
2,802
|
2,874
|
0
|
|
تمل ناڈو
|
29,057
|
8,029
|
34,533
|
85,689
|
10,786
|
|
تلنگانہ
|
13,107
|
8,040
|
15,390
|
22,188
|
6,344
|
|
دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو
|
252
|
31
|
301
|
1,407
|
75
|
|
تریپورہ
|
4,490
|
1,608
|
5,081
|
14,363
|
1,906
|
|
اتر پردیش
|
69,015
|
25,568
|
71,771
|
4,63,503
|
28,823
|
|
اتراکھنڈ
|
10,522
|
2,942
|
11,669
|
35,364
|
3,650
|
|
مغربی بنگال
|
31,406
|
12,370
|
25,768
|
36,410
|
3,916
|
ضمیمہ II
جے ایس ایس اسکیم کے تحت ملک بھر میں 2021-22 سے 2025-26 کے دوران تربیت یافتہ امیدواروں کی ریاست/یوٹیکے لحاظ سے سال وار تعداد:
|
ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
2021-22
|
2022-23
|
2023-24
|
2024- 25
|
2025-26
|
|
انڈمان اور نکوبارجزائر
|
900
|
1,800
|
1,800
|
1,800
|
1,797
|
|
آندھرا پردیش
|
11,699
|
16,200
|
10,800
|
10,769
|
10,795
|
|
اروناچل پردیش
|
-
|
-
|
-
|
-
|
|
|
آسام
|
9,139
|
12,600
|
9,000
|
10,799
|
10,798
|
|
بہار
|
28,769
|
56,594
|
37,786
|
36,733
|
37,073
|
|
چنڈی گڑھ
|
1,600
|
2,700
|
1,800
|
1,770
|
1,462
|
|
چھتیس گڑھ
|
18,151
|
37,777
|
23,376
|
24,967
|
25,158
|
|
ڈی این ایچ اور ڈی ڈی
|
2,379
|
3,255
|
3,179
|
2,417
|
3,197
|
|
دہلی
|
5,440
|
8,099
|
5,398
|
5,391
|
5,363
|
|
گوا
|
1,740
|
2,700
|
1,800
|
1,700
|
1,799
|
|
گجرات
|
19,228
|
23,917
|
14,160
|
14,311
|
14,889
|
|
ہریانہ
|
8,939
|
10,728
|
7,181
|
3,333
|
3,437
|
|
ہماچل پردیش
|
8,424
|
28,244
|
18,630
|
18,052
|
18,865
|
|
جموں و کشمیر
|
2,396
|
500
|
1,020
|
680
|
2,297
|
|
جھارکھنڈ
|
9,964
|
25,220
|
22,439
|
20,976
|
23,063
|
|
کرناٹک
|
18,735
|
31,492
|
21,532
|
21,509
|
21,377
|
|
کیرالہ
|
16,148
|
24,300
|
16,198
|
15,929
|
16,199
|
|
لداخ
|
-
|
600
|
212
|
-
|
717
|
|
لکشدیپ
|
-
|
1,481
|
1,772
|
900
|
999
|
|
مدھیہ پردیش
|
52,222
|
70,259
|
49,089
|
51,477
|
52,082
|
|
مہاراشٹر
|
38,479
|
52,934
|
37,273
|
36,861
|
37,612
|
|
منی پور
|
6,285
|
10,278
|
7,197
|
7,219
|
7,200
|
|
میگھالیہ
|
-
|
1,660
|
1,800
|
1,780
|
1,759
|
|
میزورم
|
900
|
2,472
|
1,800
|
963
|
922
|
|
ناگالینڈ
|
1,812
|
1,999
|
2,631
|
540
|
2,560
|
|
اوڈیشہ
|
40,635
|
71,765
|
50,828
|
52,123
|
52,151
|
|
پنجاب
|
3,567
|
4,138
|
3,560
|
2,980
|
3,458
|
|
راجستھان
|
12,443
|
20,651
|
14,831
|
15,534
|
16,180
|
|
تمل ناڈو
|
14,045
|
19,784
|
14,780
|
15,124
|
15,818
|
|
تلنگانہ
|
10,398
|
15,639
|
10,300
|
10,787
|
10,793
|
|
تریپورہ
|
2,610
|
5,397
|
3,600
|
3,480
|
3,567
|
|
اتر پردیش
|
88,648
|
1,22,510
|
84,573
|
82,475
|
82,532
|
|
اتراکھنڈ
|
12,433
|
20,687
|
14,393
|
13,978
|
14,304
|
|
مغربی بنگال
|
13,868
|
17,904
|
12,599
|
13,133
|
14,118
|
ضمیمہ III
2021-22 سے 2025-26 تک کی مدت کے دوران این اے پی ایس اسکیم کے تحت ملک بھر میں شامل زیر تربیت افراد کی سال وار تعداد:
|
ریاستیں/ مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
2021-22
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
انڈمان اور نکوبارجزائر
|
9
|
41
|
48
|
199
|
177
|
|
آندھرا پردیش
|
15,501
|
16,424
|
21,701
|
22,075
|
26,446
|
|
اروناچل پردیش
|
18
|
42
|
65
|
66
|
204
|
|
آسام
|
14,007
|
9,660
|
8,174
|
5,801
|
10,028
|
|
بہار
|
6,476
|
5,543
|
5,317
|
5,502
|
9,013
|
|
چنڈی گڑھ
|
813
|
668
|
1,231
|
1,692
|
1,739
|
|
چھتیس گڑھ
|
2,631
|
4,875
|
5,249
|
5,362
|
6,820
|
|
دہلی
|
17,799
|
15,817
|
15,957
|
22,471
|
30,330
|
|
گوا
|
3,432
|
4,406
|
11,882
|
11,770
|
12,412
|
|
گجرات
|
69,568
|
76,222
|
83,957
|
90,796
|
1,09,027
|
|
ہریانہ
|
42,338
|
62,867
|
66,714
|
66,504
|
85,979
|
|
ہماچل پردیش
|
5,670
|
6,825
|
10,212
|
9,257
|
10,891
|
|
جموں و کشمیر
|
832
|
989
|
859
|
1,026
|
1,230
|
|
جھارکھنڈ
|
8,258
|
9,151
|
11,883
|
9,686
|
10,674
|
|
کرناٹک
|
41,972
|
58,629
|
78,457
|
92,843
|
1,16,343
|
|
کیرالہ
|
8,975
|
11,275
|
13,104
|
15,317
|
15,519
|
|
لداخ
|
18
|
28
|
66
|
50
|
19
|
|
لکشدیپ
|
4
|
9
|
6
|
8
|
14
|
|
مدھیہ پردیش
|
17,093
|
21,205
|
22,706
|
26,823
|
34,210
|
|
مہاراشٹر
|
1,46,903
|
1,86,010
|
2,63,245
|
2,78,423
|
3,01,910
|
|
منی پور
|
90
|
32
|
18
|
187
|
219
|
|
میگھالیہ
|
117
|
181
|
212
|
328
|
175
|
|
میزورم
|
4
|
4
|
12
|
146
|
280
|
|
ناگالینڈ
|
27
|
22
|
15
|
24
|
40
|
|
اوڈیشہ
|
8,296
|
10,458
|
10,755
|
10,757
|
12,416
|
|
پڈوچیری
|
1,090
|
1,343
|
2,469
|
4,268
|
5,953
|
|
پنجاب
|
11,659
|
15,361
|
14,761
|
15,510
|
25,649
|
|
راجستھان
|
9,478
|
15,204
|
18,230
|
22,328
|
32,243
|
|
سکم
|
308
|
202
|
298
|
439
|
508
|
|
تمل ناڈو
|
49,929
|
72,311
|
1,01,553
|
1,01,788
|
1,43,236
|
|
تلنگانہ
|
38,454
|
31,821
|
37,775
|
34,017
|
47,501
|
|
دادر اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
1,282
|
1,006
|
2,878
|
3,570
|
4,100
|
|
تریپورہ
|
244
|
368
|
383
|
449
|
533
|
|
اتر پردیش
|
38,042
|
56,946
|
71,505
|
78,966
|
1,06,269
|
|
اتراکھنڈ
|
9,986
|
16,436
|
21,058
|
22,887
|
30,643
|
|
مغربی بنگال
|
18,791
|
26,109
|
29,538
|
23,324
|
35,153
|
ضمیمہ IV
سیشن22-2021 سے26-2025 کی مدت کے دوران سی ٹی ایس اسکیم کے تحت ملک بھر میں اندراج شدہ امیدواروں کی سال وار تعداد:
|
ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے
|
2021-22
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
531
|
450
|
481
|
838
|
829
|
|
آندھرا پردیش
|
45,612
|
48,110
|
50,568
|
52,447
|
54213
|
|
اروناچل پردیش
|
497
|
674
|
733
|
669
|
697
|
|
آسام
|
3,500
|
3,548
|
5,325
|
4,256
|
5725
|
|
بہار
|
110,399
|
90,830
|
125,625
|
116,293
|
116754
|
|
چنڈی گڑھ
|
910
|
907
|
1,083
|
898
|
1175
|
|
چھتیس گڑھ
|
22,320
|
20,816
|
24,226
|
22,237
|
23970
|
|
دہلی
|
8,774
|
9,261
|
10,288
|
9,368
|
10970
|
|
گوا
|
2,080
|
2,126
|
2,255
|
2,161
|
2404
|
|
گجرات
|
81,236
|
84,648
|
98,454
|
78,811
|
90790
|
|
ہریانہ
|
49,032
|
45,161
|
54,944
|
51,465
|
53477
|
|
ہماچل پردیش
|
20,332
|
22,691
|
23,371
|
18,801
|
16973
|
|
جموں و کشمیر
|
8,062
|
8,130
|
8,504
|
8,226
|
10047
|
|
جھارکھنڈ
|
29,760
|
35,573
|
40,108
|
40,263
|
48331
|
|
کرناٹک
|
66,238
|
73,068
|
78,724
|
64,447
|
71839
|
|
کیرالہ
|
35,493
|
34,741
|
33,196
|
30,445
|
30132
|
|
لداخ
|
171
|
326
|
368
|
375
|
421
|
|
لکشدیپ
|
374
|
303
|
360
|
341
|
210
|
|
مدھیہ پردیش
|
63,306
|
69,194
|
73,224
|
69,309
|
79970
|
|
مہاراشٹر
|
112,997
|
121,884
|
128,009
|
115,889
|
130810
|
|
منی پور
|
108
|
668
|
812
|
721
|
894
|
|
میگھالیہ
|
508
|
738
|
714
|
992
|
1000
|
|
میزورم
|
256
|
334
|
396
|
260
|
328
|
|
ناگالینڈ
|
186
|
267
|
240
|
379
|
324
|
|
اوڈیشہ
|
57,401
|
54,005
|
65,801
|
54,855
|
61348
|
|
پڈوچیری
|
689
|
737
|
796
|
695
|
704
|
|
پنجاب
|
39,992
|
39,986
|
43,997
|
40,370
|
44247
|
|
راجستھان
|
95,342
|
99,263
|
109,648
|
90,937
|
88418
|
|
سکم
|
181
|
424
|
312
|
353
|
431
|
|
تمل ناڈو
|
28,496
|
35,078
|
41,127
|
35,466
|
39119
|
|
تلنگانہ
|
27,183
|
26,480
|
29,579
|
33,583
|
40452
|
|
دادرہ اور نگر حویلی اور دامن اور دیو
|
443
|
666
|
908
|
822
|
841
|
|
تریپورہ
|
1,603
|
2,470
|
2,452
|
2,240
|
2714
|
|
اتر پردیش
|
273,714
|
269,106
|
333,024
|
317,044
|
385871
|
|
اتراکھنڈ
|
8,918
|
10,807
|
11,499
|
8,661
|
11526
|
|
مغربی بنگال
|
29,207
|
37,711
|
44,211
|
40,216
|
42323
|
یہ معلومات ہنرمندی کی ترقی اور کاروباری امور کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کی۔
) ش ح – م ع- ع د)
U.No. 2000
(रिलीज़ आईडी: 2298831)
|