ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: بڑے پیمانے پر معدنی ریت کی کان کنی اور نایاب ارضی معدنیات کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 3:05PM by PIB Delhi
محکمۂ جوہری توانائی (ڈی اے ای) کی ایک ذیلی یونٹ جوہری معدنیات کی تلاش و تحقیق سے متعلق ڈائریکٹوریٹ (اے ایم ڈی) نے تمل ناڈو کے کڈلور ضلع کے ساحلی علاقوں میں ساحلی ریت کی معدنیات (بی ایس ایم) کے لیے تلاش کا کام انجام دیا ہے اور ’ پڈوپورم-کڈلور بی ایس ایم ذخیرہ‘کے نام سے ایک بی ایس ایم ذخیرے کی نشاندہی کی ہے، جس میں کل 1.912 ملین ٹن (ایم ٹی) بھاری معدنیات (ٹی ایچ ایم) موجود ہیں، جن میں مونازائٹ (0.005 ملین ٹن)، ایلمینائٹ (0.926 ملین ٹن) اور زرکون (0.063 ملین ٹن) شامل ہیں۔
ہندوستان میں ساحلی ریت کی غیر قانونی کان کنی اور تزویراتی اہمیت کی حامل مونازائٹ ریت کی غیر مجاز برآمد پر قابو پانے کے لیے حکومت ہند کی جانب سے اختیار کیے گئے اقدامات درج ذیل ہیں:
- وزارت کان کنی نے 20.02.2019 کو نوٹیفکیشن نمبر G.S.R 134(E) جاری کرتے ہوئے ساحلی ریت یا پلیسر ذخائر میں پائی جانے والی ساحلی ریت کی معدنیات (بی ایس ایم) میں ’ مونازائٹ‘کی حد مقررہ کو کل بھاری معدنیات (ٹی ایچ ایم) میں’0.00 فیصد‘کر دیا۔ اس کے نتیجے میں ملک میں موجود ساحلی ریت کی معدنیات کے تمام ذخائر مجموعی طور پر سرکاری کمپنیوں کے مکمل کنٹرول میں آ گئے۔
- وزارت تجارت و صنعت کے محکمۂ تجارت کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ نے 21.08.2018 کو نوٹیفکیشن نمبر 26/2015-2020 کے ذریعے ساحلی ریت کی معدنیات کی برآمد سے متعلق پالیسی جاری کی، جس کے تحت ساحلی ریت کی معدنیات کی برآمد کو ریاستی تجارتی ادارے کے دائرے میں لایا گیا اور اسے محکمۂ جوہری توانائی کے تحت سرکاری شعبے کے ادارے آئی آر ای ایل (انڈیا) لمیٹڈ کے ذریعے انجام دیا جانا مقرر کیا گیا۔
- ساحلی ریت کی معدنیات کی برآمد کی جانے والی کھیپ کے لیے محکمۂ جوہری توانائی کی جوہری معدنیات کی تلاش و تحقیق ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے مونازائٹ ٹیسٹ سرٹیفکیٹ (ایم ٹی سی) دوبارہ لازمی قرار دیا گیا ہے، جو برآمدی عمل کو مقررہ طریقۂ کار کے مطابق انجام دینے سے متعلق معیاری عملی طریقۂ کار کے تحت جاری کیا جاتا ہے۔
- معدنیات کے تحفظ و ترقی کے ضابطے، 2017 کے قاعدہ 45 کے تحت تمام کان کنوں، تاجروں، ذخیرہ کنندگان، برآمد کنندگان اور معدنیات کے آخری صارفین کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ معدنیات کی پیداوار، تجارت اور استعمال سے متعلق معلومات ریاستی حکومتوں اور، حسب ضرورت، انڈین بیورو آف مائنز یا جوہری معدنیات کی تلاش و تحقیق ڈائریکٹوریٹ کے پاس درج کرائیں اور رپورٹ پیش کریں۔ اس سے ملک میں پیدا ہونے والی تمام معدنیات کا کان کے دہانے سے لے کر آخری استعمال تک قومی سطح پر مکمل حساب رکھنے میں مدد ملتی ہے، جس سے غیر قانونی کان کنی، رائلٹی کی چوری وغیرہ کے امکانات کم ہوتے ہیں۔
- ریاستی حکومتوں سے درخواست کی گئی ہے کہ غیر قانونی کان کنی پر قابو پانے کے لیے ریاستی اور ضلعی سطح پر ٹاسک فورسز تشکیل دے۔
- کان کنی کی وزارت نے انڈین بیورو آف مائنز کے ذریعے مائننگ سرویلنس سسٹم (ایم ایس ایس) تیار کیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی کا نظام ہے، جس کا مقصد عوامی شراکت داری کے ذریعے معدنی انتظام کا ایک مؤثر نظام قائم کرنا اور خودکار ریموٹ سینسنگ کے ذریعے غیر قانونی کان کنی کی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں روکنا ہے۔
مائنز اینڈ منرلز (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ، 1957 کی دفعہ 23 سی ریاستی حکومتوں کو غیر قانونی کان کنی، معدنیات کی نقل و حمل اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور اس سے متعلقہ مقاصد کے لیے قواعد وضع کرنے کا اختیار دیتی ہے۔ لہٰذا غیر قانونی کان کنی پر قابو پانا ریاستی حکومتوں کے قانون سازی اور انتظامی دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
جہاں تک مقامی ماہی گیر برادریوں کے لیے تابکاری کے خطرے کا تعلق ہے، ہندوستان میں ساحلی علاقوں سے نایاب ارضی معدنیات پر مشتمل معدنیات کے استخراج سے متعلق منصوبوں کی منصوبہ بندی کے مرحلے میں ماحولیاتی تحفظ کے مناسب اقدامات کیے جاتے ہیں۔ نایاب ارضی معدنیات کی کان کنی کے ممکنہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے، جس میں زمین، پانی، حیاتیاتی تنوع اور مقامی آبادی پر پڑنے والے اثرات بھی شامل ہیں۔ ساحلی علاقوں میں معدنیات کی کان کنی کی صورت میں، کان کنی کا لیز جاری کرنے سے پہلے لیز حاصل کرنے والے کو ایک ارادے کا خط جاری کیا جاتا ہے، جس میں یہ شرط عائد ہوتی ہے کہ وہ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ (ای آئی اے) کرائے گا اور اس کی رپورٹ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کو پیش کرے گا، جس میں بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز (بارک) کی جانب سے تابکاری سے متعلق سروے بھی شامل ہوگا۔ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کی منظوری کے بعد ہی، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ماحولیاتی اثرات نقصان دہ نہیں ہیں، کان کنی کے لیے لیز جاری کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ساحلی علاقوں سے نایاب ارضی عناصر (آر ای) پر مشتمل معدنیات سمیت جوہری معدنیات کی کان کنی کے کام ماحول دوست ہیں، کیونکہ بڑے پیمانے پر نکالی جانے والی معدنیات کے برعکس ان میں ڈرلنگ اور دھماکہ خیزی نہیں کی جاتی۔ کان کنی کی گئی زمین کو فوری طور پر مونازائٹ سے پاک مواد سے بھر دیا جاتا ہے، جس کے باعث ذخائر میں پس منظر کی تابکاری کم ہو کر 0.5 مائیکرو سیورٹ فی گھنٹہ سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ اس کے بعد اصل زمینی ساخت بحال کی جاتی ہے اور سبز پٹی تیار کی جاتی ہے۔
حکومت ہند کے بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز کے ماحولیاتی جائزہ ڈویژن کے تحت ایک آزاد یونٹ، ہیلتھ فزکس یونٹ (ایچ پی یو)، آئی آر ای ایل کے ہر پلانٹ میں تابکاری سے متعلق امور کی نگرانی کرتا ہے۔
یہ معلومات وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
****
ش ح۔م ع ن۔ ع د
U. No .1992
(रिलीज़ आईडी: 2298747)
आगंतुक पटल : 7