خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بچوں کے تحفظ اور سلامتی  کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں مختلف اقدامات  کئے گئے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 4:04PM by PIB Delhi

 خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیرمملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت بچوں کے تحفظ  اور سلامتی کو یقینی بنانے کو اولین ترجیح دیتی ہے اور اس سلسلے میں مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ بچوں کو جنسی استحصال اور جنسی ہراسانی سے محفوظ رکھنے کے لیے حکومت نے بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کا قانون، 2012 (پوکسو ایکٹ) نافذ کیا ہے۔ اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر کے ہر فرد کو بچہ قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون میں 2019 میں ترمیم  کی گئی تاکہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے والوں کو سزائے موت سمیت انتہائی سخت سزا دے کر ایسے جرائم کو روکا جا سکے۔

بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کا قانون، 2012 اور بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے ضوابط، 2020 بچوں کو جنسی جرائم سے محفوظ رکھنے کے لیے بچوں کے لیے سازگار قانونی نظام فراہم کرتے ہیں۔ پوکسو ضوابط، 2020 کے قاعدہ 4 میں معاون فرد (سپورٹ پرسن) کی تقرری کی گنجائش رکھی گئی ہے، جو بچوں کی بہبود کی کمیٹی کی جانب سے جہاں ضروری سمجھا جائے، تفتیش اور عدالتی کارروائی کے پورے عمل کے دوران بچے کو مدد فراہم کرتا ہے۔ معاون فرد ایسا شخص یا ادارہ ہوتا ہے جو بچوں کے حقوق یا تحفظ کے شعبے میں کام کرتا ہو اور بچوں کےتحفظ کی ضلع یونٹ (ڈی سی پی یو) سے تسلیم شدہ ہو، یا ڈی سی پی یو میں ملازم کوئی شخص ہو۔ معاون فرد کی ذمہ داریوں میں امدادی خدمات تک رسائی میں سہولت فراہم کرنا، مقدمے کی پیش رفت کے بارے میں بچے اور اس کے خاندان کو باخبر رکھنا، متعلقہ حکام کے ساتھ رابطہ اور تال میل قائم کرنا، بچے کے بہترین مفادات کا تحفظ یقینی بنانا اور قانونی کارروائی کے دوران رازداری برقرار رکھنا شامل ہے۔

اس کے علاوہ، قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال (این سی پی سی آر) نے بچوں کو جنسی جرائم سے تحفظ کے قانون، 2012 کی دفعہ 39 کے تحت معاون افراد سے متعلق ‘‘مثالی رہنما اصول’’ جاری کیے ہیں۔ ان رہنما اصولوں میں دیگر امور کے علاوہ معاون افراد کو فہرست میں شامل کرنے کے لیے انتخابی کمیٹی کی تشکیل، ان کی اہلیت، کردار اور ذمہ داریوں کا تعین، نیز ان کے انتخاب اور تعیناتی کے طریقۂ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ معاون فرد کی بنیادی ذمہ داری قانونی کارروائی کے دوران جنسی جرائم کا شکار بچوں کو جذباتی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنا، ان کی فلاح و بہبود اور تحفظ یقینی بنانا اور انہیں مناسب خدمات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔

بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مقدمات کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے بچوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قومی کمیشن (این سی پی سی آر) نے پوکسو ٹریکنگ پورٹل تیار کیا ہے، تاکہ تمام متعلقہ شراکت داروں کے درمیان نگرانی اور تال میل کو مؤثر بنایا جا سکے۔ اس پورٹل پر پوکسو مقدمات میں معاون افراد کی تقرری سے متعلق معلومات بھی درج کی جاتی ہیں۔

پوکسو ایکٹ اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد پر عمل درآمد، جس میں مقررہ ضابطے کے مطابق معاون افراد کی شناخت، منظوری، پینل میں شمولیت اور تعیناتی شامل ہے، متعلقہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرِانتظام علاقوں کی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت پوکسو ایکٹ اور اس کے تحت وضع کردہ قواعد کی مؤثر عمل درآمد کو مضبوط بنانے کے لیے باقاعدگی سے رہنما ہدایات جاری کرتی ہے، جائزہ اجلاس منعقد کرتی ہے، صلاحیت سازی کے اقدامات کرتی ہے اور ریاستوں و مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے ساتھ مسلسل پیروی کرتی ہے۔

 

********

ش ح۔م ش۔ج ا

U. No. 1995


(रिलीज़ आईडी: 2298746) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी