ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
ہنرمندی ترقیات ایکو سسٹم میں مصنوعی ذہانت کا ارتباط
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 3:37PM by PIB Delhi
حکومت نے درج ذیل اقدامات کے ذریعے مصنوعی ذہانت کو قومی ہنر مندی کے نظام میں باقاعدہ طور پر شامل کیا ہے:
اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ)
اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) کو ایک متحدہ ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر (ڈی پی آئی) کے طور پر شروع کیا گیا ہے اور یہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہنر مندی کے لیے مرکزی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ ایس آئی ڈی ایچ کے تحت، وزارت نے 22 جولائی 2025 کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی خواندگی کو فروغ دینے اور سیکھنے والوں کو اے آئی سے لیس مستقبل کے لیے تیار کرنے کی خاطر "اسکلنگ فار اے آئی ریڈینس" پروگرام کا آغاز کیا۔ ابتدائی طور پر یہ پروگرام مکمل طور پر آن لائن، اپنی رفتار سے سیکھے جانے والے (سیلف پیسڈ)، این ایس کیو ایف کے مطابق اور کریڈٹ سے منسلک چار بنیادی کورسز پر مشتمل تھا، جن کے نام "اے آئی ٹو بی اویئر" ، "اے آئی ٹو ایکوائر" ، "اے آئی ٹو ایسپائر" ، اور "اے آئی فار ایجوکیٹرز" ہیں۔ بعد میں اس پروگرام کو وسعت دے کر اس میں اے آئی اور اے آئی ایپلی کیشنز پر مبنی 50 قابلیتیں شامل کی گئیں، جو ملازمتوں کے لیے اے آئی، کام کی جگہ پر کارکردگی ، مخصوص شعبوں میں ایپلی کیشنز، شمولیت، اور غیر منظم شعبے کے لیے سیاق و سباق کے مطابق اے آئی ایپلی کیشنز کا احاطہ کرتی ہیں۔ 6 اگست 2026 تک، ایس آئی ڈی ایچ پر دستیاب سور کورسز کے تحت کل 5,17,477 سیکھنے والوں نے رجسٹریشن کروائی ہے اور 1,00,664 سیکھنے والوں کو سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں
پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 کے تحت، صنعت کے تقاضوں کے مطابق اور مستقبل کے لیے موزوں مہارتوں پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جن میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، مشین لرننگ، ڈیٹا سائنس، انٹرنیٹ آف تھنگز ، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، ڈرونز، الیکٹرک وہیکلز ، گرین ہائیڈروجن، روبوٹکس، اے آر/وی آر اور 5جی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ اس اسکیم کے فریم ورک میں مارکیٹ کی مانگ پر مبنی ہنر مندی، صنعتوں کی بڑھتی ہوئی شرکت، متعلقہ جاب رولز میں لازمی آن دی جاب ٹریننگ ، اپرنٹس شپ کے مواقع کا فروغ، اور اسکل انڈیا ایکو سسٹم کے ذریعے ڈیجیٹل نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔ 30 جون 2026 تک کی ایس آئی ڈی ایچ رپورٹ کے مطابق، پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت مستقبل کے ہنر پر مبنی جاب رولز میں 5,44,383 امیدواروں کو تربیت/رہنمائی فراہم کی گئی ہے اور 3,73,766 امیدواروں کو سند جاری کی جا چکی ہے۔
نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) صنعتوں کی زیر نگرانی عملی تربیت کے ذریعے اپرنٹس شپ ٹریننگ کو فروغ دیتی ہے، جس میں ابھرتے ہوئے اور مستقبل کے لیے موزوں شعبے جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ، مشین لرننگ، روبوٹکس، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا اینالیٹکس اور گرین جابز شامل ہیں۔ صنعتوں اور سیکٹر اسکل کونسلز کی شراکت داری کے ذریعے اے آئی ، مشین لرننگ، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک وہیکلز، ڈرونز، قابل تجدید توانائی اور ٹیکنالوجی پر مبنی دیگر شعبوں میں بھی اپرنٹس شپ کے مواقع دستیاب ہیں۔ این اے پی ایس کے تحت، گزشتہ تین سالوں کے دوران آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لرننگ سے متعلقہ جاب رولز میں 3,175 اپرنٹسز کو شامل کیا گیا ہے اور 855 اپرنٹسز کو سند جاری کی جا چکی ہے۔
آئی ٹی آئی جدیدکاری اسکیم
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ (ڈی جی ٹی) انڈسٹریل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (آئی ٹی آئیز) کے نیٹ ورک کے ذریعے کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم (سی ٹی ایس) پر عمل درآمد کرتا ہے، جس کے تحت این ایس کیو ایف کے مطابق 170 پیشوں میں کاریگروں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ فی الوقت ملک میں کل 13,856 آئی ٹی آیز فعال ہیں، جن میں 3,328 سرکاری آئی ٹی آیز اور 10,528 نجی آئی ٹی آیز شامل ہیں۔
ڈی جی ٹی نے آئی ٹی آیز کے تربیت کاروں کے لیے ایک سالہ مدت کا "آرٹیفیشل انٹیلیجنس پروگرامنگ اسسٹنٹ" (اے آئی پی اے) کورس، 240 گھنٹوں کا جینیریٹو اے آئی کورس، اور 7.5 گھنٹوں کا اے آئی مائیکرو کریڈنشل کورس تیار کر کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو پیشہ ورانہ تربیت میں متعارف کرایا ہے۔ لازمی ایمپلائیبلٹی اسکلز کے نصاب میں بھی ترمیم کی گئی ہے تاکہ اس میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور گرین اسکلز کے ماڈیولز شامل کیے جا سکیں۔ کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم کے تحت اے آئی پی اے کورس ملک بھر کے 23 نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس (این ایس ٹی آئیز) میں چلایا جا رہا ہے۔
کابینہ نے ریاستی حکومتوں اور صنعت کے تعاون سے 'ہب اینڈ اسپوک' انتظامات کے ذریعے 1,000 آئی ٹی آیز کی اپ گریڈیشن کے لیے 60,000 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے "پردھان منتری اسکلنگ اینڈ ایمپلائیبلٹی ٹرانسفارمیشن تھرو اپ گریڈڈ آئی ٹی آیز" (پی ایم سیتو) اسکیم کی منظوری دے دی ہے۔ اس لاگت میں مرکزی حکومت کا حصہ 30,000 کروڑ روپے، ریاستوں کا حصہ 20,000 کروڑ روپے اور صنعت کا حصہ 10,000 کروڑ روپے ہے۔ اس اسکیم کے تحت، صنعت کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے ایک اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی ویز) کو ضروری خودمختاری فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ صنعت کے تقاضوں کے مطابق نصاب میں ترامیم تجویز کر سکے، جس میں نئے کورسز متعارف کرانا اور موجودہ کورسز کو اپ گریڈ کرنا شامل ہے۔ ان میں ابھرتے ہوئے شعبے جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا اینالیٹکس، روبوٹکس، انٹرنیٹ آف تھنگز، اور دیگر انڈسٹری 4.0 ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
مزید برآں، وزارت نے 'سینٹر آف ایکسیلنس – اسکلز (سی او ای- اسکلز) اور ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز (وی ٹی سی) کے پینل میں شمولیت کے لیے رہنما خطوط' جاری کیے ہیں، جو کہ مستقبل کے لیے موزوں اور صنعت کے تقاضوں کے مطابق ہنر مندی کی تربیت کی فراہمی کے لیے جدید، ٹیکنالوجی سے لیس تربیتی نظام فراہم کرتے ہیں۔ ان میں منتخب شعبوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لیس بنیادی ڈھانچے، ڈیجیٹل لرننگ ٹولز اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی لیبارٹریز کا قیام شامل ہے۔
ہنرمندی ترقیات اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کی جانب سے 25 ستمبر 2023 کو نوٹیفائی کردہ "نیشنل پروگرام آن آرٹیفیشل انٹیلیجنس (این پی اے آئی) اسکلنگ فریم ورک"، ایک سہ سطحی (تین درجاتی) طریقہ کار کے ذریعے اے آئی ہنر مندی کے لیے ایک قومی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس میں "سب کے لیے اے آئی" ، "بہت سوں کے لیے اے آئی" ، اور "کچھ لوگوں کے لیے اے آئی" شامل ہیں۔ یہ فریم ورک صنعت کے تقاضوں کے مطابق اے آئی کے منظم تعلیمی راستوں کا تصور پیش کرتا ہے تاکہ اے آئی سے لیس ہنر مندی، افرادی قوت کی ترقی اور تاحیات سیکھنے کے عمل کو فروغ دیا جا سکے، جس میں سیکھنے والوں کے متنوع گروہ اور معیشت کے مختلف شعبے شامل ہیں۔
فی الوقت، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، مشین لرننگ اور ڈیٹا سائنس سے متعلق این ایس کیو ایف کے مطابق اور این ایس کیو سی سے منظور شدہ 119 قابلیتیں موجود ہیں۔ ان میں اے آئی کے چار بنیادی تعلیمی کورسز اور "اسکلنگ فار اے آئی ریڈینس" پروگرام کے تحت شروع کیے گئے اے آئی اور اے آئی ایپلی کیشنز پر مبنی این ایس کیو ایف کے مطابق 50 کورسز شامل ہیں۔ یہ کورسز این سی وی ای ٹی سے منظور شدہ 'ایوارڈنگ باڈیز' کے ذریعے اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب پر فراہم کیے جاتے ہیں۔ ایس آئی ڈی ایچ پر موجود سور ڈیش بورڈ کے مطابق، 6 اگست 2026 تک سور پروگرام کے تحت کل 5,17,477 سیکھنے والوں نے رجسٹریشن کروائی ہے اور 1,00,664 سیکھنے والے کامیابی کے ساتھ کورسز مکمل کر کے سرٹیفکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔
اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب پر دستیاب ڈیٹا کے مطابق، پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس، مشین لرننگ اور ڈیٹا سائنس سے متعلق جاب رولز میں تربیت/رہنمائی حاصل کرنے والے اور سند یافتہ امیدواروں کی ریاست وار اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات، گزشتہ تین سالوں کے دوران کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم کے تحت جدید کورسز میں ہونے والے داخلے، اور نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لرننگ سے متعلقہ جاب رولز میں شامل اور سند یافتہ اپرنٹسز کی تفصیلات، بشمول اوڈیشہ، ضمیمہ- I میں دی گئی ہیں۔
حکومت نے دیہی، دور دراز اور پسماندہ اضلاع کے شہریوں کے لیے اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب سمیت ڈیجیٹل ہنر مندی کے پلیٹ فارمز تک مؤثر رسائی کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ایس آئی ڈی ایچ ایک ہی انٹرفیس کے ذریعے ہنر مندی، اسناد، اپرنٹس شپ اور روزگار سے متعلق مواقع تک رسائی کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔
30 جون 2026 تک کی اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کی رپورٹ کے مطابق، پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت، پسماندہ اضلاع میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلقہ جاب رولز میں 3,730 امیدواروں کو تربیت/رہنمائی فراہم کی گئی ہے اور 2,651 امیدواروں کو سند جاری کی جا چکی ہے، جبکہ قبائلی اضلاع میں اے آئی سے متعلقہ جاب رولز میں 3,435 امیدواروں کو تربیت/رہنمائی فراہم کی گئی ہے اور 2,331 امیدواروں کو سند جاری کی جا چکی ہے۔
ضمیمہ- I
پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس، مشین لرننگ اور ڈیٹا سائنس سے متعلق جاب رولز میں تربیت/رہنمائی حاصل کرنے والے اور سند یافتہ امیدواروں؛ گزشتہ تین سالوں کے دوران کرافٹس مین ٹریننگ اسکیم کے تحت جدید کورسز میں آئی ٹی آیز/این ایس ٹی آیز میں ہونے والے داخلوں؛ اور نیشنل اپرنٹس شپ پروموشن اسکیم (این اے پی ایس) کے تحت آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لرننگ سے متعلقہ جاب رولز میں شامل اور سند یافتہ اپرنٹسز کی ریاست وار اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لحاظ سے تفصیلات (اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب پر دستیاب ڈیٹا کے مطابق)
|
ریاست / مرکز کے زیر انتظام علاقہ
|
پی ایم کے وی وائی 4.0 تربیت/ رہنمائی یافتہ [1]
|
پی ایم کے وی وائی4.0 سرٹیفائیڈ
|
سی ٹی ایس جدید کورسز میں داخلہ (3 سال)
|
این اے پی ایس کے تحت شامل کیے گئے اپرنٹسز (آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لرننگ)
(3 سال)
|
این اے پی ایس کے تحت سند یافتہ اپرنٹسز (آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لرننگ)
(3 سال)
|
|
انڈمان اور نکوبار جزائر
|
-
|
-
|
105
|
-
|
-
|
|
آندھرا پردیش
|
2,363
|
1,205
|
5
|
11
|
0
|
|
اروناچل پردیش
|
49
|
-
|
21
|
-
|
-
|
|
آسام
|
583
|
246
|
281
|
-
|
-
|
|
بہار
|
2,352
|
1,676
|
1134
|
1
|
0
|
|
چنڈی گڑھ
|
50
|
48
|
116
|
4
|
0
|
|
چھتیس گڑھ
|
-
|
-
|
292
|
-
|
-
|
|
دہلی
|
144
|
23
|
467
|
6
|
0
|
|
گوا
|
-
|
-
|
125
|
1
|
0
|
|
گجرات
|
602
|
314
|
700
|
213
|
4
|
|
ہریانہ
|
1,064
|
676
|
293
|
196
|
148
|
|
ہماچل پردیش
|
241
|
143
|
423
|
-
|
0
|
|
جموں و کشمیر
|
2,012
|
1,304
|
420
|
-
|
0
|
|
جھارکھنڈ
|
48
|
35
|
1346
|
1
|
0
|
|
کرناٹک
|
12,757
|
10,240
|
15834
|
1,414
|
129
|
|
کیرالہ
|
609
|
208
|
836
|
14
|
0
|
|
لداڈ
|
-
|
-
|
54
|
-
|
-
|
|
مدھیہ پردیش
|
1,271
|
959
|
768
|
6
|
1
|
|
مہاراشٹر
|
1,422
|
538
|
4548
|
344
|
22
|
|
منی پور
|
40
|
-
|
20
|
-
|
-
|
|
میگھالیہ
|
35
|
-
|
41
|
-
|
-
|
|
میزورم
|
60
|
-
|
0
|
-
|
-
|
|
اوڈیشہ
|
763
|
138
|
4584
|
1
|
0
|
|
پڈوچیری
|
151
|
55
|
27
|
-
|
-
|
|
پنجاب
|
758
|
441
|
187
|
21
|
0
|
|
راجستھان
|
1,209
|
704
|
908
|
2
|
0
|
|
سکم
|
50
|
47
|
0
|
1
|
0
|
|
تمل ناڈو
|
3,316
|
2,157
|
20599
|
72
|
21
|
|
تلنگانہ
|
3,461
|
2,110
|
15329
|
827
|
527
|
|
دادر اور نگر حویلی اور دمن اور دیو
|
40
|
-
|
21
|
1
|
0
|
|
تری پورہ
|
316
|
186
|
24
|
-
|
1
|
|
اترپردیش
|
2,912
|
1,631
|
14585
|
24
|
1
|
|
اتراکھنڈ
|
809
|
539
|
220
|
7
|
1
|
|
مغربی بنگال
|
334
|
32
|
2082
|
8
|
1
|
|
کُل
|
39,821
|
25,655
|
86395
|
3,175
|
855
|
یہ جانکاری ہنرمندی ترقیات اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) میں وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری کے ذریعہ آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔
****
(ش ح –ا ب ن)
U.No:1961
(रिलीज़ आईडी: 2298684)
आगंतुक पटल : 5