خلا ء کا محکمہ
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: ارضیاتی مشاہداتی سیارچوں کے جھرمٹ کے لیے عوامی نجی شراکت داری (پی پی پی) ماڈل

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 2:45PM by PIB Delhi

حکومت نے ملک میں زمین کے مشاہدے کی خلائی صلاحیتوں اور خلائی معیشت کو فروغ دینے، اور ملک ہی میں ایک خود کفیل اور مقامی ارتھ آبزرویشن ایکو سسٹم قائم کرنے کے مقصد سے، انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر کے ذریعے، ارتھ آبزرویشن سیارچوں کے جھرمٹ کی تیاری، تنصیب اور آپریشنز کے لیے ایک عوامی نجی شراکت داری (پی پی پی) فریم ورک تشکیل دیا ہے۔

اس فریم ورک کے تحت، غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) بشمول نجی صنعت، اسٹارٹ اپس اور جہاں ضروری ہو، تعلیمی و تحقیقی اداروں کو اس قابل بنایا گیا ہے کہ وہ مکمل طور پر زمین کے مشاہدے کے سیارچوں کے جھرمٹ کو خود ڈیزائن کریں، تیار کریں، ان کے مالک بنیں اور انہیں آپریٹ کریں۔ متوقع کردار درج ذیل ہیں:

i۔سیارچوں کی تیاری: بھارتی صنعت کی جانب سے ارتھ آبزرویشن سیارچوں کی ڈیزائننگ، بناوٹ، انٹیگریشن اور ٹیسٹنگ، جس میں 4 بینڈز والے 5 الٹرا ہائی ریزولوشن آپٹیکل سیارچے، 8 بینڈز والے 3 ملٹی اسپیکٹرل سیارچے، 250 بینڈز والے 2 ہائپر اسپیکٹرل آپٹیکل سیارچے اور ایکس-بینڈ میں کام کرنے والے 2 سنتھیٹک اپرچر راڈار سیارچے شامل ہیں۔

ii۔ لانچنگ سروسز : سیارچوں کو مدار میں بھیجنے کے لیے بھارتی لانچ وہیکلز (نجی/ اسرو) کا استعمال۔

iii۔ ڈیٹا کی تیاری اور زمینی انفراسٹرکچر: نجی کنسورشیم کی جانب سے گراؤنڈ اسٹیشنز، مشن کنٹرول، اور ڈیٹا حاصل کرنے و پروسیس کرنے کے بنیادی ڈھانچے کا قیام۔

iv۔ ڈاؤن اسٹریم ایپلی کیشنز : سرکاری محکموں، تزویراتی صارفین، اور تجارتی گاہکوں کے لیے ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس، اینالیٹکس، اور فیصلہ سازی میں مددگار ٹولز کی تیاری۔

v۔ تعلیمی اور تحقیقی و ترقیاتی روابط: صلاحیتوں کو بڑھانے اور نئی ایپلی کیشنز تیار کرنے کے لیے تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے ساتھ باہمی تعاون۔

 

حکومت کی جانب سے ارتھ آبزرویشن اور اس سے منسلک خلائی مشنز میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے درج ذیل مالی امداد، پالیسی مراعات اور ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کیے گئے ہیں:

 

i۔ انترکش وینچر کیپیٹل فنڈ: خلائی شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو تیز کرنے کے لیے 1,000 کروڑ روپے کے "انترکش وینچر کیپیٹل فنڈ" کا اعلان کیا گیا ہے۔

ii۔ ٹیکنالوجی ایڈوپشن فنڈ: 500 کروڑ روپے کا فنڈ، جو اسٹارٹ اپس/ایم ایس ایم ایز کے لیے پروجیکٹ کی لاگت کا 60 فیصد تک اور بڑی صنعتوں کے لیے 40 فیصد تک مالی امداد فراہم کرتا ہے۔ اس کی حد زیادہ سے زیادہ 25 کروڑ روپے فی پروجیکٹ ہے، تاکہ ارتھ آبزرویشن سے متعلقہ ٹیکنالوجیز سمیت ابتدائی مرحلے کی خلائی ٹیکنالوجیز کو تجارتی سطح پر لایا جا سکے۔

iii۔ سیڈ فنڈ اسکیم: اسٹارٹ اپس اور غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کو ایک کروڑ روپے تک کے گرانٹس کی فراہمی، جس میں زراعت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، شہری منصوبہ بندی اور بحری شعبے کی آگاہی میں ایپلی کیشنز کی تیاری شامل ہے۔

iv۔ مشترکہ تکنیکی سہولیات: 500 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ مشترکہ تکنیکی سہولیات کا قیام، اور ساتھ ہی ریاستی حکومتوں کو "اسپیس مینوفیکچرنگ کلسٹرز" (خلائی پیداواری مراکز) قائم کرنے کے لیے تعاون کی فراہمی۔

v۔ امتیازی قیمتوں کی پالیسی: بھارتی سیارچوں کا ڈیٹا خریدنے والے غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کے لیے قیمتوں کی مختلف اور ترجیحی پالیسی، تاکہ ارتھ آبزرویشن (ای او) ڈیٹا اور خدمات کی یقینی مانگ برقرار رکھی جا سکے۔

vi۔ ٹیکنالوجی کی منتقلی: اسرو سے غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کو ٹیکنالوجی کی منتقلی، جس میں سیارچوں کے ذیلی نظام اور لانچ وہیکل کی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

vii۔ سہولت کاری کا تعاون:  اس صنعت کو بغیر کسی معاوضے کے تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے ان-اسپیس کی طرف سے "مقیم ماہرین"  کی تعیناتی، اور "پری انکیوبیشن انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ پروگرام"۔

viii۔ ادارہ جاتی سنگل ونڈو نظام: ان-اسپیس تمام غیر سرکاری اداروں (این جی ایز) کی خلائی سرگرمیوں، بشمول ارتھ آبزرویشن (ای او) مشنز کے لیے مرکزی منظوری، فروغ اور سہولت کاری کے ادارے کے طور پر کام کرتا ہے۔

 

ان اقدامات کو "انڈین اسپیس پالیسی 2023" سے مزید تقویت ملتی ہے، جو خلائی شعبے میں نجی اداروں کی شرکت کے لیے ایک جامع ریگولیٹری اور کاروبار میں آسانی کا فریم ورک فراہم کرتی ہے۔

ان-اسپیس نے ایک نجی کنسورشیم، جس کا نام "الائیڈ آربٹس پرائیویٹ لمیٹڈ" ہے، کے ساتھ پی پی پی ماڈل کے تحت ملک کے پہلے مقامی اور مکمل طور پر تجارتی ارتھ آبزرویشن سیارچوں کے جھرمٹ کے لیے ایک معاہدے کی منظوری دے دی ہے اور اس پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

i۔ الائیڈ آربٹس پرائیویٹ لمیٹڈ کنسورشیم: اس اتحاد کی قیادت "پکسل اسپیس انڈیا"  کر رہی ہے، جبکہ اس میں دھرووا اسپیس، پیئر سائٹ اسپیس اور سیٹ شور اینالیٹکس انڈیا شامل ہیں۔

ii۔ دائرہ کار : مقامی زمینی انفراسٹرکچر کی مدد سے 12 سیارچوں پر مشتمل ایک ایسے جھرمٹ کو ڈیزائن کرنا، تیار کرنا، اس کا مالک بننا اور اسے آپریٹ کرنا جو پینکرومیٹک، ملٹی اسپیکٹرل، ہائپر اسپیکٹرل اور سنتھیٹک اپرچر راڈار (ایس اے آر) کی صلاحیتوں سے لیس ہو۔

iii۔ تخمینہ شدہ سرمایہ کاری: 1,200 کروڑ روپے سے زائد کی رقم، جو کنسورشیم کی طرف سے سرمایہ کاری کی جائے گی۔

iv۔ ٹائم لائن : اس سیارچوں کے جھرمٹ کو سال 2029 تک تیار اور فعال (آپریشنل) کیا جانا ہے۔

v۔ تیاری اور لانچنگ: تمام سیارچے مقامی طور پر تیار کیے جائیں گے اور انہیں بھارتی لانچ وہیکلز کے ذریعے خلل میں بھیجا جائے گا، جبکہ اس کا مشن کنٹرول بھی بھارت ہی میں واقع ہوگا۔

 

توقع ہے کہ پی پی پی پر مبنی ارتھ آبزرویشن کے یہ سیارچوں کے جھرمٹ درج ذیل طریقوں سے قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنائیں گے:

 

i۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ:  قبل از وقت وارننگ، نقصان کے تخمینے اور آفت کے بعد امدادی سرگرمیوں میں باہمی تعاون کے لیے روزانہ کی بنیاد پر، قریباً حقیقی وقت میں بار بار کی اعلیٰ معیار کی تصاویر کی فراہمی۔

ii۔ زراعت: ملٹی اسپیکٹرل اور ہائپر اسپیکٹرل ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے فصلوں کی صحت کی نگرانی، پیداوار کا تخمینہ، اور مٹی و پانی کی کمی کی نشاندہی، جو کسانوں کی فلاح و بہبود اور غذائی تحفظ کی اسکیموں میں مددگار ثابت ہوگی۔

iii۔ موسمیاتی نگرانی : زمین کے استعمال/زمین کے پھیلاؤ میں تبدیلی، گلیشیئرز اور ساحلی پٹی کی صورتحال، اور ماحولیاتی عوامل جیسے موسمیاتی اثرات کی بہتر نگرانی، تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف بھارت کے اقدامات اور عالمی رپورٹس کے وعدوں کو پورا کیا جا سکے۔

iv۔ شہری منصوبہ بندی : سمارٹ سٹی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں کے لیے شہری انفراسٹرکچر کی بہتر میپنگ، زمین کے ریکارڈ اور منصوبہ بندی کے دیگر عوامل کی فراہمی۔

v۔ سرحدی نگرانی : سنتھیٹک اپرچر راڈار (ایس اے آر) اور الٹرا ہائی ریزولوشن آپٹیکل صلاحیتوں کے ذریعے ہر طرح کے موسم اور دن رات کی نگرانی کی فراہمی، تاکہ تزویراتی اور سیکیورٹی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور غیر ملکی سیارچوں کی تصاویر پر انحصار کم ہو۔

vi۔ خلائی معیشت : توقع ہے کہ یہ اقدامات مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط کریں گے، ہنر مند افراد کے لیے روزگار پیدا کریں گے، نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کریں گے، اور عالمی خلائی معیشت میں بھارت کے حصے کو نمایاں طور پر بڑھانے کے حکومتی ہدف میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

مجموعی طور پر، زمین کے مشاہدے کے لیے پی پی پی فریم ورک کا مقصد ایک خود کفیل (آتم نربھر) اور ڈیٹا کے لحاظ سے خودمختار ارتھ آبزرویشن ایکو سسٹم قائم کرنا ہے۔ اس نظام میں نجی شعبہ سیارچوں کی تیاری اور ڈاؤن اسٹریم انوویشن کا بنیادی محرک ہوگا، جبکہ حکومت بدستور سہولت کار، ریگولیٹر اور مرکزی خریدار کا کردار ادا کرتی رہے گی۔

یہ جانکاری سائنس اور تکنالوجی  اور ارضیاتی سائنس کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)؛ وزیر اعظم کے دفتر، عملہ عوامی شکایات اور پنشن؛ ایٹمی توانائی اور خلاء کے محکمے کے وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی گئی۔

*****

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:1958


(रिलीज़ आईडी: 2298617) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी