وزارتِ تعلیم
پارلیمانی سوال: یو جی سی کی فنڈنگ اور ادارہ جاتی خود مختاری
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 4:47PM by PIB Delhi
وزارتِ تعلیم کے ذریعے جاری کردہ اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے ذریعے 2021-22 سے 2025-26 کے دوران استعمال کیے گئے کُل فنڈز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
(کروڑ روپے میں)
|
سال
|
2021-22
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
|
جاری کردہ فنڈ
|
13839.43
|
16859.87
|
19054.74
|
19770.47
|
20527.43
|
|
اخراجات
|
13606.52
|
16080.55
|
18676.31
|
19742.07
|
20507.48
|
2021-22 سے 2025-26 کی مدت کے دوران یو جی سی کو جاری کردہ کُل فنڈز میں سے، بالترتیب 73,148.65 کروڑ روپے اور 2,743.04 کروڑ روپے کے فنڈز سینٹرل یونیورسٹیوں اور ڈیمڈ ٹو بی یونیورسٹیوں کو یو جی سی کے ذریعے جاری کیے گئے ہیں۔
راشٹریہ اُچّتر شکشا ابھیان (روسا)، ایک مرکزی امدادی اسکیم (سی ایس ایس)، 2013 میں اہل ریاستی اعلیٰ تعلیمی اداروں کو فنڈنگ فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کی گئی تھی۔ اس اسکیم کا مقصد اعلیٰ معیار کے ساتھ اعلیٰ تعلیم تک بڑے پیمانے پر رسائی حاصل کرنا ہے۔ روسا کے تحت بھارت سرکار کی اعلیٰ تعلیم کی وزارت کے ذریعے ریاستی یونیورسٹیوں اور کالجوں کو فنڈنگ فراہم کی جاتی ہے۔
بھارت سرکار نے 2023-24 سے 2025-26 کی مدت کے لیے پردھان منتری اُچّتر شکشا ابھیان (پی ایم-اُشا) کی شکل میں جون 2023 میں روسا کا تیسرا مرحلہ شروع کیا۔ اس اسکیم کے تحت، ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے مدد فراہم کی جاتی ہے، جس میں ہاسٹل، تعلیمی اور انتظامی عمارتوں، لیبارٹریوں اور اعلیٰ تعلیم میں رسائی اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے درکار دیگر سہولیات کی تعمیر شامل ہے۔
گذشتہ پانچ مالی برسوں اور موجودہ مالی سال کے دوران پی ایم-اُشا/روسا کے تحت ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو جاری کردہ مرکزی حصے کی سال وار تفصیلات درج ذیل ہیں:
(کروڑ روپے میں)
|
سال
|
2021-22
|
2022-23
|
2023-24
|
2024-25
|
2025-26
|
2026-27 (06.08.2026 تک)
|
|
جاری کردہ مرکزی حصہ
|
249.13
|
359.50
|
181.06
|
350.83
|
864.25
|
507.00
|
روسا کے نفاذ کے بعد، یو جی سی ریاستی یونیورسٹیوں کو فی الحال کوئی ترقیاتی گرانٹ فراہم نہیں کرتا ہے۔ 12ویں منصوبہ بندی کی مدت کے بعد، یو جی سی نے ریاستی یونیورسٹیوں، بشمول نجی یونیورسٹیوں کو، صرف پہلے منظور شدہ یو جی سی اسکیموں کے تحت ادائیگی کی بنیاد پر تصفیہ کے لیے فنڈز جاری کیے ہیں۔ اس اخراجات کے لیے، 2021-22 سے 2025-26 کی مدت کے دوران یو جی سی کے ذریعے کُل 931.44 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، اسی مدت کے دوران پنجاب یونیورسٹی، جو ایک بین ریاستی کارپوریٹ ادارہ ہے، کو مقررہ تنخواہ گرانٹ کے طور پر 1818.46 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی۔
یو جی سی (یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اساتذہ اور دیگر تعلیمی عملے کی تقرری کے لیے کم از کم اہلیت اور اعلیٰ تعلیم میں معیار کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر اقدامات) ضوابط، 2018، جو 18 جولائی 2018 کو مطلع کیے گئے تھے، دیگر باتوں کے علاوہ، اعلیٰ تعلیم میں معیار کو برقرار رکھنے کے ایک اقدام کے طور پر یونیورسٹی اور کالج کے اساتذہ، لائبریرین، اور جسمانی تعلیم اور کھیلوں کے ڈائریکٹرز کی تقرری کے لیے کم از کم اہلیت اور دیگر سروس کی شرائط فراہم کرتے ہیں۔
قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) ایک ’ہلکے لیکن سخت‘ ریگولیٹری فریم ورک کا تصور کرتی ہے تاکہ آڈٹ اور عوامی انکشاف کے ذریعے تعلیمی نظام کی سالمیت، شفافیت، اور وسائل کی کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے جب کہ خود مختاری، اچھی حکم رانی، اور تفویضِ اختیارات کے ذریعے جدت طرازی اور غیر روایتی خیالات کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ اسی کے مطابق، وزارت نے 15 دسمبر 2025 کو لوک سبھا میں وِکست بھارت شکشا ادھیستھان بل، 2025 پیش کیا۔ اس بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی ایک مشترکہ کمیٹی کو بھیجا گیا ہے۔
یہ اطلاع آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں وزیر مملکت برائے تعلیم، ڈاکٹر سُکانتا مجومدار نے دی۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 1972
(रिलीज़ आईडी: 2298596)
आगंतुक पटल : 6