ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: تیسرے فریق کے ذریعے نیو کلیئر بجلی گھروں کے سکیورٹی آڈٹس
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 3:06PM by PIB Delhi
وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، نیو کلیئر توانائی اور خلاء کے امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ نیو کلیئر بجلی گھروں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے ہیں۔ کڈنکولم سمیت تمام نیوکلیئر بجلی گھروں میں باقاعدگی سے سکیورٹی کے جائزے کا کام کیا جاتا ہے ۔ یہ جائزے اندرونی طور پر بھی کیے جاتے ہیں اور نیو کلیئر توانائی ضابطہ جاتی بورڈ ( اے ای آر بی) کی جانب سے بھی کئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ، نیو کلیئر بجلی گھروں کے جائزے بیرونی سرکاری اداروں کی جانب سے بھی کیے جاتے ہیں۔ ان جائزوں کے دوران ، سامنے آنے والے مشاہدات کا جائزہ لیا جاتا ہے، ان کی نگرانی کی جاتی ہے اور ضابطوں کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات اور اپ گریڈیشن کی جاتی ہے۔
تمام نیو کلیئر بجلی گھروں میں جدید ترین حفاظتی انتظامات موجود ہیں۔ دیگر اقدامات کے علاوہ ، تمام فعال نیو کلیئر بجلی گھروں میں الیکٹرک حفاظتی اور نگرانی کے نظام نصب ہیں، جن میں احاطے میں غیر مجاز داخلے کا پتہ لگانے کا نظام، رسائی پر قابو پانے کا نظام، ایکس رے کے ذریعے سامان کی جانچ کا نظام اور سی سی ٹی وی نگرانی کا نظام وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام نظام نیو کلیئر بجلی گھروں کے مجموعی حفاظتی ڈھانچے کا لازمی حصہ ہیں۔ نیو کلیئر توانائی ضابطہ جاتی بورڈ ( اے ای آر بی ) تمام نیو کلیئر بجلی گھروں کی نیو کلیئر سکیورٹی کے حوالے سے ضابطہ جاتی معائنہ بھی کرتا ہے۔
نیو کلیئر تنصیبات کی سائبر سکیورٹی کو انتہائی ترجیح دی جاتی ہے۔ سائبر خطرات کا بروقت پتہ لگانے اور ان سے نمٹنے کے لیے مسلسل نگرانی اور مانیٹرنگ کا مؤثر نظام موجود ہے۔ رسائی پر قابو پانے کے اقدامات، باقاعدہ سکیورٹی آڈٹ، کمزوریوں کا جائزہ، سائبر واقعات سے نمٹنے کے طریقۂ کار اور صلاحیت سازی کے پروگراموں سمیت مناسب احتیاطی اور حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، بھارتی کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم ( سی ای آر ٹی – اِن ) ابھرتے ہوئے سائبر خطرات اور کمزوریوں کے بارے میں الرٹ اور مشورے جاری کرکے، متاثرہ اداروں کے ساتھ واقعات سے نمٹنے کے لیے رابطہ کاری اور اصلاحی اقدامات سے متعلق رہنمائی فراہم کرکے اور قومی سائبر کوآرڈینیشن سینٹر ( این سی سی سی ) کے ذریعے ملک کی مجموعی سائبر سکیورٹی کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
ضابطہ جاتی ادارے سے منظور شدہ ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے پروجیکٹس ( ای پی پیز ) کڈنکولم سمیت تمام نیو کلیئر بجلی گھروں کے مقامات پر نافذ کیے گئے ہیں۔ مختلف متعلقہ فریقوں، جن میں مقامی انتظامیہ، سلامتی کے ادارے اور نیو کلیئر بجلی گھر کے حکام شامل ہیں، ان کی شرکت کے ساتھ باقاعدگی سے مشقیں بھی کی جاتی ہیں۔ ان مشقوں سے حاصل ہونے والی آراء کو ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے منصوبوں کی جانچ اور ان میں بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
فی الحال، بجلی گھر کے احاطے سے باہر ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی تیاری کی مشقیں، یعنی ٹیبل ٹاپ مشق، مربوط کمانڈ، کنٹرول اور ریسپانس (آئی سی سی آر) مشق اور فرضی مشق، بالترتیب ہر دو سال، ہر تین سال اور قومی آفات سے نمٹنے کی اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مقررہ شیڈول کے مطابق کی جاتی ہیں۔ نیو کلیئر بجلی گھروں کے حکام مقررہ وقفے کے مطابق یہ مشقیں باقاعدگی سے کر تے ہیں۔
کڈنکولم نیو کلیئر بجلی گھر کے مقام پر آئی سی سی آر مشق 15 اپریل ، 2025 ء کو منعقد کی گئی تھی۔ دیگر تمام نیو کلیئر بجلی گھروں کے مقامات پر بھی ستمبر ، 2024 ء سے اب تک ، ان کی تازہ ترین آئی سی سی آر مشقیں منعقد کی جا چکی ہیں۔ کلپکّم کے مقام پر بجلی گھر کے احاطے سے باہر ہنگامی مشق 17 جولائی ، 2026 ء کو مربوط کمانڈ، کنٹرول اور ریسپانس (آئی سی سی آر) طریقے سے منعقد کی گئی، جس میں پریشرائزڈ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر) سے ہنگامی صورتِ حال پیدا ہونے کا منظرنامہ شامل کیا گیا اور ضلعی انتظامیہ نے بھی اس مشق میں شرکت کی۔
..................................................... ...................................................
) ش ح – م ع - ع ا )
U.No. 1926
(रिलीज़ आईडी: 2298504)
आगंतुक पटल : 7