سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کی مالی اعانت اور سرمایہ کاری
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 4:15PM by PIB Delhi
سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کے تحت حکومت بنیادی طور پر قومی شاہراہوں کی تعمیر و ترقی اور دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے۔ حکومت نے ملک میں لاجسٹکس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کو ترجیح دی ہے، جن میں رسائی پر قابو رکھنے والی تیز رفتار قومی راہداریوں اور ایکسپریس ویز کی تعمیر، ایک لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں کے لیے رنگ روڈ اور بائی پاس کی تعمیر، خصوصاً پانچ لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں کو ترجیح دینا، ساحلی سڑکوں کی تعمیر، بندرگاہوں کی وزارت کی ترجیحات کے مطابق بندرگاہوں کو بہتر رابطہ فراہم کرنا، شہری ہوابازی کی وزارت کی ترجیحات کے مطابق ہوائی اڈوں تک رابطہ قائم کرنا اور نیشنل انڈسٹریل کوریڈور ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این آئی سی ڈی سی) کی ترجیحات کے مطابق صنعتی مراکز کو سڑکوں سے جوڑنا شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے مواقع کو وسیع کرنا ہے۔
مزید نجی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور سرمایہ کاری کے مواقع کو زیادہ پرکشش بنانے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں سرکاری و نجی شراکت داری (پی پی پی) منصوبوں کے لیے ماڈل رعایتی معاہدے میں اصلاحات، ٹول آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (ٹی او ٹی) کے طریقۂ کار کے ذریعے قومی شاہراہوں سے آمدنی حاصل کرنے کے لیے ماڈل معاہدوں میں اصلاحات، سرمایہ کاری کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے پبلک انفرا اسٹرکچر انویسٹمنٹ ٹرسٹ (انویٹ) کا آغاز، اور رعایت یافتگان، مالیاتی اداروں اور بڑے سرکاری اداروں کے ساتھ اسٹیک ہولڈر کانفرنسوں کا انعقاد شامل ہے۔ ان کانفرنسوں کے ذریعے نجی سرمایہ کاروں کے سامنے سرمایہ کاری کے مواقع پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاروں کے خدشات کو سمجھنے اور انہیں دور کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔
قومی شاہراہوں پر تعمیر، آپریشن اور منتقلی (بی او ٹی) منصوبوں کے لیے معیاری بولی اور رعایتی دستاویزات میں کی گئی اہم ترامیم درج ذیل ہیں:
- بولی دہندگان کی اہلیت میں اضافہ کرتے ہوئے فنڈ ہاؤسز کو ان کی مالی استطاعت کی بنیاد پر شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔ منصوبہ کامیابی سے حاصل ہونے کے بعد انہیں کام کی انجام دہی کے لیے مطلوبہ تکنیکی تجربہ رکھنے والے تعمیراتی و انجینئرنگ ٹھیکیداروں کی خدمات حاصل کرنا ہوں گی۔
- ماضی میں سامنے آنے والے مقدمات اور معاہدوں کی تشریحات سے حاصل ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور معاہداتی امور میں مزید وضاحت لانے کے لیے ملکیت میں تبدیلی، ٹارگیٹ ٹریفک، نقصانات، معاہدے کی خلاف ورزی پر معاوضہ، ناگزیر حالات کے باعث ہونے والے اخراجات کا معاوضہ، گنجائش میں اضافے والے منصوبوں کی تعمیر کے دوران تعمیراتی معاونت کی ادائیگی، سالانہ پاسز کے لیے معاوضہ اور کام کے دائرۂ کار میں تبدیلی سے متعلق دفعات میں ترمیم کی گئی ہے۔
- تجارتی آپریشن شروع ہونے کی تاریخ (سی او ڈی) سے قبل، ایسے منصوبوں میں جہاں عملی پیش رفت 20 فیصد یا اس سے زیادہ ہو، معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں معاوضے کی ادائیگی کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ اس سے رعایت یافتہ ادارے اور قرض فراہم کرنے والے مالیاتی اداروں، دونوں کے مفادات کا تحفظ ہوگا۔
- واجب الادا قرض کے تعین سے متعلق دفعات کو مزید آسان اور واضح بنایا گیا ہے، تاکہ ابہام دور کیا جا سکے اور ان دفعات کے اطلاق میں زیادہ یقین دہانی حاصل ہو۔
- تنازعات کے حل کے طریقۂ کار کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ تنازعات کے حل کے بورڈ کو ختم کر دیا گیا ہے۔ 10 کروڑ روپے سے کم مالیت کے تنازعات کو ثالثی کے ذریعے، جبکہ 10 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ مالیت کے تنازعات کو مفاہمت یا ثالثی کے ذریعے حل کیا جائے گا۔
یہ معلومات سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کےمرکزی وزیر جناب نتن گڈکری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
******
(ش ح۔ع ح۔م ذ)
U.R .1936
(रिलीज़ आईडी: 2298499)
आगंतुक पटल : 7