ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
پی ایم کے وی وائی کے تحت ہنر مندی کا فروغ
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 3:38PM by PIB Delhi
وزیر اعظم کوشل وکاس یوجنا (پی ایم کے وی وائی) 4.0 ہنرمندی کی ترقی کے لیےمانگ پر مبنی طریقۂ کار اختیار کرتی ہے، جس کے تحت تربیتی پروگرام صنعت اور ابھرتے ہوئے شعبوں کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیے جاتے ہیں۔ اس اسکیم میں جدید اور مستقبل پر مبنی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں ہنرمندی پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ڈرون ٹیکنالوجی، 5 جی، شمسی توانائی، اضافی مینوفیکچرنگ (تھری ڈی پرنٹنگ)، سیمی کنڈکٹرز اور انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) جیسے شعبوں میں 600 سے زیادہ کورسز شروع کیے گئے ہیں۔ 30 جون 2026 تک ان شعبوں میں 5.44 لاکھ سے زیادہ امیدواروں کو تربیت دی جا چکی ہے۔ پی ایم کے وی وائی 4.0 کا مقصد امیدواروں کو صنعت کی ضروریات کے مطابق ہنر سے آراستہ کرنا اور آن دی جاب ٹریننگ (او جے ٹی) سے منسلک ہنرمندی کے کورسز کے ذریعے انہیں کام کی جگہ پر عملی تجربہ فراہم کرتے ہوئے روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی کے مختلف مواقع اختیار کرنے کے قابل بنانا ہے۔
پی ایم کے وی وائی 4.0 ایک مانگ پر مبنی اسکیم ہے، جس کے تحت ہنرمندی کے خلا کو مدنظر رکھتے ہوئے پروجیکٹ نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کی بنیاد پر تربیت کے اہداف منظور کیے جاتے ہیں۔ پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت 30 جون 2026 تک ڈرون ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور سبز توانائی کی دیکھ بھال سمیت مستقبل کی اور نئی نسل کی ملازمتوں سے متعلق شعبوں میں تربیت کے لیے 414.86 کروڑ روپے استعمال کیے جا چکے ہیں۔نئی نسل کے کورسز کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ معیارات کے تحت فی گھنٹہ 49 روپے کی موجودہ زیادہ سے زیادہ تربیتی لاگت تربیت فراہم کرنے والوں کو دی جاتی ہے، تاکہ جدید نوعیت کی ملازمتوں کے لیے ضروری مناسب تربیتی بنیادی ڈھانچے، آلات، سازوسامان اور اہل تربیت کاروں کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
ہنرمندی کی ترقی کے نظام میں صنعت کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے، تاکہ تربیتی پروگرام بدلتی ہوئی مارکیٹ اور صنعت کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ اس سلسلے میں کیے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
1. نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (این سی وی ای ٹی)تمام ملازمتوں کے عہدوں اور اہلیتوں کی صنعت سے تصدیق کو لازمی قرار دیتی ہے، جبکہ ان کی تیاری اور وقتاً فوقتاً نظرثانی میں صنعت کی شمولیت کو بھی یقینی بناتی ہے۔
2. صنعت کی قیادت میں کام کرنے والی 36 شعبہ جاتی ہنرمندی کونسلیں آجروں اور صنعت سے وابستہ متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر ابھرتی ہوئی ہنرمندی کی ضروریات کی نشاندہی کرتی ہیں اور قومی ہنرمندی اہلیت کے فریم ورک کے مطابق ملازمتوں کے عہدوں اور نصاب کو تیار یا تازہ کرتی ہیں۔
3. 15 سے زائد صنعتی اداروں کو سند جاری کرنے والے اداروں کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور یہ صنعت کی ضروریات کے مطابق ملازمتوں کے عہدوں اور اہلیتوں کی تیاری میں شامل ہیں۔ ان میں ایچ سی ایل ٹیکنالوجیز، آئی بی ایم، بجاج فِن سَرو اور مائیکروسافٹ جیسے ادارے شامل ہیں۔
4. مئی 2024 سے ہنرمندی کی ترقی اور کاروباری صلاحیتوں کی ترقی کی وزارت نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 120 سے زائد صنعتی متعلقہ فریقوں کے ساتھ 13 سے زیادہ مشاورتی اجلاس منعقد کیے ہیں، جن کا مقصد ہنرمندی کی ضروریات، مخصوص تربیتی تقاضوں اور ٹیکنالوجی کو اپنانے سے متعلق تجاویز حاصل کرنا تھا۔ ان مشاورتی اجلاسوں میں لارسن اینڈ ٹوبرو، سوئگی اور کریڈائی جیسے اداروں نے بھی شرکت کی۔
پی ایم کے وی وائی 4.0 کے تحت آن دی جاب ٹریننگ (او جے ٹی) کو قلیل مدتی ٹریننگ (ایس ٹی ٹی) پروگراموں میں شامل کیا گیا ہے او جے ٹی تمام ملازمت کے کرداروں کے لیے لازمی ہے جہاں یہ نیشنل کونسل فار ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (این سی وی ای ٹی) کے ذریعے تجویز کیا جاتا ہے اور امیدواروں کی تشخیص مقررہ او جے ٹی جزو کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد ہی کی جاتی ہے ۔ او جے ٹی کی مدت کا تعین متعلقہ ملازمت کے کردار کے منظور شدہ کوالیفیکیشن پیک (کیو پی) کے مطابق کیا جاتا ہے ۔ مزید برآں، پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 تربیتی پروگراموں میں لازمی روزگار سے متعلق مہارتوں کے ماڈیول شامل کرکے اور اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب کے ذریعے اپنی رفتار کے مطابق ڈیجیٹل تعلیم کے مواقع تک رسائی فراہم کرکے امیدواروں کے روزگار کے امکانات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرتی ہے۔
ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای)نے پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 کے تحت نگرانی اور معیار کی یقین دہانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کوشل سمیکشا کیندر(کے ایس کے ) قائم کیا ہے۔ اس مرکز کے ذریعے وزارت، اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ انٹرپرینیورشپ کے علاقائی ڈائریکٹوریٹ (آر ڈی ایس ڈی ای)، ریاستی ہنرمندی ترقیاتی مشنز (ایس ایس ڈی ایم) اور نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی)کی نگرانی کرنے والی ٹیموں کے افسران اسکل انڈیا مراکز کا زمینی اور آن لائن معائنہ کرکے مسلسل نگرانی کو یقینی بناتے ہیں۔
یہ معائنے اسکیم کے رہنما خطوط کی تعمیل کا جائزہ لینے، عمل درآمد میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنے اور امیدواروں کی حاضری میں تضادات سمیت بے ضابطگیوں کا پتہ لگانے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا 4.0 کے نگرانی سے متعلق رہنما خطوط کے تحت، معائنے کے دوران سامنے آنے والے نتائج اور آدھار سے مربوط بایومیٹرک حاضری نظام (اے ای بی اے ایس)کے ذریعے درج حاضری کے ریکارڈ میں فرق کو سنگین نوعیت کی عدم تعمیل تصور کیا جاتا ہے۔ ایسی خلاف ورزیوں پر مناسب کارروائی کی جاتی ہے، جس میں تربیتی سرگرمیوں کو معطل کرنا، ادائیگیاں روکنا اور پہلے سے کی گئی ادائیگیوں کی وصولی، منظوری یا وابستگی منسوخ کرنا، متعلقہ اداروں کو بلیک لسٹ کرنا اور سنگین بے ضابطگیوں کی صورت میں ایف آئی آر درج کرنے سمیت قانونی کارروائی شروع کرنا شامل ہے۔
یہ معلومات ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای) کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب جینت چودھری نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں ۔
********
) ش ح ۔ ش آ۔ن ع)
U.No. 1923
(रिलीज़ आईडी: 2298403)
आगंतुक पटल : 5