وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

ماہی گیری کے شعبے کا بڑے پیمانے پر فروغ

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 1:35PM by PIB Delhi

ماہی گیری کا شعبہ ملک میں زرعی شعبے سے وابستہ تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں سے ایک ہے اور اقتصادی ترقی، غذائی و تغذیاتی تحفظ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، روزی روٹی کے ذرائع فراہم کرنے اور برآمدات سے آمدنی حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہندوستان کے آئین کے ساتویں شیڈول کی فہرست دوم کے اندراج 21 کے تحت ‘‘ماہی گیری’’ ریاستی حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے، جبکہ آئین کے ساتویں شیڈول کی فہرست اول کے اندراج 57 کے تحت ‘‘علاقائی سمندری حدود سے باہر ماہی گیری اور ماہی گیری سے متعلق سرگرمیاں’’مرکزی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتی ہیں۔ مالی سال 2023-24 کے دوران ماہی گیری کے شعبے نے زرعی مجموعی قدرِ افزوده میں تقریباً 7.43 فیصد اور ملک کی مجموعی قدرِ افزوده میں تقریباً 1.09 فیصد کا  تعاون ہے ۔

ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے ماہی گیری کے محکمے نے ملک میں ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے کی جامع ترقی، نیز ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں ماہی گیری اور آبی زراعت کی ترقی سے متعلق مختلف اسکیموں کا نفاذ شامل ہے، جن میں (1) پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا، (2) ماہی گیری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا فنڈ، اور (3) پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت ہند نے مالی سال 2018-19 سے ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ کی سہولت بھی فراہم کی ہے، تاکہ وہ اپنی کاروباری ضروریات کے لیے درکار سرمایہ پورا کر سکیں۔

ماہی گیری کے محکمے، حکومت ہند کی جانب سے نافذ کی جانے والی پردھان منتری متسیا کسان سمردھی سہ یوجنا کے تحت دیگر اقدامات کے علاوہ، کسانوں کو آبی زراعت کی بیمہ پالیسی خریدنے کے لیے ایک  مالی مددبھی فراہم کی جاتی ہے۔ آبی زراعت کی بیمہ کے لیے ایک مرتبہ دی جانے والی یہ مالی مدد ادا کیے گئے بیمہ پریمیم کا 40 فیصد ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد فی ہیکٹیئر 25,000 روپے یا 4 ہیکٹیئر میں پھیلے رقبے  میں پانی  کی فراہمی کے لیے فی کسان ایک لاکھ روپے مقرر ہے۔ آبی زراعت کے مختلف نظاموں سمیت ، انتہائی مشکل نظام جیسے فارم، پنجرہ پروری،  آبی زراعتی نظام،  بائیو - فلوک اور ریس ویز، کے لیے آبی زراعت کی بیمہ پر ادا کیے گئے پریمیم کا 40 فیصد ترغیب دی جاتی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 1800 مکعب میٹر کے انتہائی مشکل آبی زراعتی نظام کے لیے فی کسان ایک لاکھ روپے ہے۔  اس کے علاوہ، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور خواتین مستفیدین کو عام زمرے کے تحت کسانوں کو دی جانے والی ترغیب کے علاوہ مزید 10 فیصد ترغیب فراہم کی جاتی ہے۔

یہ جانکاری ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی  وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔

*******

 (ش ح۔ع ح۔م ذ)

U.R .1903


(रिलीज़ आईडी: 2298279) आगंतुक पटल : 7
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी