الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
حکومت توانائی کی بچت اور صاف توانائی کے اقدامات کے ذریعے ڈیٹا مراکز کی پائیدار ترقی کو فروغ دے رہی ہے
प्रविष्टि तिथि:
12 AUG 2026 1:37PM by PIB Delhi
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے مطابق حکومت ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کے استعمال کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
ڈیٹا مراکز ،ڈیجیٹل انڈیا بنیادی ڈھانچے کے مجموعی نظام کا ایک اہم اور لازمی حصہ ہیں۔ ہندوستان میں ڈیٹا مراکز کی صنعت مسلسل رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ کے تیزی سے فروغ کے باعث ملک میں ڈیٹا مراکز کی گنجائش کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ملک بھر میں ڈیٹا مراکز قائم ہیں، جن میں ممبئی، نوی ممبئی، چنئی، حیدرآباد، بنگلورو، دہلی قومی راجدھانی خطہ اور جام نگر نمایاں مراکز ہیں۔ ڈیٹا مراکز کی نصب شدہ صلاحیت 2020 میں 375 میگاواٹ تھی، جو بڑھ کر موجودہ وقت میں تقریباً 1575 میگاواٹ ہو گئی ہے۔
ڈیٹا مراکز کی صنعت اب آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے، جو سرمایہ کاری کے نئے مراکز کے طور پر ابھر رہی ہیں۔
ملک بھر میں ڈیٹا مراکز کی موجودہ صلاحیت، ملک کی موجودہ مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ بجلی کی وزارت کے تحت مرکزی بجلی اتھارٹی کے مطابق، مالی سال 2031-32 تک ڈیٹا مراکز کے لیے بجلی کی مانگ تقریباً 17 گیگاواٹ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
توانائی کی بچت اور پانی کا تحفظ
حکومت ہند گرین انرجی اوپن ایکسس ضوابط، گرین انرجی کوریڈور اسکیم، گرین ٹرم اہیڈ مارکیٹ، قومی گرین ہائیڈروجن مشن، اعلیٰ کارکردگی والے شمسی فوٹو وولٹک ماڈیولز سے متعلق قومی پروگرام، آف شور ونڈ وی جی ایف اسکیم اور سولر پارک اسکیم جیسے اقدامات کے ذریعے قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دے رہی ہے۔
ہندوستان کو بدلنے کے لیے پائیدار جوہری توانائی کے استعمال اور فروغ سے متعلق شانتی قانون نافذ کیا گیا ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا مراکز جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے قابلِ اعتماد صاف توانائی کو مستحکم کرنا ہے۔ اس کے تحت مستقبل میں چھوٹے ماڈیولر اور انتہائی چھوٹے جوہری ری ایکٹروں کے استعمال کی راہ بھی ہموار ہوگی۔
بیورو آف انڈیا اسٹینڈرس (بی آئی ایس ) نے تکنیکی کمیٹی ایل آئی ٹی ڈی 31 کے ذریعے، جو کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور ڈیٹا مراکز سے متعلق ہے، ڈیٹا مراکز کے لیے بجلی کے استعمال کی مؤثریت، کاربن کے استعمال کی مؤثریت (سی یو ای )،ٹھنڈک کی مؤثریت کے تناسب (سی ای آر) اور پانی کے استعمال کی مؤثریت(ڈبلیویو ای ) سے متعلق ہندوستانی معیارات کا ایک سلسلہ جاری کیا ہے۔
توانائی کی کارکردگی سے متعلق بیورو (بی ای ای )نے توانائی کے تحفظ سے متعلق عمارتی ضابطہ 2017 اور توانائی تحفظ و پائیدار عمارتی ضابطہ 2024 نافذ کیا ہے، جن میں ڈیٹا مراکز سے متعلق دفعات سمیت عمارتوں کے لیے توانائی کی بچت اور پانی کے تحفظ کے اصول مقرر کیے گئے ہیں۔ڈیٹا مراکز میں پانی کی ضرورت وہاں استعمال ہونے والی ٹھنڈک کی ٹیکنالوجی کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔ صنعتی مقاصد سمیت زیرِ زمین پانی کے اخراج کا ضابطہ اور اس پر قابو پانے کا کام جل شکتی کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ رہنما خطوط کے تحت کیا جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں ترقی کے ساتھ ڈیٹا مراکز کے ٹھنڈک کے نظام میں بھی جدید ٹیکنالوجیز اپنائی جا رہی ہیں، جن میں براہِ راست چِپ تک مائع ٹھنڈک، تبخیری ٹھنڈک، مائع میں ڈبو کر ٹھنڈک اور بند چکر والے مائع ٹھنڈک کے نظام شامل ہیں۔
صنعت میں اعلیٰ کثافت والے ریک بھی استعمال کیے جا رہے ہیں، تاکہ اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق کاموں کو مؤثر طریقے سے انجام دیا جا سکے اور بجلی و پانی کے استعمال میں مزید کمی لائی جا سکے۔
یہ تمام اقدامات مجموعی طور پر بجلی کے استعمال اور توانائی کی کارکردگی، قابلِ تجدید توانائی کے استعمال، توانائی کے دوبارہ استعمال، ٹھنڈک کی مؤثریت، کاربن کے اخراج اور پانی کے استعمال سے متعلق ایک جامع نظام فراہم کرتے ہیں۔
یہ جانکاری الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت جناب جتن پرسادا نے 7 اگست 2026 کو راجیہ سبھا میں پیش کی۔
******
(ش ح۔ع ح۔م ذ)
U.R .1901
(रिलीज़ आईडी: 2298275)
आगंतुक पटल : 7