وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کی نمایاں خصوصیات

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 1:32PM by PIB Delhi

ماہی گیری کے محکمے، ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کی جانب سے پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت مرکزی شعبے کی ایک ذیلی اسکیم، یعنی پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی) نافذ کی جا رہی ہے۔ یہ اسکیم مالی سال 2023-24 سے 2026-27 تک چار سال کی مدت کے لیے 6,000 کروڑ روپے کے تخمینہ مالی اخراجات کے ساتھ نافذ کی جا رہی ہے۔ پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے تحت ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے کے لیے 11 ستمبر 2024 کو نیشنل فشریز ڈیجیٹل پلیٹ فارم (این ایف ڈی پی) شروع کیا گیاہے۔ ذیلی اسکیم کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں: (i) غیر منظم ماہی گیری کے شعبے کو بتدریج باقاعدہ بنانا، جس میں بہتر خدمات کی فراہمی کے لیے ماہی گیری سے وابستہ کارکنوں کے کام پر مبنی ڈیجیٹل شناخت بنانا شامل ہے، (ii) ادارہ جاتی مالیات، بشمول ورکنگ کیپیٹل، تک زیادہ رسائی فراہم کرنا تاکہ مچھلی پالنے والے، ماہی گیر اور چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری ادارے اپنی سرمایہ کاری کی لاگت کم کر سکیں اور اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں، (iii) ماہی گیری سے متعلق تعاونی اداروں کی ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافہ، منڈی تک رسائی بہتر بنانے، مالی وسائل تک رسائی، کاروباری ترقی کے منصوبوں اور ضرورت پر مبنی مدد کے ذریعے انہیں مضبوط بنانا، (iv) مچھلی پالنے والے کسانوں کو آبی زراعت کی بیمہ پالیسی خریدنے کے لیے ایک مرتبہ کی ترغیبی امداد فراہم کرنا، (v) ماہی گیری اور آبی زراعت سے وابستہ بہت چھوٹے کاروباری اداروں کو کارکردگی پر مبنی گرانٹ کے ذریعے قدر افزائی کے سلسلے کی کارکردگی بہتر بنانے اور روزگار پیدا کرنے و برقرار رکھنے کے لیے ترغیب دینا، (vi) ماہی گیری کے شعبے میں چھوٹے اوربہت چھوٹے کاروباری اداروں کو محفوظ مچھلی اور مچھلی سے بنی مصنوعات کی سپلائی چین قائم کرنے، روزگار پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے کارکردگی پر مبنی گرانٹ کے ذریعے ترغیب دینا۔

پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے جزو 1-بی کے تحت کسانوں کو آبی زراعت کی بیمہ پالیسی خریدنے کے لیے ایک مرتبہ کی ترغیبی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ آبی زراعت کے بیمے کے لیے یہ ایک مرتبہ کی ترغیبی امداد ادا کیے گئے بیمہ پریمیم کا 40 فیصد ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد فی ہیکٹر 25,000 روپے یا 4 ہیکٹر پانی کے رقبے (ڈبلیو ایس اے)کے لیے فی کسان 1 لاکھ روپے ہے۔ فارم، پنجرے میں مچھلی پالنے، آر اے ایس، بایو فلوک اور ریس وے وغیرہ جیسے انتہائی نظاموں سمیت آبی زراعت کے نظام کے لیے بھی ادا کیے گئے بیمہ پریمیم کا 40 فیصد ترغیبی امداد دی جاتی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 1,800 مکعب میٹر کے لیے فی کسان 1 لاکھ روپے ہے۔ مزید برآں، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور خواتین مستفیدین کو عام زمرے کے مقابلے میں اضافی 10 فیصد ترغیبی امداد دی جاتی ہے۔

پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی ماحول دوست اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ماہی گیری اور آبی زراعت کو فروغ دیتی ہے۔ اس کے تحت ایسے پروجیکٹوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو کاربن اخراج میں کمی، توانائی اور پانی کے بہتر استعمال، قابل تجدید توانائی کے استعمال، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ٹیکنالوجی، بہتر صفائی ستھرائی اور کچرے و آلودگی کے بہتر انتظام، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، پائیدار پیداواری طریقوں اور بیماریوں کے انتظام، کچرے کے بندوبست، معیار و حفاظتی معیارات، تصدیق اور پیداوار سے صارف تک مصنوعات کی نگرانی سمیت بہتر انتظامی طریقوں کو اپناتے ہیں۔

پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے اجزا 2 اور 3 کے تحت چھوٹے کاروباری اداروں کو کارکردگی پر مبنی گرانٹ کے ذریعے ماہی گیری سے متعلق قدر افزائی کے سلسلے کی کارکردگی بہتر بنانے اور صارفین تک محفوظ مچھلی کی مصنوعات کی سپلائی چین قائم کرنے میں مدد دی جاتی ہے۔ عام زمرے کے لیے یہ گرانٹ کل سرمایہ کاری کا 25 فیصد یا 35 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو، جبکہ درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل اور خواتین کی ملکیت والے چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے کل سرمایہ کاری کا 35 فیصد یا 45 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو، تک ہے۔ اس کے علاوہ، گاؤں کی سطح کی تنظیموں اور خود امدادی گروپوں کی فیڈریشنوں، ایف ایف پی اوز اور تعاونی اداروں کے لیے کارکردگی پر مبنی گرانٹ کل سرمایہ کاری کے 35 فیصد یا 200 لاکھ روپے، جو بھی کم ہو، سے زیادہ نہیں ہوگی۔ کارکردگی پر مبنی گرانٹ کی مقررہ حد کے اندر پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی مردوں اور خواتین کے لیے بالترتیب روزگار پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے سالانہ 10,000 روپے اور 15,000 روپے فراہم کرتی ہے، جو کل اہل کارکردگی پر مبنی گرانٹ کی 50 فیصد حد کے اندر ہے۔ اس کے علاوہ، پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی معیاری اور پائیدار آبی زراعت، قدر میں اضافے، تصدیق، پیداوار سے صارف تک مصنوعات کی نگرانی، بیماریوں کی نگرانی، جدید کٹائی کے بعد کے انتظام اور کولڈ چین بنیادی ڈھانچے، غذائی تحفظ اور معیار کی یقین دہانی کے لیے مدد فراہم کرتے ہوئے بھارتی سمندری غذائی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دیتی ہے، تاکہ عالمی مسابقت اور مصنوعات کی بہتر قیمت یقینی بنائی جا سکے۔ یہ اسکیم ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ بہت چھوٹے اور چھوٹے کاروباری اداروں کو ماہی گیری کی پوری ویلیو چین میں بہتر ٹیکنالوجی اپنانے، مصنوعات کی تیاری و پراسیسنگ، پیکیجنگ اور منڈی سے روابط قائم کرنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔

مزید برآں، پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی طلب پر مبنی ذیلی اسکیم ہے اور آندھرا پردیش سمیت تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کی جا رہی ہے۔ نیلور ضلع سمیت کسی بھی ضلع کے لیے مخصوص اقدامات یا ضلع کے لحاظ سے یا ریاست کے لحاظ سے روزگار کے اہداف مقرر نہیں کیے گئے ہیں۔ تاہم، اس اسکیم کا مقصد 1.70 لاکھ روزگار پیدا کرنا ہے۔

یہ معلومات ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں دیں۔

******

(ش ح ۔ م م ع۔م ا(

UR.No-1906


(रिलीज़ आईडी: 2298269) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी