وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

روایتی ماہی گیری کے حقوق اور روزگار کا تحفظ

प्रविष्टि तिथि: 12 AUG 2026 1:33PM by PIB Delhi

بیس لائن سے 12 سمندری میل تک کے سمندری علاقے میں ماہی گیری کو ساحلی ریاستیں اپنے متعلقہ سمندری ماہی گیری ضابطہ ایکٹ کے مطابق منظم کرتی ہیں۔ متعلقہ قوانین کے تحت متعدد ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے مختلف اقسام کی ماہی گیری کشتیوں کے لیے مخصوص ماہی گیری زون مختص کیے ہیں۔ ساحل کے قریب سمندری پانی، جو عموماً ساحل سے 5 سے 10 کلومیٹر تک کا علاقہ ہوتا ہے، روایتی دستکاری اور غیر مشینی ماہی گیری کشتیوں کے لیے خصوصی طور پر مختص ہے، جس سے روایتی ماہی گیروں کے روزگار کا تحفظ ہوتا ہے، ماہی گیری کے آلات کے درمیان تنازعات کم ہوتے ہیں اور سمندری وسائل کے بے جا استحصال کی روک تھام ہوتی ہے۔ ان مخصوص علاقوں میں مشینی ماہی گیری کشتیوں کے غیر مجاز داخلے کو روکنے کے لیے ریاستی ماہی گیری محکمے، بھارتی ساحلی گارڈ(آئی سی جی) سمیت دیگر نافذکرنے والےاداروں کے ساتھ مل کر مشترکہ گشت کرتے ہیں۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی)کے تحت مشینی اور موٹر سے چلنے والی ماہی گیری کشتیوں پر سیٹلائٹ پر مبنی ٹرانسپونڈر نصب کیے جاتے ہیں، جن کے ذریعے کشتیوں کی حقیقی وقت میں نگرانی، جیو فینسنگ اور خودکار انتباہی نظام کے ذریعے روایتی ماہی گیروں کے لیے مختص علاقوں میں داخل ہونے کی صورت میں متعلقہ حکام کو فوری اطلاع فراہم کی جاتی ہے۔

نیلگوںمعیشت کے تصور میں ماہی گیری سمیت کئی ذیلی شعبے شامل ہیں۔ حکومت ہند کی ارضیاتی علوم کی وزارت بھارت کی نیلگوںمعیشت سے متعلق قومی پالیسی کے مسودے کی تیاری کی نگرانی کر رہی ہے۔ ساگر مالا، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کی مرکزی شعبے کی ایک اسکیم ہے، جس کا مقصد ملک میں بندرگاہوں کی قیادت میں ترقی کو فروغ دینا ہے۔ منصوبے کی تیاری کے ایک حصے کے طور پر متعلقہ منصوبہ سازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مجوزہ منصوبوں کے مقامی آبادی اور ماحولیات پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے سماجی اور ماحولیاتی اثرات کی جائزہ رپورٹ تیار کریں۔ اسی کے ساتھ منصوبہ سازوں کو سماجی اور ماحولیاتی انتظامی منصوبہ بھی تیار اور نافذ کرنا ہوتا ہے تاکہ بنیادی حالات کے مطالعے، اثرات کے جائزے اور منصوبے کی تشخیص کے دوران سامنے آنے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔ مزید برآں، ساگر مالا اسکیم کے ساحلی برادریوں کی ترقی کے ستون کے تحت شناخت کیے گئے منصوبوں کے نفاذ کے ذریعے ساحلی علاقوں میں رہنے والی برادریوں کے روزگار میں بھی بہتری لائی جاتی ہے۔

ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی کی وزارت(ایم او ای ایف اینڈ سی سی)، جو متعلقہ مرکزی وزارت ہے، وقتاً فوقتاً جاری کیے جانے والے ساحلی ضابطہ ژون(سی آر زیڈ) سے متعلق نوٹیفکیشنز کا جائزہ لیتی ہے۔ ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے مختلف متعلقہ فریقوں سے موصول ہونے والی تجاویز اور سفارشات کی بنیاد پر ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی کی وزارت(ایم او ای ایف اینڈ سی سی) ساحل کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کی ترقی، بشمول ماہی گیر برادری کے مسائل، کے پیش نظر ساحلی ضابطہ ژون سے متعلق نوٹیفکیشن کا جائزہ لیتی ہے۔

حکومت ہند کے ماہی گیری کے محکمے (ڈی او ایف، جی او آئی)نے سمندری ماہی گیری کے وسائل کے پائیدار استعمال اور چھوٹے پیمانے پر ماہی گیری کرنے والے اور روایتی ماہی گیروں کی فلاح و بہبود کے لیے جامع اقدامات کیے ہیں۔ حکومت نے خصوصی اقتصادی زون(ای ای زیڈ) میں ماہی گیری کے وسائل کے پائیدار استعمال سے متعلق ضوابط، 2025 نافذ کیے ہیں، جن میں ماہی گیری کے انتظام کے لیے ماحولیاتی نظام پر مبنی طریقۂ کار، مچھلیوں کے افزائش کے موسم کے دوران یکساں ماہی گیری پابندی کا نفاذ، مچھلی پکڑنے کے لیے کم از کم قانونی حجم مقرر کرنا، غیر مطلوبہ آبی جانداروں کے شکار کو کم کرنے کے اقدامات اپنانا، تباہ کن اور نابالغ مچھلیوں کو پکڑنے کے طریقوں پر پابندی اور شکار کے بعد ہونے والے نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لیے بہترین طریقۂ کار کو فروغ دینا شامل ہے۔

پائیدار ماہی گیری کو یقینی بنانے، مچھلیوں کے ذخیرے میں اضافہ کرنے اور سمندر میں ماہی گیروں کی حفاظت کے لیے بھارت کے خصوصی اقتصادی ژون(ای ای زیڈ) میں مچھلیوں کے افزائش کے عروج کے موسم کے دوران ہر سال یکساں طور پر 61 دن کی ماہی گیری پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ ساحلی ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے بھی اپنے علاقائی سمندری پانیوں میں اسی طرح کی پابندی نافذ کرتے ہیں اور اپنے نظام الاوقات کو حکومت ہند کے ماہی گیری کے محکمے کی جانب سے مقرر کردہ یکساں پابندی کے مطابق رکھتے ہیں۔ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی)کے تحت سماجی و اقتصادی طور پر پسماندہ فعال روایتی ماہی گیروں کے خاندانوں کو ماہی گیری پر پابندی یا کم ماہی گیری کے عرصے کے دوران روزگار اور غذائی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس یوجنا کے تحت فعال ماہی گیروں کے لیے اجتماعی حادثاتی بیمہ اسکیم کے ذریعے بیمہ تحفظ بھی فراہم کیا جاتا ہے، جس سے ماہی گیری کے دوران سماجی تحفظ اور خطرات سے بچاؤ یقینی ہوتا ہے۔

پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا(پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت حکومت ہند نے پہلی مرتبہ ملک کے ساحلی علاقوں میں سمندری مچھلیوں کی افزائش کے لیے مصنوعی چٹانیں نصب کرنے اور سمندر میں مچھلیوں کی افزائش کے مراکز قائم کرنے کے لیے خصوصی مدد فراہم کی ہے۔ ان اقدامات سے آبی مسکن کی تباہی کو روکنے، مچھلیوں کے ذخیرے میں اضافہ کرنے اور ساحلی ماہی گیروں کے روزگار کو مضبوط بنانے میں مدد ملتی ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی سمندری آبی زراعت کی سرگرمیوں کو بھی فروغ دیتی ہے، جن میں سمندری گھاس کی کاشت اور کھلے سمندر میں پنجرے کے ذریعے مچھلی پالنا شامل ہے، تاکہ ساحل کے قریب سمندری پانیوں میں ماہی گیری کا دباؤ کم کیا جا سکے اور سمندری ماہی گیری کی پیداوار میں پائیدار طریقے سے اضافہ کیا جا سکے۔ پی ایم ایم ایس وائی میں ’’100 ساحلی ماہی گیر بستیوں کو موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے میں لچک دار ساحلی ماہی گیر بستیوں(سی آر سی ایف وی) کے طور پر ترقی دینا‘‘بھی شامل ہے، جس کا مقصد ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مشترکہ طور پر منتخب کی گئی 100 بستیوں کو بنیادی ڈھانچے اور روزگار کو فروغ دینے والی سرگرمیوں سمیت ضرورت پر مبنی اقدامات کے ذریعے معاشی طور پر مستحکم اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل بستیوں میں تبدیل کرنا ہے۔

یہ معلومات ماہی گیری، مویشی پروری اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں دیں۔

******

(ش ح ۔ م م ع۔م ا(

UR.No-1905


(रिलीज़ आईडी: 2298245) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी