مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
ہاؤسنگ و شہری امور کی وزارت کی جانب سے سستی رہائش سے متعلق اصلاحات کے ضمن میں ’’سستی رہائش کا نیا تصور: اسکیم سے پائیدار نظام تک‘‘ کے موضوع پر قومی کانفرنس کا انعقاد
زمین، کرائے کی رہائش اور مالی سہولتیں سستی رہائش سے متعلق اصلاحات کے ایجنڈے کا مرکز
جناب راجیو گوبا نے سستی رہائش کو فروغ دینے کے لیے زمین اور شہری منصوبہ بندی میں اصلاحات پر زور دیا
प्रविष्टि तिथि:
11 AUG 2026 9:10PM by PIB Delhi
ہاؤسنگ و شہری امور کی وزارت نے 11 اگست 2026 کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں سستی رہائش سے متعلق اصلاحات پر قومی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ کانفرنس کا موضوع تھا: ’’سستی رہائش کا نیا تصور: اسکیم سے پائیدار نظام تک‘‘۔اس کانفرنس میں اعلیٰ حکام، ماہرین، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں اور اہم مالیاتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس دوران سستی رہائش کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات اور نئے طریقۂ کار پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
کانفرنس میں نیتی آیوگ کے رکن جناب راجیو گوبا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ ہاؤسنگ و شہری امور کی وزارت کے محکمہ شہری ترقی کے سکریٹری جناب ستندر سنگھ مہمان اعزازی تھے۔

کارروائی کا آغاز جناب کلدیپ نارائن، جوائنٹ سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر (جے ایس اینڈ ایم ڈی)، ہاؤسنگ فار آل (ایچ ایف اے)، وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور کے استقبالیہ خطاب اور رہائشی اصلاحات سے متعلق بریفنگ سے ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے درمیان تجربات، بہترین طریقوں اور اصلاحاتی اقدامات کا باہمی تبادلہ کرنا ہے، تاکہ مختلف ریاستوں کے حالات کے مطابق اصلاحات نافذ کرنے کے لیے عملی راستے مشترکہ طور پر تلاش کیے جا سکیں۔
سامعین سے خطاب کرتے ہوئے جناب راجیو گوبا نے بڑے پیمانے پر سستی رہائش کو فروغ دینے کے لیے زمین اور شہری منصوبہ بندی میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں سستی رہائش کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے زمین کی دستیابی اور شہری منصوبہ بندی میں اصلاحات انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے ایسے منصوبوں کے لیے زمین کی دستیابی بہتر بنانے کے اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ سستی رہائش کے لیے مختص زمین پر استعمالِ اراضی میں تبدیلی سے متعلق فیس معاف کرنے اور سستی رہائش کے یونٹوں کو اسٹامپ ڈیوٹی سے مستثنیٰ کرنے پر غور کیا جائے، تاکہ منصوبوں کو قابلِ عمل بنایا جا سکے اور رہائش کی لاگت کم ہو۔
جناب راجیو گوبا نے کرائے کی رہائش کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے دوسرے علاقوں سے روزگار کے لیے آنے والے مزدور، نوجوان پیشہ ور افراد، طلبہ اور صنعتی کارکنوں کے لیے کرائے کی رہائش میں توسیع کے ساتھ ساتھ کرایہ داری کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔

جناب راجیو گوبا نے کہا، ’’رہائش کے شعبے میں زمین سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اس لیے اصلاحات کے ایجنڈے میں زمین کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔‘‘
مالیاتی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت پر زور دیتے ہوئے جناب گوبا نے سستی رہائش کے شعبے میں مالیاتی جدت اور نجی سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ نیتی آیوگ اور وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور کی تیار کردہ سستی رہائش سے متعلق رپورٹ ’’سستی رہائش کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع خاکہ‘‘ میں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے متعدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں زیادہ تر اقدامات پر عمل درآمد ریاستی حکومتوں اور بلدیاتی اداروں کو کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومتوں کو رہائش کے معاملے میں تمام محکموں کو ساتھ لے کر جامع حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کی سفارشات میں منصوبہ بند شہری علاقوں کو وسعت دینا اور ماسٹر پلان میں رہائشی زمین کا کم از کم 10 فیصد حصہ سستی رہائش کے علاقوں کے لیے مختص کرنا شامل ہے۔ رپورٹ میں ایسے منصوبوں کے لیے قابلِ اجازت فلور ایریا ریشو (ایف اے آر) کو بڑھا کر 5 یا 6 کرنے، عوامی نقل و حمل پر مبنی شہری ترقی کو فروغ دینے، لینڈ پولنگ اور قابلِ منتقلی ترقیاتی حقوق کو فروغ دینے، پارکنگ اور آبادی کی کثافت سے متعلق ضوابط میں نرمی کرنے اور لینڈ بینک قائم کرنے کی بھی تجویزہے۔
اس کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے نیتی آیوگ کی پروگرام ڈائریکٹر، مینیجنگ اربنائزیشن، محترمہ انا رائے نے کہا کہ سستی رہائش جامع، پیداواری اور مضبوط شہروں کی تعمیر کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ہندوستان میں شہری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، پالیسی کے طریقۂ کار کو بھی رہائشی اسکیموں کے نفاذ سے آگے بڑھ کر ایک ایسے جامع نظام کی تشکیل کی طرف لے جانا ہوگا جو مسلسل سستی رہائش کی فراہمی کو یقینی بنائے اور شہری خاندانوں کے لیے رہائش کے مزید مواقع پیدا کرے۔
محترمہ انا رائے نے کہا کہ سستی رہائش کے لیے ایک ایسا معاون نظام ضروری ہے، جس میں زمین، منصوبہ بندی کے ضوابط، مالیاتی طریقۂ کار، کرائے کی رہائش کی منڈی اور ادارہ جاتی انتظامات مل کر مسلسل سستی رہائش کی تعمیر کو ممکن بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ توجہ بتدریج انفرادی رہائشی منصوبوں کی فراہمی سے ہٹ کر ایسے حالات پیدا کرنے پر مرکوز ہونی چاہیے، جو طویل مدت تک سستی رہائش کو قابلِ عمل، قابلِ رسائی اور پائیدار بنائیں۔ انہوں نے شہروں کو ترقی کے مراکز قرار دیتے ہوئے باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کے جذبے کے تحت کام کرنے پر بھی زور دیا۔
کانفرنس نے تمام متعلقہ فریقوں کو اس بات پر غور و خوض کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا کہ سستی رہائش کے لیے صرف اسکیموں پر مبنی طریقۂ کار سے آگے بڑھ کر ایک پائیدار اور معاون نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں پالیسی اصلاحات، اداروں کے درمیان بہتر تال میل، مالی وسائل کے حصول کے جدید طریقۂ کار اور مؤثر عمل درآمد پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اپنے کلیدی خطاب میں جناب ستندر سنگھ نے نیتی آیوگ اور کمیٹی کی جانب سے ’’سستی رہائش کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع خاکہ‘‘ کے عنوان سے ایک جامع اور تحقیق پر مبنی رپورٹ تیار کرنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ جاری رہائشی اور شہری ترقی کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سستی رہائش صرف ایک سماجی ضرورت نہیں ہے بلکہ اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار شہری ترقی کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ جناب سنگھ نے مزید بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا-اربن (پی ایم اے وائی-یو) کے ذریعے شہری رہائش کے منظرنامے میں بنیادی تبدیلیاں کی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اس کانفرنس سے سامنے آنے والی سفارشات کو سستی رہائش کی پالیسیوں کو مزید مضبوط بنانے اور ہندوستان کو پائیدار اور جامع شہری ترقی کی جانب تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے رہنما اصول کے طور پر کام کرنا چاہیے۔‘‘
کانفرنس میں زمین اور شہری منصوبہ بندی، کرائے کی رہائش، خالی پڑے مکانات کو رہائش کے لیے دستیاب بنانے، مالی وسائل تک رسائی اور دیگر اہم شعبوں میں اصلاحات پر غور و خوض کیا گیا، جن سے رہائش کی سہولت اور مالی طور پر قابلِ عمل رہائشی منصوبوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔کانفرنس کا مقصد سستی رہائش کے حوالے سے موجودہ طریقۂ کار میں تبدیلی لاتے ہوئے ایک پائیدار اور مربوط نظام کی تشکیل کی جانب پیش رفت کرنا تھا۔
کانفرنس میں پردھان منتری آواس یوجنا-اربن (پی ایم اے وائی-یو) کے ذریعے سستی رہائش تک رسائی بڑھانے اور ملک بھر میں رہائشی سہولیات کی فراہمی کے نظام کو مضبوط بنانے میں ہونے والی اہم پیش رفت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ 2015 میں آغاز کے بعد سے پی ایم اے وائی-یو کے تحت اہل شہری خاندانوں کے لیے مکانات کی تعمیر اور فراہمی میں مدد کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ خواتین کی ملکیت کو فروغ دینے، بنیادی شہری سہولیات کے ساتھ تال میل قائم کرنے اور ریاستی حکومتوں و شہری بلدیاتی اداروں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔ان تجربات کی بنیاد پر پی ایم اے وائی-یو 2.0 کا مقصد طلب پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے مزید ایک کروڑ اہل شہری خاندانوں کو رہائشی سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس میں مختلف نوعیت کے رہائشی حل، ٹیکنالوجی کے ذریعے عمل درآمد، مالی وسائل تک رسائی اور اداروں کے درمیان مضبوط شراکت داری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔کانفرنس میں پی ایم اے وائی-یو اور پی ایم اے وائی-یو 2.0 کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ ان پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی غور کرنے کا موقع ملا، جو ایک پائیدار، جامع اور مالی طور پر قابلِ عمل سستی رہائش کے نظام کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔
کانفرنس کے دوران سستی رہائش سے متعلق اصلاحات کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے لیے تین تکنیکی اجلاس منعقد کیے گئے:
- زمین اور شہری منصوبہ بندی میں اصلاحات: اس اجلاس میں زمین اور شہری منصوبہ بندی کے شعبے میں ریاستی سطح کے تجربات اور جدید طریقۂ کار کا جائزہ لیا گیا۔ گجرات، مہاراشٹر، تلنگانہ، تمل ناڈو اور دہلی کی جانب سے مختلف اقدامات پر زنٹیشن دیا گیا ، جس میں شہری منصوبہ بندی کے ماڈل، سستی رہائش کے زون، سستی رہائش اور کلسٹر ڈیولپمنٹ کی پالیسیاں اور دہلی کی 2026 کی ٹرانزٹ اورینٹڈ ڈیولپمنٹ پالیسی شامل تھیں۔

- کرائے کی رہائش اور خالی مکانات کو رہائش کے لیے دستیاب بنانے کی حکمت عملی کے ذریعے رہائش تک رسائی میں توسیع: اس اجلاس میں کرائے کی رہائش سے متعلق ضوابط میں اصلاحات اور کرائے کی رہائش کے تبادلے کے نظام پر غور و خوض کیا گیا۔ تمل ناڈو، آندھرا پردیش، گجرات، اڈیشہ، تلنگانہ اور آسام کے تجربات اور اقدامات بھی پیش کیے گئے۔ اجلاس میں سستی کرائے کی رہائش تک رسائی بڑھانے اور پہلے سے موجود مکانات کو رہائش کے لیے دستیاب بنانے کے مختلف طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

- سرمائے تک رسائی — طلب اور رسد دونوں جانب سے: سستی رہائش کو مالی طور پر قابلِ عمل بنانا: اس اجلاس میں رہائشی منصوبوں اور مکان خریدنے والوں، دونوں کے لیے مالی وسائل تک رسائی کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ نیشنل ہاؤسنگ بینک (این ایچ بی) اور ہڈکو نے رہائشی منصوبوں کے لیے مالی اعانت اور گھریلو قرضوں سے متعلق اقدامات کی جانکاری دی۔ محکمہ مالیاتی خدمات (ڈی ایف ایس) اور انڈین بینکس ایسوسی ایشن (آئی بی اے) نے غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے افراد کے لیے گھریلو قرضوں کی مصنوعات پر تبادلۂ خیال کیا، جبکہ نیشنل کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹی کمپنی (این سی جی ٹی سی) نے کریڈٹ گارنٹی اسکیم کی کارکردگی سے متعلق معلومات پیش کیں۔
ایک روزہ کانفرنس نے ریاستوں کو اپنی بہترین کارکردگی اور طریقۂ کار پیش کرنے، اپنے تجربات اور حاصل شدہ اسباق ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنے اور ایسے طریقوں پر غور کرنے کا موقع بھی فراہم کیا، جنہیں مختلف شہری حالات کے مطابق اپنایا اور بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان تبادلۂ خیال سے ایک دوسرے سے سیکھنے اور باہمی تعاون پر مبنی وفاقیت کو فروغ ملا۔ شریک ریاستوں نے اپنی اصلاحاتی کوششوں اور ان پر عمل درآمد کے تجربات بھی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کیے۔
ان تبادلۂ خیال سے رہائشی شعبے میں اصلاحات کے لیے روڈ میپ تیار کرنے اور ان اصلاحات پر عمل درآمد میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے میں مزید مدد ملے گی۔ اس روڈ میپ سے ریاستوں کے درمیان مسلسل تعاون، اصلاحاتی اقدامات کی نگرانی اور تجربات کے تبادلے کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم ہونے کی توقع ہے۔کانفرنس میں ایک زیادہ قابلِ رسائی، جامع اور پائیدار سستی رہائش کے نظام کی تعمیر کے لیے مرکز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں، مالیاتی اداروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان باہمی تعاون اور مربوط کوششوں کی اہمیت کو پھر سے اجاگر کیا گیا۔
سستی رہائش سے متعلق اصلاحات پر قومی کانفرنس نے ریاستوں کی جانب سے کی گئی پیش رفت کا جائزہ لینے، کامیاب اصلاحاتی اقدامات سے سیکھنے اور پردھان منتری آواس یوجنا-اربن 2.0 کے تحت عمل درآمد کو تیز کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کا موقع بھی فراہم کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح ۔ع و۔ع ن)
U. No. 1879
(रिलीज़ आईडी: 2298050)
आगंतुक पटल : 5