راجیہ سبھا سکریٹیریٹ
azadi ka amrit mahotsav

نقل و حمل، سیاحت اور ثقافت کے بارے میں محکمہ سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی 392ویں رپورٹ پر پریس ریلیز

प्रविष्टि तिथि: 11 AUG 2026 7:37PM by PIB Delhi

نقل و حمل، سیاحت اور ثقافت سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی نے، جس کے سربراہ راجیہ سبھا کے ممبر پارلیمنٹ جناب سنجے کمار جھا ہیں، نے منگل 11 اگست 2026 کو "جامع، ڈیجیٹل اور پائیدار بس ٹرانسپورٹ کو فعال بنانا: اگلی نسل کی نقل و حرکت کے لیے پالیسی، ریگولیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ" کے عنوان پر اپنی 392 ویں رپورٹ پیش کی۔

اس رپورٹ کو کمیٹی نے 6 اگست 2026 کو منظور کیا تھا۔ اس رپورٹ میں کمیٹی کی جانب سے کی گئی اہم سفارشات/مشاہدات منسلک ہیں۔

مکمل رپورٹ راجیہ سبھا کی ویب سائٹ https://sansad.in/rs -CommitteesDepartment related RSCommittee on Transport, Tourism and Culture- Report پر دستیاب ہے۔

 

وزارتِ روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز کی 392 ویں رپورٹ

کمیٹی کی سفارشات کے اہم نکات — ایک نظر میں

 

1۔ آل انڈیا پیسنجر پرمٹ:- ایک سال کے اندر 'آل انڈیا ٹورسٹ پرمٹ' کو تبدیل کر کے اس کی جگہ پہلی رجسٹریشن والی ریاست کی طرف سے جاری کردہ 'آل انڈیا پیسنجر پرمٹ' رائج کیا جائے، جس کے حقوق پرمٹ پر واضح درج ہوں؛ اسے صرف واہن ، فاسٹ ٹیگ اور لوکیشن ڈیٹا کے الیکٹرانک ملاپ کے ذریعے نافذ کیا جائے، نگرانی کے مراکز فعال کیے جائیں، ان چھ ریاستوں میں بارڈر چیک پوسٹس ختم کی جائیں جہاں وہ قائم ہیں، اور انشورنس ریگولیٹر کے ساتھ مل کر زخمی مسافر کے کلیم کو تنازعات سے پاک بنایا جائے۔ (پیراگراف 4.2 تا 4.5)

2۔ نیشنل بس ٹرمینلز اتھارٹی:- بس ٹرمینل کی ملکیت کو بسوں کے آپریشن سے الگ کرنے کو ایک طے شدہ قومی پالیسی بنایا جائے؛ ایئرپورٹس اتھارٹی کے ماڈل پر ایک مخصوص ٹرمینلز اتھارٹی قائم کی جائے؛ کشمیری گیٹ کے نمونے پر مبنی بلا امتیاز رسائی کا فریم ورک تمام متعلقہ اداروں کو بھیجا جائے؛ ایک سال کے اندر بس ٹرمینلز کے لیے ایک 'قومی ضابطہ' تیار کیا جائے؛ گروگرام اور کٹرا کو بطور نمونہ اپنایا جائے؛ اور بس اسٹاپ کے معیاری ڈیزائن کو نوٹیفائی کر کے ممبرانِ پارلیمنٹ کو ایم پی لیڈز فنڈنگ کے لیے فراہم کیا جائے۔ (پیراگراف 4.6 تا 4.9)

3۔ نیشنل بس ڈیجیٹل گرڈ:- ایک سال کے اندر انٹرآپریبلٹی معیارات نوٹیفائی کیے جائیں؛ ان معیارات کی بنیاد پر، انڈین ریلویز کی خصوصیات کے مطابق ایک عوامی لائیو ٹریکنگ سسٹم، سرکاری اور نجی آپریٹرز کے لیے یکساں بکنگ کی سہولت، پرمٹ کے ڈیٹا بیس سے منسلک ایک منظم کراؤڈ سورسڈ ریٹنگ سسٹم، بس اور ٹرمینل کی حالت کی جیو ٹیگڈ اور وقت کی پابند رپورٹنگ کے لیے سی-وجل طرز کا شہری مانیٹرنگ چینل، اور گاڑیوں کی ٹریکنگ اور ٹول ڈیٹا پر مبنی ایک جی آئی ایس نیٹ ورک اٹلس قائم کیا جائے جو وقت کی پابندی، قابلِ پیش گوئی معیارات اور خطرات کے نقشے شائع کرے؛ اس گرڈ میں تجارتی پرمٹ ہولڈرز کی شمولیت مرحلہ وار اور لازمی ہوگی؛ اور چھ ماہ کے اندر اس ڈیجیٹل ستون کے لیے کام کا ایک قابلِ پیمائش پروگرام تیار کیا جائے۔ (پیراگراف 4.10 تا 4.13)

4۔ آپریٹر پر مبنی حفاظت:- چھ ماہ کے اندر آٹومیٹڈ ٹیسٹنگ اسٹیشنوں کے لیے ضلع وار تکمیل کا منصوبہ تیار کیا جائے؛ گاڑی کے ہر فٹنس ٹیسٹ کے دوران آگ بجھانے، ہنگامی نکاس اور الرٹ کے آلات کی تصدیق کی جائے تاکہ زیرِ سروس گاڑیوں میں زندگی کی حفاظت کے معیارات کو یقینی بنایا جا سکے؛ سلیپر اور اسکول بسوں کے لیے پرانے آلات کی جگہ جدید حفاظتی آلات لگانے کا جائزہ لیا جائے؛ پرمٹ کی تجدید کے وقت آپریٹر کی شائع شدہ حفاظتی درجہ بندی کو مدنظر رکھا جائے؛ اور ایک سال کے اندر ہنگامی الرٹ سسٹم کو فعال کیا جائے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں اس سسٹم کے لیے آپریٹرز سے لیا جانے والا ٹیکس یا لیوی ختم کر دیا جائے گا۔ (پیراگراف 4.14 تا 4.17)

5۔ فلیٹ ٹرانزیشن کمپیکٹ:- گاڑیوں کی مالکانہ تنظیمیں اور لیزنگ ادارے قائم کیے جائیں تاکہ آپریٹرز کو ایسی بسیں چلانے کا موقع ملے جنہیں خود خریدنے کی ضرورت نہ ہو، یہ عمل رجسٹرڈ اسکریپنگ سینٹرز پر 'اسکریپ اینڈ لیز' کے تحت شروع کیا جائے؛ نجی اسکریپنگ کی ترغیبات کا جائزہ لیا جائے؛ الیکٹرک بسوں کے لیے ایک وقت کا پابند پلان تیار کیا جائے، جس میں ہر آپریٹر کے لیے ایک ہدف مقرر ہو اور بسیں معیاری شرائط پر تھوک میں خریدی جائیں؛ چارجنگ کی سہولیات کو ان مقامات کے مطابق ترتیب دیا جائے جہاں بسیں چلتی ہیں؛ ایک سال کے اندر الیکٹرک بسوں اور بیٹریوں کے ناکارہ ہونے کے بعد ان کے متبادل استعمال یا تلفی کا فریم ورک تیار کیا جائے؛ اور علاقائی سطح پر مینوفیکچرنگ، ٹیسٹنگ اور دیکھ بھال کے کلسٹرز قائم کیے جائیں۔ (پیراگراف 4.18 تا 4.21)

6۔ خواتین کے لیے خدمات، خواتین کے ذریعے:- چھ ماہ کے اندر، خواتین بس ڈرائیوروں اور خواتین عملے کے ذریعے رش کے اوقات میں چلنے والی مخصوص سروسز کا ایک باقاعدہ پروگرام شروع کیا جائے؛ نئی بسوں میں سی سی ٹی وی کو لازمی طور پر فعال کیا جائے؛ ہنگامی الرٹ سسٹم کے پروگرام کو سولہ ریاستوں سے آگے بڑھا کر مکمل کیا جائے؛ بس باڈی کوڈ کے تحت بسوں کے اندر ٹوائلٹ کی سہولت کو معیاری بنایا جائے؛ رات کے پڑاؤ (اوور نائٹ ہالٹس) کے مقامات پر صفائی ستھرائی کی نگرانی کی جائے؛ اور ان سب کے لیے ایک مشترکہ بنیاد پر فنڈنگ فراہم کی جائے جیسے کہ انکلوسیو ٹرانسپورٹ فنڈ ۔ (پیراگراف 4.22 تا 4.25)

7۔ نیشنل ٹورسٹ بس گرڈ:- سیاحوں کے لیے ایسے مربوط راستے بنائے جائیں جو بس، ریل، میٹرو، ہوائی سفر اور آبی راستوں کو یکساں ٹکٹنگ کے ذریعے آپس میں جوڑتے ہوں؛ سیاحتی گاڑیوں کے لیے ڈیجیٹل لاگ بکس کے ساتھ ایک مرکزی اور منظور شدہ مینٹیننس، ریپیئر اور اوور ہال سسٹم قائم کیا جائے؛ اہم سیاحتی مقامات پر کٹرا کے نمونے پر مبنی مشترکہ ٹرانسپورٹ حبس بنائے جائیں جن میں سرکاری اور نجی شراکت داروں کے درمیان آمدنی کی تقسیم کا نظام ہو؛ اور سیاحوں کی سہولت کے مطابق ٹرمینل کے معیارات طے کیے جائیں اور عوامی اطمینان کے سروے شائع کیے جائیں۔ (پیراگراف 4.26 تا 4.29)

8۔ بس مسافر کے لیے بجٹ میں ایک مخصوص شناخت:- وزارت کے بجٹ کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کے انفراسٹرکچر کے لیے ایک واضح رقم مختص کی جائے، جس کی رپورٹ چھ ماہ کے اندر پیش کی جائے؛ اس میں سڑکوں کے لیے مختص کل بجٹ کا تقریباً 25 فیصد حصہ پبلک ٹرانسپورٹ پر لگانے کے حوالے سے وزارت کے سنجیدہ موقف کو شامل کیا جائے؛ مقررہ معیار کے مطابق بننے والے ٹرمینلز اور ٹیسٹنگ اسٹیشنوں کے لیے مالیاتی خسارے کو پورا کرنے والی فنڈنگ فراہم کی جائے؛ اور معیاری بس اسٹاپ کے ڈیزائن کے نوٹیفیکیشن کے تین ماہ کے اندر اسے ممبرانِ پارلیمنٹ کو ایم پی لیڈز فنڈنگ کے لیے بھیجا جائے۔ (پیراگراف 4.30 تا 4.32)

9۔ ریاستوں کی کارکردگی کی رپورٹ:- بس ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی فراہمی پر ریاستوں کی سالانہ درجہ بندی شائع کی جائے، جو کہ قابلِ تصدیق پیمانوں پر مبنی ہو، جیسے ٹیسٹنگ کی ڈینسٹی، ٹرمینل تک رسائی، ہنگامی نظام کی فعالیت، اور نیٹ ورک اٹلس کے وقت کی پابندی کے معیارات؛ اس میں آپریٹر اور مسافروں کے تاثرات بشمول شہریوں کی نگرانی کی رپورٹوں پر کی گئی کارروائی کا ریکارڈ بھی شامل ہو؛ اور پہلے ایڈیشن میں ان ریاستوں کی شناخت کو ظاہر کیا جائے جہاں اب بھی بارڈر چیک پوسٹس کام کر رہی ہیں۔ (پیراگراف 4.33 تا 4.35)

10۔ مسافروں کی گنتی:- چھ ماہ کے اندر گاڑیوں کے اعداد و شمار کا موازنہ اور تصحیح کی جائے، اور اس دوران واہن  پورٹل کے ساتھ تلنگانہ کے الحاق کی کوششوں اور صورتحال کو ظاہر کیا جائے؛ تمام کیٹیگریز کی بسوں کا ایک مجموعی گوشوارہ (بیان) تیار کیا جائے؛ ایک ایسا وفاقی قومی ڈیٹا آرکیٹیکچر بنایا جائے جس میں ریاستیں اپنے سسٹمز کی خود مالک ہوں؛ اور بس کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کا ایک متواتر اور مستند تخمینہ شائع کیا جائے، جسے دیگر سفری ذرائع (جیسے ریل یا ہوائی سفر) کے اعداد و شمار کی طرح ہی سرکاری اہمیت اور سند حاصل ہو۔ (پیراگراف 4.36 تا 4.38)

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:1875


(रिलीज़ आईडी: 2297933) आगंतुक पटल : 8
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी