کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

جی ای ایم نے ایم ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس، خواتین صنعت کاروں اور سیلف ہیلپ گروپوں کی شرکت کو مضبوط کیا


مالی برس 2025-26 میں جی ای ایم کے توسط سے ایم ایس ایم ای کی خریداری 2.37 لاکھ کروڑ روپے کے بقدر تک پہنچ گئی

प्रविष्टि तिथि: 11 AUG 2026 6:39PM by PIB Delhi

30 جولائی 2026 تک گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس (جی ای ایم) پر درج رجسٹرایم ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس، خواتین صنعت کاروں اور سیلف ہیلپ گروپوں (ایس ایچ جیز) کی تعداد کی تفصیلات زمرے کے لحاظ سے ذیل میں دی گئی ہیں:

فروخت کنندہ گروپ

کل ہند

کرناٹک

بنگلورو

ایم ایس ایم ایز

11,75,001

55,053

16,091

اسٹارٹ اپس

37,758

2,772

1,951

خواتین صنعت کاران

2,17,155

10,896

3,052

سیلف ہیلپ گروپس

3,784

266

09

ہاں، گذشتہ پانچ برسوں کے دوران جی ای ایم کے توسط سے ایم ایس ایم ای سے کی گئی خریداری میں اضافہ ہوا۔ گذشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران جی ای ایم کے توسط سے ایم ایس ایم ایز سے کی گئی خریداری کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

مالی برس

مجموعی آرڈر کی قدرو قیمت (کروڑ روپے میں)

ایم ایس ایم ای کے آرڈر کی قدرو قیمت (کروڑ روپے میں)

خریداری کا تناسب

مالی برس 2021-22

1,06,597

59,033

0.554

مالی برس 2022-23

2,01,317

97,332

0.483

مالی برس 2023-24

4,03,569

1,90,485

0.472

مالی برس 2024-25

5,41,602

1,95,976

0.362

مالی برس 2025-26

5,02,776

2,37,235

0.472

 

جی ای ایم نے خریداری کے مشکوک رجحانات کی نشاندہی کے لیے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی تجزیاتی ماڈلز کا استعمال شروع کر دیا ہے، جس میں خریدار اور بیچنے والے کے درمیان ممکنہ ملی بھگت، غیر معمولی قیمتیں اور بار بار ایک ہی طرح سے حصہ لینے کے رجحانات شامل ہیں۔ یہ ماڈلز آرڈر کی تقسیم (آرڈر اسپلٹنگ)، یکساں ڈیجیٹل اثرات کی بنیاد پر خریدار اور بیچنے والے کے درمیان مشکوک ملی بھگت، بولی دہندگان کی اہلیت کا تناسب، اور مصنوعات کی اوسط قیمتوں کے مقابلے میں خریداری کی قیمتوں جیسے معاملات کی نشاندہی کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ان تجزیاتی ٹولز کے ذریعے سامنے آنے والے کیسز خریدار تنظیموں کے اندر متعلقہ حکام کو مزید جائزے اور ضروری کارروائی کے لیے فراہم کر دیے جاتے ہیں۔

جی ای ایم بولی دہندگان کے ڈیجیٹل اثرات، جیسے کہ آئی پی ایڈریس، بولی کی قیمتیں، اور جمع کرانے کے اوقات وغیرہ کی بنیاد پر کسی بھی مشکوک کارٹل کی نشاندہی کے لیے کمپیٹیشن کمیشن آف انڈیا کی ٹول کٹ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ جی ای ایم نے ایک انسیڈنٹ مینجمنٹ فریم ورک قائم کیا ہے جس کے تحت جھوٹی دستاویزات جمع کرانے، دھوکہ دہی کے ہتھکنڈوں، ملی بھگت کے رویے اور دیگر بداعمالیوں سے متعلق خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور جی ای ایم کی پالیسیوں کے مطابق باقاعدگی سے مناسب انتظامی کارروائی، بشمول معطلی اور دیگر اقدامات کیے جاتے ہیں۔

گذشتہ تین مالی برسوں کے دوران معطل کیے گئے فروخت کنندگان کی تعداد  سے متعلق تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں:

مالی برس

درج کیے گئے واقعات

معطل کیے گئے فروخت کنندگان

2023-24

1,96,793

72,902

2024-25

1,96,803

62,091

2025-26

1,81,035

55,772

 

معطلی کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں:

  • پروڈکٹس/سروسز کو غلط کیٹیگری میں شامل کرنا یا غلط تفصیلات کے ساتھ درج کرنا۔
  • غیر مناسب یا حد سے زیادہ قیمت کی پیشکش کرنا۔
  • معاہدے کے مطابق سامان یا خدمات کی فراہمی میں تاخیر کرنا۔
  • معاہدہ طے پانے کے بعد پروڈکٹس/سروسز فراہم کرنے سے انکار کرنا۔

جی ای ایم نے وینڈر کی تصدیق اور خریداری کی شفافیت کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد حفاظتی اقدامات نافذ کیے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

 

  • جی ای ایم کا وینڈر کی رجسٹریشن کا عمل مکمل طور پر آن لائن ہے۔
  • جی ای ایم نے خریداری میں بے ضابطگیوں جیسے کہ آرڈر کی تقسیم، مشکوک بولی لگانے، غیر معمولی قیمتوں اور ممکنہ ملی بھگت کا پتہ لگانے کے لیے جدید تجزیاتی ٹولز کا استعمال کیا ہے، اور نشاندہی کیے گئے کیسز کارروائی کے لیے بنیادی خریدار کے ڈیش بورڈ پر ظاہر کر دیے جاتے ہیں۔

مسابقت کے خلاف رویے یا ملی بھگت سے گروہ بندی کو جی ای ایم کے انسیڈنٹ مینجمنٹ فریم ورک کے تحت ایک شدید/سنگین خلاف ورزی کے طور پر درجہ بندی کیا گیا ہے، جس میں جرم ثابت ہونے والے کیسز پر 365 دنوں تک کی معطلی کی سزا دی جاتی ہے۔

یہ جانکاری تجارت و صنعت کے وزیر مملکت جناب جتن پرساد نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی

**********

 (ش ح –ا ب ن)

U.No:1866


(रिलीज़ आईडी: 2297864) आगंतुक पटल : 4
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी