وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
ساحلی ماہی گیروں کے لئے امداد
प्रविष्टि तिथि:
11 AUG 2026 5:22PM by PIB Delhi
ملک میں مچھلی کی سالانہ پیداوار میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو 2020-21 میں 147.25 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 197.75 لاکھ ٹن ہو گئی۔ 2020-21 سے 2024-25 کے دوران سالانہ مچھلی کی پیداوار کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
:
|
نمبر شمار
|
سال
|
مچھلی کی پیداوار (لاکھ ٹن میں)
|
|
1
|
21-2020
|
147.25
|
|
2
|
22-2021
|
162.48
|
|
3
|
2022-23
|
175.45
|
|
4
|
2023-24
|
183.93
|
|
5
|
2024-25
|
197.75
|
محکمۂ ماہی پروری، وزارت ماہی پروری، مویشی پالن اور ڈیری نے ملک میں ماہی پروری کے شعبے کی جامع ترقی، بشمول ساحلی ماہی گیروں کی فلاح و بہبود، کے لیے درج ذیل اسکیمیں/پروگرام نافذ کیے ہیں:
1) پردھان منتری مَتسّیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی):محکمہ مالی سال 2020-21 سے پردھان منتری مَتسّیہ سمپدا یوجنا نافذ کر رہا ہے۔ اس کے تحت ملک میں ماہی پروری کے شعبے کی جامع ترقی، بشمول ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی فلاح و بہبودکے لیے 20,750 کروڑ روپے کی تخمینی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔
2) ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا فنڈ (ایف آئی ڈی ایف):ماہی پروری کے شعبے میں بنیادی ڈھانچے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2018-19 میں ماہی پروری اور آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا فنڈ شروع کیا گیا، جس کے لیے مجموعی طور پر 7,522.48 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ایف آئی ڈی ایف کے تحت اہل اداروں، جن میں ریاستی حکومتیں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے بھی شامل ہیں- کو ماہی پروری کے لیے شناخت شدہ بنیادی ڈھانچے کی سہولتیں تیار کرنے کے لیے رعایتی شرح پر مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت ہند کا محکمۂ ماہی پروری، رعایتی مالی اعانت فراہم کرنے والے مرکزی قرض فراہم کرنے والے اداروں کے ذریعہ کم از کم 5 فیصد سالانہ شرحِ سود پر قرض فراہم کرنے کے لیے 2 سال کی مہلت سمیت 12 سال کی ادائیگی کی مدت کے دوران سالانہ 3 فیصد تک سود میں رعایت فراہم کرتا ہے۔
3) پردھان منتری مَتسّیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم ایم کے ایس ایس وائی): ماہی پروری کے شعبے کو مضبوط بنانے اور ماہی پروری کی ویلیو چین میں کارکردگی بہتر بنانے کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت ہند کا محکمۂ ماہی پروری، پردھان منتری مَتسّیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت پردھان منتری مَتسّیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم ایم کے ایس ایس وائی) نامی مرکزی شعبہ جاتی ذیلی اسکیم نافذ کر رہا ہے، جس کے لیے 6,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ پی ایم ایم کے ایس ایس وائی کا مقصد ماہی پروری کے شعبے کو باقاعدہ اور منظم بنانا، آبی زراعت کی بیمہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا، ماہی پروری سے وابستہ چھوٹے اور بہت چھوٹے کاروباری اداروں کی ویلیو چین کی کارکردگی بہتر بنانا اور محفوظ مچھلی کی پیداوار کے لیے حفاظتی اور معیاری نظام اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
4) ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کی سہولت:اس کے علاوہ، حکومت ہند نے مالی سال 2018-19 سے ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ (کے سی سی) کی سہولت بھی فراہم کی ہے تاکہ وہ اپنی کاروباری اور روزمرہ کام کے لیے درکار سرمایہ کی ضروریات پوری کر سکیں۔
ماہی گیری کی بندرگاہوں، مچھلی اتارنے کے مراکز اور ماہی پروری کے بنیادی ڈھانچے کی سہولتوں کی ترقی ان اہم شعبوں میں شامل ہے جنہیں پردھان منتری مَتسّیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) اور ماہی پروری و آبی زراعت کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے فنڈ (ایف آئی ڈی ایف) کے تحت فروغ اور معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ پی ایم ایم ایس وائی کے تحت حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ماہی گیری کی بندرگاہوں کی ترقی/جدید کاری کے 28 منصوبوں، مچھلی اتارنے کے مراکز کے 25 منصوبوں اور ڈریجنگ کے 23 منصوبوں کو منظوری دی ہے، جن کی مجموعی منظور شدہ لاگت 3,741.89 کروڑ روپے ہے۔
ایف آئی ڈی ایف کے تحت حکومت ہند کے محکمۂ ماہی پروری نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مزید 94 ماہی گیری کی بندرگاہوں اور مچھلی اتارنے کے مراکز کے منصوبوں کو منظوری دی ہےجن کی مجموعی لاگت 4,916.46 کروڑ روپے ہے، جبکہ سود میں رعایت کے لیے ان منصوبوں کی قابل قبول لاگت 3,651.19 کروڑ روپے تک محدود ہے۔
حکومت ہند کے محکمۂ ماہی پروری نے پی ایم ایم ایس وائی اور ایف آئی ڈی ایف کے تحت ساحلی علاقوں سمیت ملک بھر میں کولڈ چین اور مارکیٹنگ کی سہولتوں کی ترقی کے لیے 2,797 کروڑ روپے مالیت کی تجاویز کو بھی منظوری دی ہے۔ منظور شدہ اہم سرگرمیوں میں 775 کولڈ اسٹوریج اور برف تیار کرنے کے پلانٹس اور مچھلی کی نقل و حمل کی 28,489 سہولتیں شامل ہیں۔ ان میں برف کے ڈبوں سے لیس 13,718 موٹر سائیکلیں، 8,527 سائیکلیں، 4,257 آٹو رکشا، 1,577 موصل ٹرک اور 410 ریفریجریٹیڈ ٹرک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 1,394 زندہ مچھلی فروخت کرنے کے یونٹس، 6,018 مچھلی کیوسک، 117 خوردہ مچھلی منڈیاں اور 24 تھوک مچھلی منڈیاں تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں منظور کی گئی ہیں۔
مالی سال 2020-21 سے مالی سال 2025-26 کے دوران پی ایم ایم ایس وائی کے تحت منظور کیے گئے منصوبوں، جاری کیے گئے فنڈز اور مستفیدین کی تعداد کی ریاست وار تفصیلات ضمیمہ میں فراہم کی گئی ہیں۔
ضمیمہ
ساحلی ماہی گیروں کو فراہم کی جانے والی مالی معاونت سے متعلق بیان
پردھان منتری مَتسّیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت 2020-21 سے 2025-26 کے دوران منظور کیے گئے منصوبوں، مرکزی حصے، جاری کیے گئے مرکزی فنڈز اور مستفیدین کی تعداد کی ریاست وار تفصیلات
|
نمبر شمار
|
ریاست / مرکز کے زیر کنٹرول علاقے
|
روپے کروڑ میں
|
فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد
|
|
پروجیکٹ لاگت
|
مرکزی حصہ
|
جاری مرکزی فنڈ
|
|
1
|
جزائر انڈمان اور نکوبار
|
269.84
|
245.33
|
17.09
|
2025
|
|
2
|
آندھرا پردیش
|
2,328.89
|
681.38
|
444.95
|
531991
|
|
3
|
اروناچل پردیش
|
230.31
|
159.18
|
127.09
|
6848
|
|
4
|
آسام
|
541.63
|
298.44
|
218.51
|
127019
|
|
5
|
بہار
|
579.62
|
193.12
|
121.93
|
85362
|
|
6
|
چھتیس گڑھ
|
956.86
|
321.01
|
272.37
|
223578
|
|
7
|
دہلی
|
5.33
|
2.86
|
1.63
|
45
|
|
8
|
گوا
|
147.24
|
72.19
|
53.05
|
803
|
|
9
|
گجرات
|
910.75
|
346.74
|
173.35
|
40292
|
|
10
|
ہریانہ
|
760.87
|
262.16
|
162.75
|
28148
|
|
11
|
ہماچل پردیش
|
156.03
|
79.93
|
78.91
|
25012
|
|
12
|
جموں و کشمیر
|
154.57
|
81.43
|
79.61
|
90446
|
|
13
|
جھارکھنڈ
|
472.63
|
166.58
|
118.50
|
15944
|
|
14
|
کرناٹک
|
1,053.60
|
380.32
|
328.29
|
152228
|
|
15
|
کیرالہ
|
1,329.63
|
570.49
|
432.22
|
1012025
|
|
16
|
لداخ
|
33.49
|
20.10
|
12.17
|
864
|
|
17
|
لکشدیپ
|
62.45
|
44.22
|
14.42
|
4096
|
|
18
|
مدھیہ پردیش
|
910.81
|
305.51
|
292.27
|
138688
|
|
19
|
مہاراشٹر
|
1,601.44
|
593.33
|
392.11
|
73733
|
|
20
|
منی پور
|
201.82
|
95.84
|
29.92
|
9791
|
|
21
|
میگھالیہ
|
132.62
|
74.26
|
65.44
|
8360
|
|
22
|
میزورم
|
154.17
|
85.61
|
83.52
|
92879
|
|
23
|
ناگالینڈ
|
168.33
|
109.56
|
89.17
|
13755
|
|
24
|
اوڈیشہ
|
1,301.19
|
484.66
|
361.35
|
91558
|
|
25
|
پڈوچیری
|
351.26
|
296.44
|
92.40
|
164702
|
|
26
|
پنجاب
|
162.23
|
46.96
|
29.46
|
6400
|
|
27
|
راجستھان
|
70.38
|
24.53
|
8.90
|
8397
|
|
28
|
سکم
|
83.68
|
51.70
|
43.98
|
2631
|
|
29
|
تمل ناڈو
|
1,236.21
|
474.99
|
223.02
|
1198127
|
|
30
|
تلنگانہ
|
353.02
|
112.69
|
41.19
|
435123
|
|
31
|
دادرا نگر حویلی اور دامن اور دیو
|
129.89
|
127.16
|
1.79
|
42
|
|
32
|
تری پورہ
|
262.93
|
150.60
|
91.45
|
66147
|
|
33
|
اتر پردیش
|
1,294.32
|
412.30
|
336.61
|
52124
|
|
34
|
اتراکھنڈ
|
317.25
|
170.20
|
166.68
|
17339
|
|
35
|
مغربی بنگال
|
546.38
|
223.19
|
87.04
|
5666
|
|
اے
|
مجموعی (سی ایس ایس)
|
19,271.67
|
7765.01
|
5,093.16
|
4732188
|
|
بی
|
پی ایم ایم ایس وائی کا مرکزی سیکٹرا سکیم کا جزو
|
2,312.92
|
1,929.68
|
1,112.62
|
-
|
|
اے+ بی
|
کل(سی ایس ایس + سی ایس)
|
21,584.59
|
9,694.69
|
6,205.78
|
4732188
|
یہ معلومات ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کے وزیر جناب راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے یوان زیریں- لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دی۔
******
ش ح -ظ ا- ت ع
UR NO. 1841
(रिलीज़ आईडी: 2297807)
आगंतुक पटल : 6