سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
اڈیشہ کی ریئرارتھ کاریڈور، بحری بایو ٹیکنالوجی اور خلائی صلاحیتیں، سائنس پر مبنی ترقی کے لیے نئے مواقع پیدا کریں گی: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
اڈیشہ کے سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر جناب کرشن چندر پاترا نے ڈاکٹر جتیندر سنگھ سے ملاقات کی؛ مربوط سائنس اور ٹیکنالوجی کے اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا
حکومتِ ہند کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے سے وابستہ بھونیشور کے انسٹی ٹیوٹ آف لائف سائنسز کی توسیع کو حتمی شکل دی گئی؛ ریاستی حکومت کی جانب سے مزید 50 ایکڑ اراضی فراہم کی جائے گی
مشرقی ساحلی خطہ، بھارت کے نیوکلیائی اور بحری خاکے میں اہم کردار ادا کرے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
او ایم بی آر آئی سی کو ارضیاتی سائنسز، سی ایس آئی آر اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا
प्रविष्टि तिथि:
11 AUG 2026 4:59PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) نیز وزیر اعظم کے دفتر، عملے، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اڈیشہ کے لیے ایک مربوط لائحۂ عمل پیش کیا ہے، جس میں حکومتِ ہند کی جانب سے مجوزہ ’’نایاب ارضی عناصر کی راہداری‘‘، ریاست کے بھرپور بحری اور ساحلی وسائل، حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے نظام، خلائی صلاحیتوں اور سائنسی اداروں کے نیٹ ورک کو یکجا کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اڈیشہ کے سائنس و ٹیکنالوجی کے کابینی وزیر، جناب کرشن چندر پاترا کے ساتھ اس لائحۂ عمل پر تبادلۂ خیال کیا، جنہوں نے ان سے ملاقات کرکے ریاست کی سائنس و ٹیکنالوجی سے متعلق ترجیحات کے حوالے سے متعدد تجاویز پیش کیں۔اس ملاقات میں بحری حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی توسیع، حیاتیاتی علوم کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، اڈیشہ کے ساحلی اور معدنی وسائل کے زیادہ سے زیادہ استعمال، خلائی ایپلی کیشنز اور مینوفیکچرنگ، نایاب ارضی عناصر کی تلاش، سائنسی بنیادی ڈھانچے اور ساحلی اضلاع کی قومی بحری و ماحولیاتی اقدامات میں شرکت سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
میٹنگ میں حکومتِ ہند کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے سے وابستہ بھونیشور کے ’’انسٹی ٹیوٹ آف لائف سائنسز‘‘ کی توسیع کو حتمی شکل دی گئی، جس کے لیے اڈیشہ کی ریاستی حکومت کی جانب سے مزید 50 ایکڑ اراضی فراہم کی جائے گی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مشرقی ساحلی خطہ بھارت کے ابھرتے ہوئے نیوکلیائی اور بحری ترقیاتی لائحۂ عمل میں کہیں زیادہ اہم رول ادا کر سکتا ہے اور اڈیشہ مرکزی سائنسی اداروں اور ریاستی حکومت کے درمیان مربوط کوششوں کے ذریعے اس میں اہم تعاون کے لیے موزوں حیثیت رکھتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد انفرادی ادارہ جاتی اقدامات سے آگے بڑھ کر ایک مربوط نظام تشکیل دینا ہے، جس میں سمندری وسائل، اہم معدنیات، حیاتیاتی علوم، خلائی ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی پر مبنی معاشی ترقی ایک دوسرے سے مربوط ہوں۔
مذاکرات کا ایک اہم جزو، اڈیشہ میرین بایوٹیکنالوجی ریسرچ اینڈ انوویشن کوریڈور (او ایم بی آر آئی سی) رہا، جسے ریاست کے سرکردہ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ او ایم بی آر آئی سی نے پہلے ہی آئی آئی ٹی بھونیشور، برہم پور یونیورسٹی، فکیر موہن یونیورسٹی، این آئی ٹی راؤرکیلا، آئی آئی ایس ای آر برہم پور اور انسٹی ٹیوٹ آف لائف سائنسز، بھونیشور کے ساتھ شراکت داری قائم کر لی ہے۔ اگلے مرحلے میں اس ادارہ جاتی نیٹ ورک کو ارضیاتی علوم، سائنسی و صنعتی تحقیق اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے کے ساتھ مزید ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ اڈیشہ کے بحری وسائل کو جدید تحقیق، حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال اور صنعتی اختراع سے مربوط کیا جا سکے۔
میٹنگ میں حکومتِ ہند کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے محکمے سے وابستہ بھونیشور کے ’’انسٹی ٹیوٹ آف لائف سائنسز‘‘ کی توسیع پر بھی مزید پیش رفت ہوئی، جس کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے مزید 50 ایکڑ اراضی فراہم کی جائے گی تاکہ ادارے کی مستقبل کی ترقی میں مدد حاصل ہو سکے۔ ادارے کی توسیع سے حیاتیاتی علوم اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تحقیق کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم ہو سکتی ہے اور بایو-ای- تھری فریم ورک، یعنی معیشت، ماحولیات اور روزگار کے لیے حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق اقدامات کو بھی تقویت حاصل ہوسکتی ہے۔ اڈیشہ کے وسیع ساحلی علاقے، بحری حیاتیاتی تنوع اور وسائل کے وسیع ذخیرے کے پیش نظر اس کی خاص اہمیت ہے۔ ریاست کا بحری ماحولیاتی نظام حیاتیاتی وسائل، صحت، خوراک، مواد اور ماحولیاتی حل جیسے شعبوں میں حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے استعمال کے نئے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔
بحری حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے درمیان مجوزہ ہم آہنگی کا مقصد اڈیشہ کے ساحلی وسائل کی سائنسی سمجھ اور پائیدار استعمال کو بھی مضبوط بنانا ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت بحری سائنس، ارضیاتی علوم، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور معدنی وسائل کی تحقیق کے ماہرین کو ایک ساتھ لایا جائے گا، جس سے مشترکہ پروجیکٹوں اور ٹیکنالوجی کی تیاری کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔
اڈیشہ میں خلائی ایپلی کیشنز مرکز بھی مذاکرات کا ایک اہم حصہ رہا۔ میٹنگ میں ریاست کی خلائی صلاحیتوں کو اسرو کے ساتھ اور زیادہ قریب سے مربوط کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا، جس میں سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت خلائی تحقیق اور مینوفیکچرنگ مرکز قائم کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔ ایسا نظام سرکاری اداروں، قومی خلائی ایجنسیوں، تحقیقی تنظیموں اور صنعت کو ایک پلیٹ فارم پر یکجاکر سکتا ہے، جس سے نہ صرف خلائی ایپلی کیشنز بلکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی تیاری اور مینوفیکچرنگ کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
مذاکرات میں ابھرتے ہوئے نایاب ارضی عناصر کے نظام میں اڈیشہ کے رول پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مرکزی بجٹ 2026-27 میں اڈیشہ، کیرالہ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو میں مخصوص نایاب ارضی عناصر کی راہداریوں کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں کان کنی، پراسیسنگ، تحقیق اور مینوفیکچرنگ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد نایاب ارضی عناصر کے لیے ملک میں ایک مربوط قدر افزا سلسلہ تشکیل دینا اور جدید مواد اور اہمیت کے حامل شعبوں میں بھارت کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
اس تناظر میں اڈیشہ کے ساحلی معدنی وسائل اور اس کی موجودہ سائنسی و ادارہ جاتی صلاحیتیں مزید دریافت اور ٹیکنالوجی کی تیاری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ میٹنگ میں نایاب ارضی عناصر کی دریافت اور متعلقہ سائنسی صلاحیتوں سے متعلق کام کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ ان کوششوں کو ایٹمی معدنیات، جدید مواد اور اہمیت کی حامل ٹیکنالوجی سے متعلق وسیع تر قومی ترجیحات کے ساتھ مربوط کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ اڈیشہ پہلے ہی نایاب ارضی عناصر کے نظام میں اہم مقام رکھتا ہے اور یہاں بھارت میں نایاب ارضی عناصر کی پراسیسنگ سے متعلق سہولیات بھی موجود ہیں۔
گہرے سمندر کے مشن اور گہرے سمندر میں ماہی گیری کے ابھرتے ہوئے مواقع بھی ساحلی ترقی کے وسیع تر ایجنڈے کا حصہ رہے۔ اڈیشہ کی طویل ساحلی پٹی اور بحری وسائل کا وسیع ذخیرہ سمندری سائنس، ماہی گیری، بحری ٹیکنالوجی اور ساحلی اقتصادی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے وسیع امکانات فراہم کرتا ہے۔ ریاست نے حال ہی میں اڈیشہ ڈیپ سی فشنگ مشن (2026-2036) کو آگے بڑھایا ہے، جس کا مقصد سمندر کے دور دراز اور گہرے حصوں میں ماہی گیری کی صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرنا اور بحری معیشت کے گرد مضبوط قدر افزا سلسلے تشکیل دینا ہے۔
اڈیشہ میں مجوزہ سائنس سٹی کو بھی ریاست کے وسیع ہوتے سائنس و ٹیکنالوجی کے نظام کے ایک اہم عوامی جزو کے طور پر زیر بحث لایا گیا۔ یہ اقدام سائنسی بیداری، اختراع، عملی تجربے پر مبنی تعلیم اور نوجوانوں کی سائنس و ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ وابستگی کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کر سکتا ہے اور ریاست میں تیار کیے جا رہے تحقیقی بنیادی ڈھانچے کی تکمیل کرے گا۔
بات چیت میں ریاست میں موجود مرکزی اور قومی سائنسی اداروں کے مضبوط نیٹ ورک سے مشترکہ پروجیکٹوں کے لیے استفادہ کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ بحری علوم، ارضیاتی علوم، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، اہم معدنیات اور خلائی ایپلی کیشنز کے شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی سے ریاست میں ایک زیادہ مربوط تحقیقی اور اختراعی نظام تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
میٹنگ میں اڈیشہ کی آئندہ ’’سوچھ ساگر، سرکشِت ساگر‘‘ مہم میں شرکت بھی شامل رہی۔ ریاست کے متعدد ساحلی اضلاع کے اس اقدام میں حصہ لینے کے ساتھ، ضلع انتظامیہ کے ساتھ ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ عوامی شرکت، ساحلی صفائی کی سرگرمیوں اور بحری ماحول کے تحفظ کے بارے میں وسیع تر بیداری کو فروغ دیا جا سکے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور جناب کرشن چندر پاترا نے ان اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے مرکز اور ریاست کے درمیان مسلسل تعاون کی اہمیت سے بھی اتفاق کیا۔ بحری وسائل، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، اہم معدنیات، خلائی ٹیکنالوجی اور سائنسی بنیادی ڈھانچے کے مجوزہ باہمی امتزاج سے اڈیشہ کو مشرقی ساحلی خطے کے لیے سائنس پر مبنی ترقی کا ایک منفرد ماڈل تشکیل دینے کا موقع حاصل ہوسکتا ہے، جبکہ یہ ٹیکنالوجی میں خود کفالت اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال کے بھارت کے وسیع تر مقاصد میں بھی معاون ثابت ہوگا۔


******
ش ح ۔ ش م ۔ م ا
UR No-1840
(रिलीज़ आईडी: 2297798)
आगंतुक पटल : 8