وزارت آیوش
شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعہ آیوش کے شعبہ کو مضبوط بنانا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 JUL 2026 4:16PM by PIB Delhi
وزارت آیوش نے آیوش نظامِ طب میں شواہد پر مبنی تحقیق انجام دینے، اس میں ہم آہنگی پیدا کرنے، تحقیق کے موضوعات مرتب کرنے، اسے فروغ دینے اور ترقی دینے کے لیے تحقیقی کونسلیں قائم کی ہیں۔ ان کونسلوں کی تحقیقی سرگرمیوں میں طبی تحقیق، ادویات کے معیار کا تعین، ادویاتی اثرات سے متعلق تحقیق، دواؤں کے پودوں پر تحقیق، ادبی تحقیق اور دستاویزی پروگرام، بنیادی تحقیق، ادویہ سازی سے متعلق تحقیق اور صحت عامہ سے متعلق تحقیق شامل ہیں۔ آیوش ریسرچ پورٹل ایک مرکزی ڈجیٹل ذخیرہ ہے، جس میں آیوش کے تمام نظام طب سے متعلق43,722 شواہد پر مبنی تحقیقی مضامین موجود ہیں۔ وزارت آیوش کے شعبے میں تعلیم اور تحقیق کو فروغ دینے کے لیے ‘آیوروگیان اسکیم’ نامی مرکزی شعبہ جاتی اسکیم بھی نافذ کر رہی ہے۔ اس کے تحت بیرونی تحقیقی منصوبوں کے ذریعے آیوش کے شعبہ میں تحقیق اور اختراع کی معاونت کی جاتی ہے، جبکہ تعلیمی سرگرمیوں، تربیت، استعداد کار میں اضافے اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے بھی تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔
ادویات اور کاسمیٹکس ایکٹ- 1940 اور ادویات کے قواعد- 1945 میں آیوروید، سدّھ، سووا رِگپا، یونانی اور ہومیوپیتھی (اے ایس ایس یو اینڈ ایچ) ادویات کے لیے مخصوص ضابطہ جاتی دفعات موجود ہیں۔ مینوفیکچررز کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ ادویات اور تیاری کے مراکز کے لائسنس کے لیے مقررہ تقاضوں کی پابندی کریں، جن میں ادویات کی حفاظت اور مؤثریت کے ثبوت فراہم کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ، بالترتیب آیوروید، سدّھ، سووا رِگپا، یونانی اور ہومیوپیتھی ادویات کے لیے ادویات کے قواعد- 1945 کے شیڈول ٹی اور شیڈول ایم کے مطابق اچھے طریق تیاری کے اصولوں (جی ایم پی) کی پابندی اور متعلقہ فارماکوپیا میں مقرر کردہ ادویات کے معیار پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔
ڈرگ انسپکٹرز اپنے دائرۂ اختیار میں آنے والی دوا ساز کمپنیوں یا خوردہ دکانوں سے باقاعدگی سے ادویات کے نمونے حاصل کرتے ہیں اور انہیں معیار کی جانچ کے لیے محکمۂ کنٹرول ادویات کی ادویات جانچنے والی تجربہ گاہ میں بھیجتے ہیں۔ اگر کوئی ‘نمونہ مقررہ معیار کے مطابق نہ ہونے والا’ پایا جاتا ہے تو مناسب کارروائی شروع کی جاتی ہے، جس میں بازار میں ایسی ادویات کی فروخت روکنا اور ادویات اور کاسمیٹکس ایکٹ- 1940 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق قانونی کارروائی کرنا شامل ہے۔ ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں34 ادویات جانچنے والی تجربہ گاہیں موجود ہیں، جہاں متعلقہ ریاست/مرکز کے زیرانتظام علاقے کے ڈرگ انسپکٹرز کی جانب سے حاصل کیے گئے قانونی نمونوں کی جانچ کی جاتی ہے۔
ہندوستانی طب اور ہومیوپیتھی کے لیے فارماکوپیا کمیشن (پی سی آئی ایم اینڈ ایچ)، جو وزارت آیوش کے ماتحت ایک ذیلی ادارہ ہے، آیوش ادویات کے لیے فارماکوپیا کے معیارات اور فارمولری سے متعلق وضاحتیں مرتب کرتا ہے۔ یہ معیارات آیوش ادویات کی شناخت، خالص پن اور طاقت کے تعین کے لیے سرکاری معیار کی کتابوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ادویات اور کاسمیٹکس ایکٹ- 1940 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کے مطابق ان معیارات کی پابندی لازمی ہے۔ پی سی آئی ایم اینڈ ایچ آیوش ادویات کے لیے اپیل کی سطح کی ادویات جانچنے والی تجربہ گاہ کے طور پر بھی کام کرتا ہے اور آیوش ادویات کے معیار کو یقینی بنانے کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ادویات کے ضابطہ کار اداروں، ادویات کے تجزیہ کاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے معیاری کاری، معیار کے کنٹرول اور جانچ کے طریق کار سے متعلق باقاعدگی سے استعدادِ کار بڑھانے کے پروگرام منعقد کرتا ہے۔
ادویات جانچنے والی تجربہ گاہوں کو ادویات کے قواعد- 1945 کے قواعد 160اے سے 160جےکے تحت وزارت آیوش کی جانب سے آیوش ادویات کی شناخت، خالص پن، معیار اور طاقت سے متعلق جانچ کے لیے منظوری دی جاتی ہے۔ اس وقت تک ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں118 نجی ادویات جانچنے والی تجربہ گاہوں کو وزارت کی جانب سے ادویات کے قواعد-1945 کی دفعات کے مطابق ایسی جانچ کرنے کے لیے منظوری دی جا چکی ہے۔
مزید برآں، وزارت آیوش آیوش اوشدھی گن وتا ایوم اُتپادن سموردھن یوجنا (اے او جی یو ایس وائی) نامی مرکزی شعبہ جاتی اسکیم نافذ کر رہی ہے، جس کے تحت آیوش ادویہ ساز اداروں اور ادویات جانچنے والی تجربہ گاہوں کو بالترتیب عالمی ادارۂ صحت کے اچھے طریق تیاری کے اصولوں (ڈبلیو ایچ او-جی ایم پی) اورقومی منظوری بورڈ برائے جانچ اور کیلیبریشن لیبارٹریز (این اے بی ایل) جیسے اعلیٰ معیارات حاصل کرنے میں معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ، وزارت آیوش نے آیوش مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانے اور ان کی سند حاصل کرنے کیلئے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:
- ضابطہ جاتی نگرانی کو مضبوط بنانے کے لیےمرکزی ادویات معیاری کنٹرول تنظیم (سی ڈی ایس سی او) میں آیوش شعبہ، ریاستی/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی لائسنسنگ اتھارٹیز کے ساتھ مشترکہ معائنوں کے ذریعے اہل آیوش ادویات کے لیےعالمی ادارۂ صحت کا سرٹیفکیٹ برائے دوا سازی کی مصنوعات (ڈبلیو ایچ او-کوپ) جاری کرنے میں سہولت فراہم کرتا ہے۔
- آیوش معیاری نشان اور آیوش اعلیٰ معیار کا نشان، آیوش ادویات کوکوالٹی کونسل آف انڈیا (کیو سی آئی) کی جانب سے مقررہ قومی اور بین الاقوامی معیار کی پابندی کے تیسرے فریق کے ذریعے کیے گئے جائزے کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔
- آیوش کوالٹی مارک پروگرام وزارت آیوش نے معیار کو یقینی بنانے کے نظام کو مضبوط کرنے، صارفین کا اعتماد بڑھانے اور آیوش مصنوعات و خدمات کی عالمی سطح پر شناخت اور مسابقتی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے شروع کیا ہے۔
وزارت آیوش، آیوش کے نظامِ طب کی مجموعی ترقی اور فروغ کے لیے ریاستی/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی حکومتوں کے ذریعے قومی آیوش مشن (این اے ایم) کی مرکزی معاونت یافتہ اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو ان کے ریاستی سالانہ عملی منصوبوں (ایس اے اے پیز) کے ذریعے موصول ہونے والی تجاویز کی بنیاد پر، جائزے، منظوری اور فنڈز کی دستیابی سے مشروط مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
چونکہ صحت عامہ ریاستی موضوع ہے اس لیے آیوشمان آروگیہ مندر (آیوش) اور آیوش کے تعلیمی اداروں کا قیام اور ان کی بہتری متعلقہ ریاستی/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کی حکومتیں قومی آیوش مشن کے تحت فراہم کی جانے والی مالی معاونت سے انجام دیتی ہیں۔ قومی آیوش مشن کے تحت درج ذیل امور کے لیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے:
(i) آیوش ڈسپنسریوں اور ذیلی صحت مراکز کو آیوشمان آروگیہ مندر (آیوش) میں تبدیل کرکے ان کی بہتری؛
(ii) آیوش کے انڈرگریجویٹ (یو جی) اور پوسٹ گریجویٹ (پی جی) تعلیمی اداروں کی بہتری؛ اور
(iii) ان ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں نئے سرکاری آیوش کالجوں کا قیام جہاں آیوش کے تدریسی اداروں کی دستیابی ناکافی ہے۔
ریاستوں/مرکز کے زیرانتظام علاقوں کو مالی معاونت منظور شدہ ریاستی سالانہ عملی منصوبوں (ایس اے اے پیز) ، اسکیم کے رہنما خطوط کی دفعات اور دستیاب فنڈز کے مطابق جاری کی جاتی ہے۔
آیوش گرڈ منصوبہ آیوش کے شعبے میں ڈجیٹل تبدیلی کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال، تحقیق و ترقی، تعلیم، بیداری، شہری خدمات وغیرہ کے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، مشین لرننگ (ایم ایل) اور دیگر جدید ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو مربوط کرکے ڈجیٹل تبدیلی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے تحت 24 ای-گورننس پلیٹ فارم تیار کیے گئے ہیں اور ملک بھر میں ان تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔ مائی آیوش انٹیگریٹڈ سروسز پورٹل (ایم اے آئی ایس پی) وزارتِ آیوش کا مرکزی پورٹل ہے، جو آیوش سے متعلق تمام ایپلی کیشنز اور خدمات کو ایک متحد ڈجیٹل نظام میں مربوط کرتا ہے۔
آیوشمان بھارت ڈجیٹل مشن (اے بی ڈی ایم) کے مطابق آیوش اسپتال مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (اے ایچ ایم آئی ایس) نافذ کیا گیا ہے، جس کا مقصد صحت کی خدمات کی فراہمی کو ڈجیٹل بنانا اور آیوش کے صحت مراکز کے انتظام کو بہتر بنانا ہے۔ مزید برآں، وزارت آیوش نے آیوش گرڈ اقدام کے تحت ایم اے آئی ایس پی پورٹل، یوگا پورٹل، ای ایل ایم ایس پورٹل، آیوش ریسرچ پورٹل، ای-چارک اور آیوش نِویش سارتھی میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹس اور ورچوول معاونین بھی متعارف کرائے ہیں، تاکہ روایتی نظام طب کو مضبوط بنایا جا سکے اور شہریوں پر مرکوز خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔ تفصیلات https://maisp.ayush.gov.in/index پر دستیاب ہیں۔
یہ ڈجیٹل حل معلومات اور علم کی ترسیل، تحقیقی مواد تک رسائی، تعلیم، سرمایہ کاری میں سہولت اور فرد کی ضروریات کے مطابق صحت و تندرستی سے متعلق رہنمائی فراہم کرتے ہیں، جس سے آیوش کے نظام میں رسائی، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی میں بہتری آ رہی ہے۔وزارتِ آیوش، دنیا بھر میں یوگا، آیوروید اور آیوش کے دیگر نظام طب سمیت آیوش کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کے فروغ کے لیے مرکزی شعبہ جاتی اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ اس اسکیم کے تحت بھارتی آیوش ادویات تیار کرنے والے اداروں اور آیوش خدمات فراہم کرنے والوں کو آیوش مصنوعات اور خدمات کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ یہ اسکیم آیوش کے نظام طب کے بین الاقوامی فروغ اور عالمی سطح پر اس کی شناخت کو بھی تقویت دیتی ہے، عالمی منڈیوں کی ترقی کے لیے متعلقہ فریقوں کے درمیان تعاون کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، بیرونِ ملک آیوش اکیڈمک چیئرز قائم کرکے تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے، اور آیوش کے نظام طب کے بارے میں بیداری پیدا کرنے اور عالمی سطح پر دلچسپی کو مضبوط بنانے کے لیے تربیتی پروگرام، ورکشاپس اور سمپوزیم منعقد کرتی ہے۔
وزارتِ آیوش نے 27 ممالک کے ساتھ بین الحکومتی مفاہمت ناموں، 16 آیوش چیئر مفاہمت ناموں اور اداروں کے درمیان تعاون کی سطح پر 57 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں۔ ہر سال وزارت آیوش غیر ملکی شہریوں کے لیے ہندوستان کے ممتاز اداروں میں آیوش کے کورسز کرنے کی غرض سے 104 نشستوں پر وظائف فراہم کرتی ہے۔ وزارت آیوش نے 19 دسمبر 2025 کو معیار کو یقینی بنانے کے نظام کو مضبوط کرنے اور آیوش مصنوعات و خدمات کی عالمی سطح پر شناخت بڑھانے کے لیے آیوش کوالٹی مارک پروگرام بھی شروع کیا۔
یہ معلومات آیوش کے مرکزی وزیرمملکت (آزادانہ چارج) جناب پرتاپ راؤ جادھو نے ایوان بالا- راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
******
ش ح -ظ ا- ش ب ن
UR NO. 1820
(ریلیز آئی ڈی: 2297643)
وزیٹر کاؤنٹر : 7