ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

پارلیمانی سوال: مانسون سائنس، موسمیاتی تحقیق اور موسم کی پیش گوئی کو جدید بنانے کی پہل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 05 AUG 2026 1:57PM by PIB Delhi

حالیہ مطالعات سے ظاہر ہوا ہے کہ گہرے عمودی اختلاط والے بادلوں کے تسلسل میں اضافہ ہوا ہے اور کم دورانیے میں ہونے والی زیادہ شدت کی شدید بارشوں کے معاملات بھی بڑھ رہے ہیں۔ سیٹلائٹ سے حاصل شدہ اعداد و شمار پر مبنی ایک حالیہ مطالعے میں برصغیرِ ہند اور اس سے متصل سمندری علاقوں میں گہرے عمودی اختلاط والے بادلوں کی بالائی سطح کی بلندی میں نمایاں اضافہ، نیز ایسے بادلوں کے نمودار ہونے کی شرح میں بھی نمایاں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ (https://doi.org/10.1029/2024GL111394)وسطی بھارت میں شدید بارش کے واقعات کی تعداد اور شدت میں نمایاں اضافے کا رجحان، جبکہ معتدل بارش کے واقعات کی تعداد میں نمایاں کمی کا رجحان بھی مطالعات کے ذریعے سامنے آیا ہے۔ (https://doi.org/10.1126/science.1132027).ملک بھر میں کم بلندی والے بادلوں میں طویل مدتی تبدیلیوں کا بھی محکمۂ موسمیاتِ ہند کی جانب سے جائزہ لیا گیا ہے۔ (https://doi.org/10.54302/mausam.v68i2.627).انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہونے والی عالمی موسمیاتی تبدیلی کے برصغیرِ ہند، اس سے متصل بحرِ ہند اور ہمالیہ کے علاقائی موسم اور مون سون پر پڑنے والے اثرات کا بھی ارضیاتی سائنس کی وزارت نے تفصیلی مطالعہ کیا ہے۔ (https://link.springer.com/book/10.1007/978-981-15-4327-2).

مشن موسم کا تصور اس واحد مقصد کے ساتھ پیش کیا گیا تھا کہ موسمیاتی ماڈلنگ، سیٹلائٹ مشاہدات، فضائی تحقیق اور عددی موسمی پیش گوئی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک مربوط نظام وضع کیا جائے، تاکہ مون سون کے بدلتے ہوئے انداز اور اس سے منسلک شدید موسمی واقعات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

  1. ہر ماہ اور ہر موسم کے لیے ماہانہ اور موسمی پیمانے پر عملی طویل مدتی پیش گوئی کے مقصد سے جدید ملٹی ماڈل اینسمبل (ایم ایم ای) اور باہم مربوط حرکیاتی موسمیاتی ماڈلز کو اپنایا جا رہا ہے۔
  2. عددی موسمی پیش گوئی (این ڈبلیو پی) کے ماڈلز کو ماڈل کی طبیعیات میں بہتری، اعلیٰ سطح پرمقامی حل، جدید ڈیٹا انضمام کی تکنیکوں اور بہتر کمپیوٹیشنل صلاحیتوں کے ذریعے مسلسل جدید بنایا جا رہا ہے۔
  3. اضافی ڈوپلر ویدر ریڈارز (ڈی ڈبلیو آرز)، بجلی گرنے کی نگرانی کے نیٹ ورک، خودکار موسمی اسٹیشنز (اے ڈبلیو ایسز)، خودکار بارش پیما مراکز (اے آر جیز)، بالائی فضا کے مشاہداتی نظام، ہوا کی رفتار و سمت ناپنے والے آلات اور دیگر مشاہداتی پلیٹ فارم نصب کرکے قومی موسمیاتی مشاہداتی نیٹ ورک کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
  4. مقامی طور پر تیار کردہ موسمیاتی سیٹلائٹس کے ذریعے سیٹلائٹ پر مبنی مشاہدات کو وسعت دی جا رہی ہے اور پیش گوئی کی درستگی بہتر بنانے کے لیے سیٹلائٹ، ریڈار اور زمینی مشاہدات کو یکجا کیا جا رہا ہے۔ ارضیاتی سائنس کی وزارت (ایم او ای ایس) کے تحت نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ (این سی ایم آر ڈبلیو ایف) کو عالمی سطح پر سیٹلائٹ ڈیٹا فراہم کرنے والے بڑے اداروں، جن میں ناسا/نوآ، ای ایس اے/ای یو میٹ کاسٹ، سی ایم اے، کے ایم اے اور جے ایم اے شامل ہیں،وقت پر سیٹلائٹ مشاہدات باقاعدگی سے موصول ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ قومی اداروں اسرو اور آئی ایم ڈی سے بھی ڈیٹا حاصل کیا جاتا ہے۔ مرکز نے عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے بنیادی ڈیٹا کے طور پر نامزد نئے فعال بین الاقوامی سیٹلائٹ مشاہدات کو موصول کرنے اور ان کے ڈیٹا کو یکجا کرنے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ قائم کر لیا ہے، تاکہ ان کا بروقت استعمال عملی عددی موسمی پیش گوئی (این ڈبلیو پی) کے ڈیٹا انضمام کے نظام میں یقینی بنایا جا سکے۔
  5. ملک بھر میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری مضبوط بنانے اور عوامی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ، ٹیکنالوجی پر مبنی اور عوامی ضروریات کے مطابق موسمی پیش گوئی کے نظام وضع کیے جا رہے ہیں۔ محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) کی جانب سے اندرونِ ادارہ تیار کیا گیا فیصلہ جاتی معاونتی نظام (ڈی ایس ایس)، ’’خود کفیل بھارت‘‘ اقدام کے تحت خود انحصاری کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
  6. مرکزی اور ریاستی حکومت کی ایجنسیوں کے ساتھ ہم آہنگی کرتے ہوئے موبائل ایپلی کیشنز، اے پی آئیز، ویب پورٹلز، ایس ایم ایس، ٹیلی ویژن، ریڈیو اور سوشل میڈیا سمیت مختلف مواصلاتی ذرائع کے ذریعے موسمی پیش گوئی اور انتباہات عوام تک پہنچائے جا رہے ہیں۔
  7. پنچایتی راج کی وزارت کے تعاون سے محکمۂ موسمیاتِ ہند نے پنچایت موسم سیوا پورٹل تیار کیا ہے، جس کے ذریعے پنچایت کی سطح پر موسمی پیش گوئی ای گرام سوراج (https://egramswaraj.gov.in)، میری پنچایت ایپ، ای منچترا اور موسم گرام (https://mausamgram.imd.gov.in) کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔ پنچایت اراکین، وارڈ اراکین اور پنچایت سکریٹریوں کے موبائل نمبرز کو پنچایت موسم سیوا پورٹل کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس سے موسم کی پیش گوئی اور زرعی موسمیاتی مشاورتی خدمات کو بروقت واٹس ایپ کے ذریعے گاؤں کی پنچایت کی سطح پر بڑیے پیمانے پرپہنچانے میں مدد مل رہی ہے۔محکمۂ موسمیاتِ ہند آخری سطح تک موسمی پیش گوئی اور زرعی موسمیاتی مشاورتی خدمات پہنچانے کے لیے وزارتِ دیہی ترقی کے کرشی سکھیز اور پشو سکھیز کے نیٹ ورک سے بھی استفادہ کر رہا ہے۔

یہ معلومات ارضیاتی سائنس کے وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج)، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔

  1. این سی ایم آر ڈبلیو ایف نے جدید ترین نوعیت کے دو موسمیاتی ازسرِ نو تجزیاتی ڈیٹاسیٹس تیار کیے ہیں: ایک عالمی ازسرِ نو تجزیاتی ڈیٹاسیٹ، جو 1992 سے 2018 تک کے عرصے کا احاطہ کرتا ہے اور 25 کلومیٹر افقی پیمانے کی تفصیل رکھتا ہے (این جی ایف ایس)، اور ایک علاقائی ازسرِ نو تجزیاتی ڈیٹاسیٹ، جو 1979 سے 2020 تک کے عرصے کا احاطہ کرتا ہے اور 12 کلومیٹر افقی پیمانے کی تفصیل رکھتا ہے (آئی ایم ڈی اے اے)۔ یہ طویل مدتی اور بڑے پیمانے پرتفصیلی ڈیٹاسیٹس قومی اور بین الاقوامی سطح پر موسمیاتی تشخیص، موسمیاتی تغیرات کے مطالعات اور مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ پر مبنی موسمیاتی ایپلی کیشنز کی تیاری کے لیے ایک قیمتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔گرم لہروں، سرد لہروں، سمندری طوفانوں اور شدید بارش کے واقعات سمیت تغیراتی موسم اور سخت موسم کی مضبوط تشخیص میں از سر نوان امور کا جائزہ اہم کردار ادا کرتا ہے۔
  1. ک. ارضیاتی سائنس کی وزارت (ایم او ای ایس) کا ’مشن موسم‘ پروگرام کئی اقدامات کے نفاذ میں مدد کر رہا ہے، جن میں زیادہ تفصیلی فضائی مشاہدات، نئی نسل کے ریڈار، اعلیٰ کارکردگی والے کمپیوٹرز (ایچ پی سی)، بہتر ارضیاتی نظام کے ماڈلز اور ڈیٹا پر مبنی طریقوں (مصنوعی ذہانت/مشین لرننگ کے استعمال) کی تیاری، جدید ترین فیصلہ جاتی معاونتی نظام (ڈی ایس ایس) اور آخری سطح تک معلومات پہنچانے والے نظام کی تیاری شامل ہیں۔
  2. خ. ’مشن موسم‘ کے تحت مون سون سے متعلق تحقیق اور پیش گوئی کو آگے بڑھانے کے لیے بھارت اور بیرونِ ملک کے تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو بیرونی تحقیقی منصوبے دیے جاتے ہیں۔ محکمۂ موسمیاتِ ہند (آئی ایم ڈی) مون سون سائنس کو مضبوط بنانے، موسم اور آب و ہوا کی پیش گوئی کو بہتر بنانے اور موسمیاتی لچک بڑھانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ اہم مشترکہ اقدامات درج ذیل ہیں:
  1. مانسون کی سرگرمیوں، موسمیاتی تغیرات، عددی موسمی پیش گوئی اور شدید موسمی واقعات پر تحقیق کے لیے بھارتی ٹیکنالوجی اداروں (آئی آئی ٹیز)، یونیورسٹیوں اور دیگر قومی تحقیقی اداروں سمیت تعلیمی و تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون۔
  2. سائنسی معلومات، مشاہداتی اعداد و شمار، ماڈلنگ کی تکنیکوں اور بہترین طریقۂ کار کے تبادلے کے لیے عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کے پروگراموں میں فعال شرکت اور بین الاقوامی موسمیاتی و آب و ہوا سے متعلق تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون۔
  3. بہتر مشاہدات، ماڈلنگ، پیش گوئی اور اثرات پر مبنی ابتدائی انتباہی نظام کے ذریعے موسم اور آب و ہوا سے متعلق خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے ارضیاتی نظام کی سائنس سے وابستہ قومی اداروں کے ساتھ تعاون۔
  4. مانسون کے عمل کو بہتر طور پر سمجھنے اور پیش گوئی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مشترکہ تحقیق، صلاحیت سازی، تربیتی پروگرام، ورکشاپس اور سائنسی تبادلے۔
  5. سائنسی پیش رفت کو بہتر موسمیاتی لچک اور موسم سے متعلق خطرات میں کمی کے اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومت کی ایجنسیوں، تحقیقی اداروں اور آفات سے نمٹنے کے ذمہ دار اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ۔
  1. انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹراپیکل میٹرولوجی (آئی آئی ٹی ایم) اب مانسون مشن کے موسمی پیش گوئی کے نظام کا جدید ترین ورژن استعمال کر رہا ہے۔ منصوبہ یہ ہے کہ ادارے کے اندر تیار کیے گئے سمندری فلو کے اعداد و شمار، نئے زمینی سطح کے ماڈل کو شامل کرنے، دریائی فلو کی سمت کے تعین اور دیگر ترمیم شدہ اجزا کے ذریعے موسمی پیش گوئی کے ماڈل کو مزید بہتر بنایا جائے۔ اس سے نہ صرف پورے بھارت میں بارش کی پیش گوئی کرنے میں ماڈل کی صلاحیت بہتر ہوگی بلکہ مون سون کے دوران شدید موسمی حالات کی پیش گوئی جیسے کاموں میں بھی اس کی افادیت بڑھے گی۔

******

 

( ش ح ۔ ع ح ۔ م ا )

Urdu.No-1713


(ریلیز آئی ڈی: 2297067) وزیٹر کاؤنٹر : 23
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी