ارضیاتی سائنس کی وزارت
پارلیمانی سوال: ڈیپ اوشن مشن کے اثرات اور حاصل کردہ کامیابیاں
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
05 AUG 2026 1:56PM by PIB Delhi
ڈیپ اوشن مشن (ڈی او ایم) حکومت ہند کی جانب سے 2021 میں شروع کیا گیا ایک اہم قدم ہے، جس کے تحت چھ مختلف شعبوں میں سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں۔ ان شعبوں میں (1) گہرے سمندر میں کان کنی، انسانی آبدوز اور زیر آب روبوٹکس کے لیے ٹیکنالوجیز کی ترقی (2) سمندری آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق مشاورتی خدمات کی ترقی (3) گہرے سمندر کی حیاتیاتی تنوع کی تحقیق اور تحفظ کے لیے تکنیکی اختراعات (4) گہرے سمندر کا سروے اور تحقیق (5) سمندر سے توانائی اور میٹھے پانی کا حصول اور (6) سمندری حیاتیات کے لیے جدید سمندری اسٹیشن کا قیام شامل ہیں۔ اس مشن کے تحت تحقیق اور سرگرمیوں کا مقصد سمندر کے جاندار اور غیر جاندار وسائل، مثلاً حیاتیاتی تنوع، کثیر دھاتی گانٹھیں، کثیر دھاتی سلفائیڈز اور سمندری حرارتی توانائی کو تلاش کرنا اور ان سے استفادہ کرنا ہے، جو ہندوستان کی نیلگو معیشت کی ترقی کے لیے ایک پائلٹ منصوبے کا حصہ ہے۔
ڈیپ اوشن مشن (ڈی او ایم) کے تحت حاصل کی گئی نمایاں کامیابیاں درج ذیل ہیں:
|
ڈی او ایم عمودی: موضوعاتی علاقہ
|
پیش رفت
|
|
عمودی شعبہ 1: انسان بردار آبدوز، گہرے سمندر میں کان کنی، زیرِ آب گاڑیوں اور زیرِ آب روبوٹکس کے لیے ٹیکنالوجیز کی ترقی۔
|
ہندوستان کی اہم انسان بردار آبدوز مَتسیا-6000 کے ڈیزائن اور نظام کی انجینئرنگ مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ اس کے ذیلی نظام بھی تیار کر لیے گئے ہیں۔ 22 جنوری 2025 سے 14 فروری 2025 تک چنئی کے قریب کٹوپلی میں 8 میٹر کی گہرائی پر انسان بردار اور بغیر انسان کے زیرآب بندرگاہی آزمائشیں بھی کامیابی سے انجام دی گئیں۔مَتسیا-6000 کی تیاری کی ذمہ داری سنبھالنے والے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشن ٹیکنالوجی (این آئی او ٹی)، چنئی کے سائنس دانوں نے اگست 2025 میں فرانسیسی آبدوز ناٹیِل(این اے یو ٹی آئی ایل ای) کے ذریعے پائلٹ آپریشن کا تجربہ بھی حاصل کیا۔خود سے چلنے والے گہرے سمندر میں کثیر دھاتی گانٹھیں جمع کرنے والے آلے/گہرے سمندر میں کان کنی کی مشین کا ڈیزائن بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ 2024 میں بحیرۂ انڈمان میں 1173 میٹر کی گہرائی سے 100 کلوگرام سے زائد کوبالٹ سے بھرپور گہرے سمندر کی کثیر دھاتی گانٹھیں جمع کرنے کا کامیاب عملی مظاہرہ کیا گیا۔
|
|
عمودی شعبہ 2: سمندری موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مشاورتی خدمات کی ترقی۔
|
بحرِ ہند میں سطحِ سمندر، لہروں، سمندری طوفانی لہروں اور حیاتیاتی و کیمیائی تخمینوں کی تفصیلی پیش گوئی کے لیے سمندری ماڈلز کا ایک مجموعہ تیار کر لیا گیا ہے۔ برصغیرِہند کے ساحلی علاقوں میں 100 سالہ انتہائی سطحِ سمندر کی پیش گوئی اور اس سے متعلق ساحلی خطرات کے نقشے بھی تیار کیے گئے ہیں۔ خلیجِ بنگال میں سمندری طوفانوں کے بننے کے امکانات کا اشاریہ اور بحرِ ہند میں لہروں کی موسمیاتی صورتِ حال کے تجزیے کے لیے ایک لہر ماڈل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔
سمندری مشاہداتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انڈین نیشنل سینٹر فار اوشن انفارمیشن سروسز (آءی این سی او آءی ایس)، حیدرآباد نے بحیرۂ عرب اور خلیجِ بنگال میں گِلائیڈر کے 11 مشن کامیابی سے مکمل کیے ہیں، جبکہ بحرِ ہند میں لہروں کے رخ اور ان کے طیفیاتی اعداد و شمار ریکارڈ کرنے والے 60 بیرومیٹرک ڈرفٹرز اور طبعی و حیاتیاتی کیمیائی خصوصیات کی پیمائش کرنے والے 92 ارگو فلوٹس بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
|
|
عمودی شعبہ 3: گہرے سمندر کی حیاتیاتی تنوع کی تحقیق اور تحفظ کے لیے تکنیکی اختراعات۔
|
تفصیلی پروفائلنگ اور خصوصیات کے تعین کے مطالعات انجام دیے گئے ہیں، جن میں جینیاتی تجزیہ، صنعتی استعمال کے قابل مالیکیولز کی تلاش اور منتخب گہرے سمندر کے جراثوموں کے نمونوں کا تحفظ شامل ہے۔ ہندوستان کے خصوصی اقتصادی زون کے آبی اور تلچھٹ نمونوں سے تقریباً 2038 گہرے سمندر کے جرثومے الگ کیے گئے ہیں، جبکہ گہرے سمندر کے ایسے نایاب جرثومے بھی دریافت کیے گئے ہیں جن کی بحرِ ہند میں اس سے پہلے کوئی معلومات نہیں تھی۔آندھرا پردیش کے چِٹّیڈو میں ایک سمندری جرثوموں کے ذخیرے کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ مرکز برائے سمندری حیاتیاتی وسائل و ماحولیات (سی ایم ایل آر ای)، کوچی نے بحیرۂ عرب اور خلیجِ بنگال میں حیاتیاتی تنوع کے اہم مراکز سمجھے جانے والے تقریباً 31 سمندری پہاڑوں کا سروے کیا ہے۔ اس سروے کے دوران گہرے سمندر کی 201 انواع کی دستاویز تیار کیے گئے ہیں، جن میں 43 ایسی انواع بھی شامل ہیں جو ممکنہ طور پر سائنس کے لیے نئی ہیں۔
|
|
عمودی شعبہ 4: گہرے سمندر کا سروے، تحقیق اور ریسرچ (اور تحقیقی جہاز)۔
|
وسطی اور جنوب مغربی بحرِ ہند کی زیرِ آب پہاڑی سلسلوں میں گہرے سمندر کی مہمات انجام دی گئی ہیں، جن کے نتیجے میں چار ہائیڈرو تھرمل وینٹ فیلڈز اور دو غیر فعال وینٹس دریافت کیے گئے ہیں، جو ممکنہ معدنیاتی زونز ہیں۔ اس دوران ہندوستان میں پہلی مرتبہ ایک فعال وینٹ کی عکس بندی بھی کی گئی۔جی آر ایس ای، کولکاتا، جو وزارتِ دفاع کے تحت ایک سرکاری شعبے کا ادارہ ہے، کو ایک نئے کثیر مقاصد اور تمام موسمی حالات میں کام کرنے والے بحری تحقیقی جہاز کی مقامی سطح پر تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ نئے سمندری تحقیقی جہاز کا ڈیزائن، ماڈل ٹیسٹ اور کیل بچھانے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
|
|
عمودی شعبہ 5: سمندر سے توانائی اور میٹھے پانی کا حصول۔
|
ایک اعلیٰ گنجائش والے سمندر میں نصب سمندری حرارتی توانائی سے چلنے والے نمک سے پاک پانی بنانے کے پلانٹ کے لیے تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔
|
|
عمودی شعبہ 6: سمندری حیاتیات کے لیے جدید سمندری اسٹیشن کا قیام۔
|
چنئی کے نیمیلی میں جدید سمندری اسٹیشن کے قیام کے لیے زمین حاصل کر لی گئی ہے۔ سمندری علوم کے مختلف شعبوں میں ملک کے تقریباً 70 قومی اداروں، جن میں یونیورسٹیاں، کالج اور تحقیقی لبریٹریز شامل ہیں، کے اشتراک سے 145 تحقیقی منصوبے جاری ہیں۔
|
گہرے سمندر کے وسائل کی تلاش اور ان سے استفادے کے لیے انٹر نیشنل سی بیڈ اتھارٹی (آئی ایس اے) کے مجوزہ کان کنی ضابطے میں سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے سخت حفاظتی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ ان میں احتیاطی طریقۂ کار، ماحولیاتی بنیادی معلومات کے مطالعات، ماحولیاتی اثرات کے جائزے، ماحولیاتی انتظام و نگرانی کے پروگرام اور بدلتے حالات کے مطابق انتظامی اقدامات شامل ہیں۔ ہندوستان ان حفاظتی اقدامات کی تیاری کے لیے آئی ایس اے کے زیراہتمام جاری مشاورتی عمل میں حصہ لے رہا ہے۔ تاہم، کان کنی کے ضابطے کی ابھی تک آئی ایس اے کی جانب سے توثیق نہیں کی گئی ہے۔
یہ اطلاع ارضیاتی علوم کےوزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں دیں۔
***
ش ح۔ م م ع۔ش ب ن
U-1708
(ریلیز آئی ڈی: 2297017)
وزیٹر کاؤنٹر : 27