سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
خوابوں کو کامیابی میں بدلنا : ٹاپ کلاس ایجوکیشن اسکیم نے آکرش ایس پی کو ایم بی اے کرنے میں کس طرح بااختیار بنایا
کرناٹک | وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیارات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 AUG 2026 7:35PM by PIB Delhi
اعلیٰ تعلیم زندگی بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، لیکن معاشی طور پر کمزور خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے باصلاحیت طلبہ کے لیے مالی مشکلات اکثر ان کی تعلیمی خواہشات کی تکمیل کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک متاثر کن مثال جناب آکرش ایس پی کی ہے۔ 26 سالہ آکرش کا تعلق کرناٹک کی دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) برادری سے ہے۔ وزارت سماجی انصاف و تفویض اختیار کے تحت او بی سی اسٹوڈنٹس کے لیے اعلیٰ طبقاتی تعلیمی اسکیم کے ذریعے پیشہ ورانہ انتظامی تعلیم حاصل کرنے کا ان کا خواب حقیقت میں بدل گیا۔
ایک چھوٹے علاقائی شہر میں متوسط آمدنی والے خاندان میں پرورش پانے والے آکرش کا یقین تھا کہ تعلیم ہی ان کے اور ان کے خاندان کے روشن مستقبل کی کنجی ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ کسی ممتاز تعلیمی ادارے سے ایم بی اے کریں اور کارپوریٹ شعبہ میں ایک کامیاب پیشہ ورانہ مستقبل تعمیر کریں۔ تاہم، بھاری ٹیوشن فیس اور رہائش کے اخراجات ان کے لیے ایک بڑا مالی چیلنج تھے۔ کئی سالہ پیشہ ورانہ تعلیمی پروگرام کے اخراجات برداشت کرنا ان کے خاندان پر بہت زیادہ مالی بوجھ ڈال دیتا اور انہیں قرض کے بوجھ میں مبتلا ہونے کا خطرہ تھا۔
مالی مشکلات کے علاوہ، آکرش کو جغرافیائی اور سماجی رکاوٹوں کا بھی سامنا تھا۔ معیاری پیشہ ورانہ رہنمائی، سرپرستی اور عملی پیشہ ورانہ تجربات تک محدود رسائی نے ان کے سفر کو مزید مشکل بنا دیا تھا۔ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا ان کا عزم غیر متزلزل رہا۔
او بی سی اسٹوڈنٹس کے لیے اعلیٰ طبقاتی تعلیمی اسکیم
آکرش کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے او بی سی اسٹوڈنٹس کے لیے اعلیٰ طبقاتی تعلیمی اسکیم کے تحت انہیں تعلیمی سال 2025-26 کے دوران 10,27,000 روپے کی ٹیوشن فیس کی واپسی کی صورت میں مالی معاونت فراہم کی گئی۔ اس اسکالرشپ نے ان کے خاندان پر مالی بوجھ کو نمایاں طور پر کم کر دیا، جس سے وہ مالی پریشانی کے بغیر اور بغیر کسی تعطل کے انتظامی امور میں اپنی پوسٹ گریجویٹ تعلیم جاری رکھنے کے قابل ہوئے۔
مالی معاونت نے آکرش کو اپنی تعلیم پر پوری توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ کیمپس کی سرگرمیوں اور کاروباری اقدامات میں فعال طور پر حصہ لینے کے قابل بنایا۔ تعلیمی اخراجات کی فکر سے آزاد ہو کر انہوں نے اپنی تعلیمی کارکردگی بہتر بنائی، انتظامی صلاحیتوں کو فروغ دیا اور کارپوریٹ شعبہ میں کامیاب پیشہ ورانہ مستقبل کے لیے خود کو تیار کیا۔
آج آکرش پُراعتماد انداز میں ایم بی اے کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ایک باصلاحیت انتظامی پیشہ ور بننے کی جانب مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ اسکالرشپ نے نہ صرف انہیں تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی حاصل کرنے کے قابل بنایا بلکہ انہیں ہندوستان کے معاشی اور پیشہ ورانہ منظرنامہ میں بامعنی کردار ادا کرنے کے لیے بھی بااختیار بنایا ہے۔
اپنے سفر کے بارے میں جناب آکرش ایس پی نے کہا:
‘‘اس اسکالرشپ نے میرے خاندان پر موجود ایک بڑے مالی بوجھ کو کم کر دیا اور مجھے اپنی تعلیم پر مکمل توجہ مرکوز کرنے کا موقع فراہم کیا۔ اس نے مجھے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے تعلیمی اور کاروباری سرگرمیوں میں فعال طور پر حصہ لینے کا اعتماد دیا۔ آج میں ان ضروری مہارتوں اور علم سے خود کو آراستہ کر رہا ہوں جن کی مدد سے کارپوریٹ دنیا میں قدم رکھ کر معاشرے کے لیے بامعنی کردار ادا کر سکوں۔’’
آکرش کا سفر اس بات کی واضح مثال ہے کہ ہدفی تعلیمی معاونت سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے مستحق اسٹوڈنٹس کی زندگیوں میں کس طرح مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کی راہ میں حائل مالی رکاوٹوں کو دور کرکے او بی سی اسٹوڈنٹس کے لیے اعلیٰ طبقاتی تعلیمی اسکیم باصلاحیت نوجوانوں کو پیشہ ورانہ میدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے، اپنی خواہشات کو حقیقت میں بدلنے اور علم، جدت طرازی اور قیادت کے ذریعے ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بناتی ہے۔
*****
ش ح -ظ ا- ش ب ن
UR NO. 1698
(ریلیز آئی ڈی: 2296991)
وزیٹر کاؤنٹر : 25