خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت کی جانب سے غذائی نتائج کو بہتر بنانے اور آنگن واڑی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف اقدامات
प्रविष्टि तिथि:
07 AUG 2026 4:30PM by PIB Delhi
مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 (مشن پوشن 2.0) کے تحت خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت (ایم او ڈبلیو سی ڈی) نے آنگن واڑی مراکز )اےڈبلیو سیز) میں رجسٹرڈ مستحقین کو فراہم کی جانے والی تمام خدمات کی مسلسل نگرانی اور ان کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی )آئی سی ٹی)پر مبنی حکمرانی کے ایک آلے کے طور پر "پوشن ٹریکر" ڈیجیٹل ایپلی کیشن شروع کی ہے۔
پوشن ٹریکر کے ذریعے ٹیکنالوجی کا استعمال 5 سال سے کم عمر کےبچوں میں پست قدی، کم وزن اور ناقص وزن کی شرح کی بروقت شناخت کے لیے کیا جا رہا ہے۔ 5 سال سے کم عمرکے بچوں میں غذائیت سے متعلق اشاریوں کی ریاست وار اور سال وار معلومات پوشن ٹریکر ڈیش بورڈ پر دستیاب ہے۔
(https://www.poshantracker.in/statistics)
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت نے غذائی نتائج کو بہتر بنانے اور آنگن واڑی خدمات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- مشن پوشن 2.0 کے تحت سرکاری عمارتوں میں واقع دو لاکھ آنگن واڑی مراکز) اے ڈبلیو سیز) کو سکشم آنگن واڑی مراکز کے طور پر اپ گریڈ کرنے کی منظوری دی گئی ہے، تاکہ بہتر غذائیت کی فراہمی اور ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم)ای سی سی ای) کی سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکے۔ ان سکشم آنگن واڑی مراکز کو بہتر بنیادی سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے، جن میں ایل ای ڈی اسکرین، پانی صاف کرنے کا نظام، پوشن واٹیکا، ابتدائی بچپن کی نگہداشت و تعلیم )ای سی سی ای) کا تدریسی مواد اور بلڈنگ اَیز لرننگ ایڈ (بالا) پینٹنگز شامل ہیں۔
- قومی غذائی تحفظ ایکٹ، 2013 کے شیڈولII- میں مقرر کردہ غذائی معیارات کے مطابق 6 ماہ سے 6 سال تک کی عمر کے بچوں، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور نوعمر لڑکیوں کو گرم پکا ہوا کھانا (ایچ سی ایم) اور گھر لے جانے والا راشن (ٹی ا یچ آر) کی شکل میں اضافی غذائیت فراہم کی جاتی ہے۔ شدید غذائی قلت (ایس اے ایم) کا شکار بچوں کو بھی گھر لے جانے والے راشن (ٹی ا یچ آر) کی صورت میں اضافی غذائی امداد فراہم کی جاتی ہے۔
- خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت (ایم او ڈبلیو سی ڈی) اور صحت و خاندانی بہبود کی وزارت نے مشترکہ طور پر بچوں میں شدید غذائی قلت (ایس اے ایم) کی روک تھام اور علاج کے لیے ‘‘بچوں میں غذائی قلت کے انتظام کا پروٹوکول’’ جاری کیا ہے، جس کا مقصد غذائی قلت سے متعلق بیماریوں اور اموات میں کمی لانا ہے۔
- مشن پوشن 2.0 کے تحت فرنٹ لائن کارکنوں کو بااختیار بنانے کے لیے انہیں اسمارٹ فونز کے ساتھ ڈیٹا ریچارج کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، ہر آنگن واڑی مرکز (اے ڈبلیو سی) میں رجسٹرڈ مستحقین کی باقاعدہ نشوونما کی نگرانی کے لیے افزائشِ جسمانی پیمائش کے آلات (جی ایم ڈیز) دستیاب کرائے گئے ہیں، جن میں شیر خوار بچوں کے قد کی پیمائش کا آلہ(انفینٹومیٹر) ، قد ناپنے کا آلہ (اسٹیڈیو میٹر) ، بچوں کے وزن کی مشین اور ماں و بچے کے وزن کی مشین شامل ہیں۔
- آنگن واڑی کارکنان) اے ڈبلیو ڈبلیوز) حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور چھوٹے بچوں (0 سے 3 سال تک) کی مدد کے لیے باقاعدہ اور منظم گھریلو دورے کرتے ہیں، جن کے دوران غذائیت سے متعلق مشاورت، نگہداشت کے طریقوں سے متعلق رہنمائی اور ابتدائی بچپن کی نشوونما کو فروغ دینے کے لیے ضروری معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
- اہم اقدامات میں سے ایک کمیونٹی کومتحرک کرنا اور بیداری مہم ہے، جسے عوامی تحریک (جن آندولن) کی شکل میں انجام دیا جاتا ہے۔ اس کے تحت ہر سال ستمبر میں ‘‘پوشن ماہ’’ اور مارچ-اپریل میں ‘‘پوشن پکھواڑہ’’ منایا جاتا ہے۔ ان مہمات کا مقصد لوگوں کو غذائیت سے متعلق امور کے بارے میں آگاہ کرنا ہے، کیونکہ بہتر غذائی عادات کو اپنانے کے لیے رویوں میں مستقل اور پائیدار تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
- مشن پوشن 2.0 کے تحت ملک بھر کے آنگن واڑی مراکز میں ‘‘پوشن واٹیکا’’ قائم کی جا رہی ہیں، تاکہ مقامی اور موسمی پھلوں اور سبزیوں کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔ اس سے خوراک میں تنوع کو بہتر بنانے اور جسم کے لیے ضروری خرد غذائی اجزاء (مائکرونیوٹریئنٹس) کی مقدار میں اضافہ کرنے میں مدد ملتی ہے۔
یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
********
ش ح۔ش ت۔ر ب
U-1579
(रिलीज़ आईडी: 2296250)
आगंतुक पटल : 5