خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت تمام مستحقین کو اضافی غذائیت فراہم کی گئی ہے
وزارت نے حال ہی میں اضافی غذائیت سے متعلق جامع رہنما خطوط جاری کئے ہیں، جن میں اضافی غذائیت کے معیار، تنوع اور قبولیت کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
07 AUG 2026 4:28PM by PIB Delhi
مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 (مشن پوشن 2.0) کے تحت تمام مستحقین کو اضافی غذائیت فراہم کی گئی ہے۔مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 کے تحت تمام مستحقین، جن میں 6 ماہ سے 6 سال تک کے بچے، حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں اور 14 سے 18 سال کی عمر کی نوعمر لڑکیاں شامل ہیں، کو اضافی غذائیت فراہم کی گئی ہے۔ یہ اضافی غذائیت گھر لے جانے والے راشن (ٹی ایچ آر)، صبح کے ناشتے اور گرم پکے ہوئے کھانے (ایچ سی ایم) کی شکل میں دی جاتی ہے۔مستحقین کو اضافی غذائیت، خوراک کی یقینی فراہمی سے متعلق قومی ایکٹ، 2013 کے شیڈول-II میں شامل غذائی معیارات کے مطابق فراہم کی جاتی ہے، جن میں جنوری 2023 میں ترمیم کی گئی تھی۔ پرانے معیارات بنیادی طور پر صرف کیلوریز پر مبنی تھے، تاہم نظرثانی شدہ معیارات مقدار اور معیار دونوں لحاظ سے زیادہ جامع اور متوازن ہیں۔ یہ غذائی تنوع کے اصولوں پر مبنی ہیں اور ان کے ذریعے معیاری پروٹین، صحت بخش چکنائیاں اور ضروری غذائی اجزا جیسے کیلشیم، زنک، آئرن، غذائی فولیٹ، وٹامن اے، وٹامن بی6 اور وٹامن بی12 فراہم کئے جاتے ہیں۔شدید نوعیت کی غذائی قلت (ایس اے ایم) کا شکار 6 ماہ سے 5 سال تک کے بچوں کو گھر لے جانے والے راشن (ٹی ایچ آر) کے طور پر اضافی غذائیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔
وزارت نے حال ہی میں اضافی غذائیت سے متعلق جامع رہنما خطوط جاری کیے ہیں، جن میں اضافی غذائیت کے معیار، تنوع اور قبولیت میں بہتری، مقررہ غذائی معیارات اور معیار کے ضابطوں کی پابندی پر زور دیا گیا ہے۔ان رہنما خطوط میں دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے غذائیت اور صحت سے متعلق تعلیم، روایتی اضافی غذائی راشن (ٹی ایچ آر) کے استعمال اور فوائد کو فروغ دینا، عمر کے مطابق اضافی خوراک دینے کے طریقوں پر مشاورت فراہم کرنا اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ - نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن (آئی سی ایم آر-این آئی این) کی جانب سے جاری کردہ بھارتیوں کے لیے غذائی رہنما خطوط 2024 کے مطابق روزمرہ خوراک میں خوردنی تیل، نمک اور شکر کے استعمال کو کم کرنے کے لیے مخصوص بیداری پروگرام منعقد کرنے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مقامی طور پر دستیاب غذائی اشیا کو استعمال کرتے ہوئے مقامی ذائقوں کے مطابق اضافی غذائیت کے لیے ریاستی سطح کی مخصوص غذائی ترکیبیں تیار کرنے کے لیے غذائیت کے ماہرین اور تکنیکی اداروں، جیسے آئی سی ایم آر-این آئی این، زرعی یونیورسٹیوں اور ہوم سائنس کالجوں وغیرہ سے مشاورت کریں۔
اضافی غذائیت کی قبولیت اور استعمال کو بہتر بنانے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مقامی غذائی عادات، ثقافتی ترجیحات اور مقامی طور پر دستیاب غذائی اجزا کی بنیاد پر مینو اور غذائی ترکیب تیار کرنے کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ اضافی غذائیت میں مقامی سطح پر دستیاب اناج، باجرہ، دالیں، سبزیاں، میوے اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائی اشیا شامل کی جاتی ہیں، جس سے غذائی تنوع کو فروغ ملتا ہے اور مستحقین میں اس کی قبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
مشن پوشن 2.0 کے تحت کیے جانے والے اہم اقدامات میں سے ایک برادری کی شمولیت اور بیداری مہم ہے، جس کا مقصد لوگوں کو غذائیت سے متعلق پہلوؤں کے بارے میں آگاہ کرنا ہے، کیونکہ بہتر غذائی عادات اپنانے کے لیے رویوں میں تبدیلی لانے کی خاطر مسلسل کوششوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام علاقے پوشن ماہ اور پوشن پکھواڑہ کے دوران عوامی تحریک کے تحت باقاعدگی سے بیداری مہم چلا رہے ہیں اور ان کی رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ یہ پروگرام بالترتیب ستمبر اور مارچ-اپریل میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ سال 2018 سے اب تک 16 عوامی تحریکوں کے ذریعے 150 کروڑ سے زیادہ عوامی سرگرمیاں انجام دی جا چکی ہیں، جنہوں نے نہ صرف ہدف شدہ مستحقین بلکہ وسیع تر برادریوں میں بھی غذائیت سے متعلق بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
برادری پر مبنی پروگرام (سی بی ای) غذائی طریقوں میں تبدیلی لانے کے لیے ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہوئے ہیں۔ تمام آنگن واڑی کارکنوں (اے ڈبلیو ڈبلیو) کے لیے ہر ماہ دو برادری پر مبنی پروگرام منعقد کرنا لازمی ہے۔ اب تک اپریل 2022 سے جون 2026 تک پوشن ٹریکر پر تقریباً 10.5 کروڑ برادری پر مبنی پروگراموں کی رپورٹ درج کی جا چکی ہے۔
یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی۔
***
ش ح۔ ک ا۔ خ م
U.NO.1577
(ریلیز آئی ڈی: 2296244)
وزیٹر کاؤنٹر : 28