خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
مشن پوشن 2.0 حکومت کی جانب سے غذائی قلت کے خاتمے اور بچوں کی ہمہ جہت نشوونما کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع اور تازہ ترین اقدام ہے، جو سابقہ پروگراموں کی بنیاد پر ایک مربوط، مضبوط اور مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے
प्रविष्टि तिथि:
07 AUG 2026 4:29PM by PIB Delhi
پوشن ابھیان کا تیسرے فریق کے ذریعے جائزہ اور اثرات کا تجزیہ 2020 میں نیتی آیوگ نے کیا تھا، جس میں یہ پایا گیا کہ ملک میں غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے پوشن ابھیان کی افادیت اطمینان بخش ہے۔
2021 میں عالمی بینک نے آندھرا پردیش سمیت 11 ریاستوں میں پوشن ابھیان کے تحت ایک سروے کیا۔ ان ریاستوں کا انتخاب بچوں میں پست قدی (چھوٹا قد) اور خواتین میں خون کی کمی کی زیادہ شرح کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ سروے کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ پوشن ابھیان کے ذریعے فراہم کی جانے والی خدمات کے حوالے سے غذائیت سے متعلق رویوں میں بہتری آئی ہے۔ سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ پروگرام کے تحت دیے گئے غذائیت سے متعلق پیغامات 80 فیصد سے زیادہ خواتین تک پہنچے، جبکہ 81 فیصد خواتین نے پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پلانے کے طریقے پر عمل کیا۔
مشن سکشم آنگن واڑی اور پوشن 2.0 (مشن پوشن 2.0) کا نتائج پر مبنی جائزہ مطالعہ 2025 میں دوبارہ نیتی آیوگ کے ترقیاتی نگرانی و تشخیصی دفتر (ڈی ایم ای او) کی جانب سے آندھرا پردیش سمیت 12 ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کیا گیا۔ اس مطالعے سے حاصل شواہد سے ظاہر ہوا کہ موجودہ شکل میں مشن پوشن 2.0 حکومت کی جانب سے غذائی قلت کے جامع خاتمے اور بچوں کی نشوونما کے فروغ کے لیے تازہ ترین کوشش ہے، جو سابقہ پروگراموں کو مربوط اور مزید مضبوط حکمتِ عملی کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔آنگن واڑی خدمات، جیسے اضافی غذائیت، بچوں کی نشوونما کی نگرانی اور مشاورت کی زیادہ شرح سے استفادہ اور استعمال اس بات کا مضبوط اشارہ ہے کہ پوشن ابھیان نے مستحقین میں بیداری پیدا کرنے اور رویوں میں مثبت تبدیلی لانے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت ( ایم او ڈبلیو سی ڈی)نے مشن پوشن 2.0 کے تحت مستحقین کو فراہم کی جانے والی خدمات کی نگرانی اور جائزے کے لیے اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) پر مبنی حکمرانی کے ایک آلے کے طور پر‘‘پوشن ٹریکر’’ ڈیجیٹل ایپلی کیشن شروع کی ہے۔اس ایپلی کیشن کے ذریعے وزارت کے ساتھ ساتھ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اسکیم کے نفاذ کا مختلف پیمانوں پر جائزہ لینے میں مدد مل رہی ہے، جن میں خواتین اور بچوں کی صحت اور غذائی صورتحال بھی شامل ہے، تاکہ ضروری اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔خدمات کی فراہمی کی آخری سطح تک نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے پوشن ٹریکر ایپلی کیشن میں چہرے کی شناخت کے نظام (ایف آر ایس) کو متعارف کرایا گیا ہے، جس کے ذریعے گھر لے جانے والے راشن کی تقسیم کی نگرانی کی جا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ فوائد صرف اسی مستحق فرد کو حاصل ہوں جو ایپلی کیشن میں رجسٹرڈ ہے۔آدھار پر مبنی اس نگرانی کے نظام سے مستحقین کی درست شناخت، فوائد کی غیر مجاز منتقلی کی روک تھام اور فرضی اندراجات کے خاتمے میں مدد ملی ہے۔
یہ معلومات خواتین و اطفال کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
********
ش ح۔ش ت۔ر ب
U-1578
(रिलीज़ आईडी: 2296160)
आगंतुक पटल : 5