قبائیلی امور کی وزارت
قبائلی طلبہ کے لیے اسکالرشپ اسکیموں کے نفاذ میں ڈی بی ٹی
प्रविष्टि तिथि:
06 AUG 2026 12:32PM by PIB Delhi
قبائلی امور کے وزیر مملکت جناب درگا داس اویکےنے بدھ کے روز لوک سبھا میں اطلاع دی کہ وزارت، قبل از میٹرک اور بعد از میٹرک اسکالرشپ کی اسکیموں کے نفاذ کے لیےڈی بی ٹی قبائلی پورٹل سے استفادہ کر رہی ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے فراہم کردہ مستفیدین کے اعداد و شمار حاصل کرکے نگرانی اور ایم آئی ایس رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں۔ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو سوالات، دستاویزات، استعمالی سرٹیفکیٹس، اخراجات کے گوشوارے وغیرہ اپ لوڈ کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں کارروائی کے وقت میں کمی آئی ہے اور شکایات میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔
گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران قبل از میٹرک اور بعد از میٹرک اسکالرشپ کی اسکیموں کے لیے ڈی بی ٹی قبائلی پورٹل پر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے فراہم کردہ مستفیدین کی تعداد کی تفصیلات ضمیمہ-I میں دی گئی ہیں۔
قبل از میٹرک اور بعد از میٹرک اسکالرشپ کی اسکیمیں مرکز کے تعاون سے چلائی جانے والی اسکیمیں ہیں اور انہیں متعلقہ ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ذریعے نافذ کیا جاتا ہے۔ اسکالرشپ کی تقسیم متعلقہ ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ اپنے پورٹل یااین ایس پی پورٹل کے ذریعے انجام دیتا ہے۔ پورٹل کے ذریعے ہونے والی پیش رفت کی تفصیلات درج ذیل ہیں:۔
اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹائزیشن: کاغذی کارروائی پر مبنی نظام سے اسکیم کے لیے مخصوص ڈیجیٹل پورٹلز کی جانب منتقلی۔
کامن ڈیٹا اسٹینڈرڈ: ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پورٹلز، قومی اسکالرشپ پورٹل (این ایس پی) اور وزارت کے ڈی بی ٹی قبائلی پورٹل کے درمیان ویب سروس اے پی آئی پر مبنی اعداد و شمار کے بلارکاوٹ تبادلے کے لیے معیاری ڈیٹا فارمیٹ کا نفاذ۔
عوامی شفافیت اور نتائج کے ڈیش بورڈز: مستفیدین اور مالی لین دین سے متعلق اعداد و شمار کو وزارت کے کارکردگی ڈیش بورڈ، ڈی بی ٹی مشن، پریاس ڈیش بورڈ اور نیتی آیوگ کے نظام سے مربوط کیا گیا ہے، تاکہ نتائج کی مؤثر نگرانی اور جائزہ لیا جا سکے۔
ڈی ۔ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے ڈی بی ٹی قبائلی پورٹل پر فراہم کردہ مستفیدین کے اعداد و شمار نگرانی اور ایم آئی ایس رپورٹس تیار کرنے میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ قومی اسکالرشپ پورٹل کو ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اسکالرشپ پورٹلوں سے مربوط کرنے کے نتیجے میں اعداد و شمار کی توثیق اور مختلف اسکیموں اور ڈیٹا بیس میں مستفیدین کے ڈپلیکیٹ اندراجات کی خودکار جانچ ممکن ہو گئی ہے۔
ایس ٹی طلبہ کے لیے قبل از میٹرک اور بعد از میٹرک اسکالرشپ کی اسکیموں کے تحت ریاستی سطح پر فنڈز کے غیر ضروری پڑاؤ (فلوٹ) کو ختم کرنے، وظائف کی ادائیگی میں تاخیر کم کرنے اور رقوم کی ترسیل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے وزارت نے مرکزی حصے کی رقم جاری کرنے کے لیے ایس این اے اسپرش (ایس پی اے آر ایس ایچ )ماڈل اختیار کیا ہے۔یہ ایک بر وقت ادائیگی (جسٹ اِن ٹائم) نظام ہے، جس کے تحت جیسے ہی متعلقہ ریاستی حکومت وظیفے کی ادائیگی کے لیے بل پیش کرتی ہے، اسی وقت مرکزی حصے کی رقم جاری کر دی جاتی ہے۔اسکالرشپ کی ادائیگی کا بل منظور ہونے کے بعد مرکزی حکومت کا حصہ اور ریاستی حکومت کا حصہ، دونوں کی رقوم براہ راست ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے کھاتے سے ڈی بی ٹی کے ذریعے طالب علم کے بینک کھاتے میں منتقل کر دی جاتی ہیں۔ اس نظام سے ریاستی سطح پر مرکزی فنڈز کے غیر ضروری پڑاؤ کا خاتمہ ہوتا ہے اور وظائف کی ادائیگی میں ہونے والی تاخیر بھی کم سے کم رہتی ہے۔
وزارت کے ذریعے براہ راست نافذ کردہ اسکالرشپ کی مرکزی شعبے کی اسکیموں کے تحت ، وزارت کے نیشنل اسکالرشپ پورٹل (این ایس پی) اسکالرشپ پورٹل اور پبلک فنانشل مینجمنٹ سسٹم (پی ایف ایم ایس) کے ذریعے ایک مضبوط ڈیجیٹل میکانزم قائم کیا گیا ہے۔
ای ۔انسٹی ٹیوٹ/ضلع/ریاستی حکام کے ذریعہ فزیکل درخواست کے عمل اور دستی تصدیق کو ہٹانے سے منظوری کے ورک فلو کو ہموار کیا گیا ہے اور درخواست کی کارروائی کے مجموعی وقت کو کم کیا گیا ہے ۔ براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے اسکالرشپ کی رقم کو فائدہ اٹھانے والے طلباء کے بینک کھاتوں میں منتقل کرنا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ مالی فائدہ ہدف شدہ ایس ٹی طلباء تک وقت پر اور بچولیوں کی شمولیت کے بغیر پہنچے ۔
ضمیمہ-I
مالی سال 2023-24 سے 2025-26 کے دوران ڈی بی ٹی قبائلی پورٹل پر ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی جانب سے رپورٹ کیے گئے مستفیدین کی تفصیلات
پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم
|
Sl. No
|
States/UTs Name
|
2023-2024
|
2024-2025
|
2025-2026
|
|
No. of beneficiaries
|
No. of beneficiaries
|
No. of beneficiaries
|
|
1
|
Andaman And Nicobar Islands
|
141
|
18
|
179
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
-
|
-
|
57788
|
|
3
|
Arunachal Pradesh
|
5698
|
635
|
1694
|
|
4
|
Assam
|
5625
|
2132
|
-
|
|
5
|
Bihar
|
11363
|
15319
|
14069
|
|
6
|
Chhattisgarh
|
21768
|
159372
|
35372
|
|
7
|
Goa
|
207
|
1985
|
369
|
|
8
|
Gujarat
|
108125
|
94169
|
26832
|
|
9
|
Himachal Pradesh
|
2445
|
1786
|
2455
|
|
10
|
Jammu And Kashmir
|
4665
|
365
|
1322
|
|
11
|
Jharkhand
|
7311
|
16250
|
-
|
|
12
|
Karnataka
|
181152
|
82316
|
18199
|
|
13
|
Kerala
|
1007
|
-
|
-
|
|
14
|
Ladakh
|
82
|
250
|
2459
|
|
15
|
Madhya Pradesh
|
35165
|
411273
|
328029
|
|
16
|
Manipur
|
1660
|
70
|
3311
|
|
17
|
Meghalaya
|
1408
|
19
|
8
|
|
18
|
Mizoram
|
465
|
-
|
8110
|
|
19
|
Odisha
|
62105
|
148166
|
122800
|
|
20
|
Puducherry
|
-
|
12
|
-
|
|
21
|
Rajasthan
|
129350
|
-
|
80125
|
|
22
|
Sikkim
|
47
|
134
|
171
|
|
23
|
Tamil Nadu
|
6569
|
-
|
18285
|
|
24
|
The Dadra And Nagar Haveli And Daman And Diu
|
3319
|
877
|
-
|
|
25
|
Tripura
|
15017
|
3054
|
12152
|
|
26
|
Uttar Pradesh
|
2329
|
-
|
-
|
|
27
|
Uttarakhand
|
516
|
751
|
820
|
|
28
|
West Bengal
|
28290
|
13345
|
5090
|
|
|
Grand Total
|
635829
|
952298
|
739639
|
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم
|
Sl. No
|
States/UTs Name
|
2023-2024
|
2024-2025
|
2025-2026
|
|
No. of beneficiaries
|
No. of beneficiaries
|
No. of beneficiaries
|
|
1
|
Andaman And Nicobar Islands
|
170
|
2
|
283
|
|
2
|
Andhra Pradesh
|
75431
|
45208
|
93539
|
|
3
|
Arunachal Pradesh
|
46386
|
42586
|
44163
|
|
4
|
Assam
|
35135
|
12582
|
18456
|
|
5
|
Bihar
|
2467
|
3045
|
9206
|
|
6
|
Chhattisgarh
|
115067
|
109041
|
128661
|
|
7
|
Goa
|
3824
|
3128
|
3175
|
|
8
|
Gujarat
|
201326
|
205918
|
173747
|
|
9
|
Himachal Pradesh
|
4291
|
4042
|
3628
|
|
10
|
Jammu And Kashmir
|
10399
|
6591
|
4548
|
|
11
|
Jharkhand
|
97440
|
61098
|
-
|
|
12
|
Karnataka
|
140650
|
118878
|
87199
|
|
13
|
Kerala
|
24734
|
-
|
-
|
|
14
|
Ladakh
|
2196
|
10017
|
139
|
|
15
|
Madhya Pradesh
|
222333
|
362065
|
304520
|
|
16
|
Maharashtra
|
182192
|
-
|
-
|
|
17
|
Manipur
|
40736
|
29985
|
29983
|
|
18
|
Meghalaya
|
59845
|
57560
|
78443
|
|
19
|
Mizoram
|
304
|
30696
|
28186
|
|
20
|
Nagaland
|
40638
|
42448
|
64423
|
|
21
|
Odisha
|
167050
|
157340
|
289738
|
|
22
|
Puducherry
|
8
|
-
|
-
|
|
23
|
Rajasthan
|
45352
|
198676
|
145124
|
|
24
|
Sikkim
|
2553
|
1377
|
1
|
|
25
|
Tamil Nadu
|
7902
|
347
|
|
|
26
|
Telangana
|
132617
|
88534
|
25560
|
|
27
|
The Dadra And Nagar Haveli And Daman And Diu
|
1442
|
-
|
-
|
|
28
|
Tripura
|
37387
|
33375
|
28163
|
|
29
|
Uttar Pradesh
|
8656
|
1020
|
|
|
30
|
Uttarakhand
|
3398
|
3233
|
3710
|
|
31
|
West Bengal
|
71839
|
30395
|
26605
|
|
Grand Total
|
1783768
|
1659187
|
1591200
|
********
) ش ح ۔ ش آ۔ ج)
U.No. 1471
(रिलीज़ आईडी: 2295455)
आगंतुक पटल : 8