سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

روشنی سے متحرک ہونے والے نینو روبوٹس پستان کے کینسر کے ہدف بند  علاج میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں

प्रविष्टि तिथि: 05 AUG 2026 7:08PM by PIB Delhi

محققین نے ایک جدید، روشنی سے چلنے والا کثیر المقاصد نینو بوٹ تیار کیا ہے جو چھاتی کے کینسر کے ہدف بند علاج میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

پستان کا کینسر دنیا بھر میں خواتین میں کینسر سے ہونے والی اموات کی اہم ترین وجوہات میں سے ایک ہے۔ روایتی کیموتھراپی اکثر شدید مضر اثرات، دوا کے خلاف مزاحمت اور صحت مند خلیات کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے، کیونکہ اس میں دوا پورے جسم میں غیر مخصوص طریقے سے پھیلتی ہے، رسولی کے اندر تک دوا کا اثر ٹھیک سے نہیں پہنچ پاتا، اور جسم میں داخل کیے جانے کے بعد دوا پر کوئی فعال کنٹرول نہیں رہتا۔

موجودہ نینو دوائیں بنیادی طور پر رسولی میں غیر فعال طور پر جمع ہونے پر انحصار کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں وہ بافتوں کے اندر تک نہیں پہنچ پاتیں اور ان کا مقامی کنٹرول بھی کمزور ہوتا ہے۔ دوسری طرف، روشنی سے چلنے والے زیادہ تر مائیکرو/نینو روبوٹس کو الٹرا وائلٹ یا وزیبل روشنی کی ضرورت ہوتی ہے، جس کا بافتوں میں جانا محدود ہوتا ہے اور یہ صحت مند بافتوں کو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ اس کے برعکس، محرکات پر ردِعمل دینے والے نینو روبوٹس، جو بیرونی (مثلاً انفراریڈ کے قریب کی روشنی یا مقناطیسی میدان) یا اندرونی (مثلاً پی ایچ 'pH' یا خامروں )اشاروں سے کنٹرول ہوتے ہیں، انتہائی کم جسمانی زہریلے پن کے ساتھ بالکل درست اور ہدف بند علاج فراہم کرتے ہیں، جو انہیں درست ترین طب کے لیے مستقبل کا ایک امید افزا پلیٹ فارم بناتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی این ایس ٹی)، موہالی—جو کہ محکمہ سائنس اور ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کا ایک خود مختار ادارہ ہے—کے سائنسدانوں نے نینو روبوٹکس کو فوٹو تھراپی کے ساتھ ملا کر ایک ایسا ذہین علاجی پلیٹ فارم تیار کرنے کا خاکہ پیش کیا ہے جو بیرونی طور پر ڈالی جانے والی روشنی کی وجہ سے خود اپنا راستہ تلاش کرنے (سفر کرنے) کی صلاحیت رکھتا ہو اور ساتھ ہی ساتھ کینسر کا ہدف بند  علاج بھی کر سکے۔

ڈاکٹر جیبن جیوتی پانڈا (آئی این ایس ٹی، موہالی) کی قیادت میں اور ڈاکٹر سنتوش کے گپتا (بی اے آر سی، ممبئی) کے تعاون سے، سوپنل شریواستو نے پہلے مصنف کے طور پر، انو بلہارا، پنکج کھرا اور جیوتی یادو کے ساتھ مل کر، اپ کنورژن نینو پارٹیکل (یو سی این پی) پر مبنی ایسے نینو بوٹس تیار کیے ہیں جو نیئر انفراریڈ (این آئی آر) روشنی کو مؤثر طریقے سے گرمی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور انہوں نے این آئی آر کی موجودگی میں ایک مخصوص سمت میں حرکت کا مظاہرہ بھی کیا۔

ٹیم نے ان نینو بوٹس کو ایک فوٹو سینسیٹائزر سے لیس کیا، جس نے نیئر انفراریڈ شعاعیں پڑنے پر ری ایکٹو آکسیجن اسپیزیز (آر او ایس) پیدا کرنے کی صلاحیت کو ممکن بنایا۔ ان نینو بوٹس نے این آئی آر شعاعیں پڑنے پر روشنی کی رہنمائی میں ایک مخصوص سمت میں حرکت (فوٹو ٹیکسس) کا مظاہرہ بھی کیا، جس سے کسی خاص مقام پر علاج کی کارروائی میں آسانی ہوئی۔ مزید برآں، فولک ایسڈ کے ذریعے اس کی بیرونی سطح کو فعال بنانے سے چھاتی کے کینسر کے ان خلیات کو منتخب طریقے سے پہچاننے اور نشانہ بنانے میں مدد ملی جو فولیٹ ریسیپٹرز کی کثرت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں رسولی (ٹیومر) کے خلاف مخصوص فوٹو تھراپی کی افادیت میں اضافہ ہوا۔ یہ کام یو سی این پی پر مبنی نینو بوٹ کے ذریعے کینسر کی فوٹو تھراپی کو آگے بڑھانے میں سوپنل شریواستو کی اولین شراکت اور متعلقہ مصنفین ڈاکٹر جیبن جیوتی پانڈا اور ڈاکٹر سنتوش کے گپتا کی سائنسی قیادت کو نمایاں کرتا ہے۔

جب اِنہیں 980 نینو میٹر کے نیئر انفراریڈ لیزر کے سامنے لایا جاتا ہے، تو پولی ڈوپامائن مقامی سطح پر حرارت پیدا کرتی ہے، جس سے درجہ حرارت کا ایک تفاوت بن جاتا ہے۔ درجہ حرارت کا یہ تفاوت تھرمل سے چلنے والی حرکت کو ابھارتا ہے، جس کے نتیجے میں نینو بوٹس فوٹو ٹیکسس کے ذریعے فعال طور پر لیزر کے منبع کی طرف بڑھتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ، فوٹو تھرمل حرارت اور فوٹو ڈائنامک آر او ایس کی پیداوار کینسر کے خلیات کو تباہ کر دیتی ہے۔ یہ مشترکہ اثرات الگ الگ علاجی طریقوں کے مقابلے میں رسولی کی روک تھام میں زیادہ بہتر اور اضافہ شدہ نتائج پیدا کرتے ہیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001G44U.jpg

ڈائیگرام: پستان کے رسولی کے علاج کے لیے نیئر انفراریڈ کے تئیں ردِعمل دینے والے یو سی این پی نینو بوٹ کے ذریعے ہونے والی فوٹو تھراپی کے علاجی طریقہ کار کی تصویری وضاحت۔ یہ خاکہ این آئی آر لیزر شعاعوں کے تحت یو سی این پی نینو بوٹس کی سمتیاتی حرکت (فوٹو ٹیکسس) کو ظاہر کرتا ہے، جو ایک مخصوص مقام پر فوٹو تھرمل اور فوٹو ڈائنامک تھراپی کو ممکن بناتی ہے۔

ٹیم نے خلیاتی ماڈلز اور پستان کی رسولی سے متاثرہ چوہوں دونوں میں علاجی افادیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

جریدے ’اے سی ایس اپلائیڈ مٹیریلس اینڈ انٹرفیسز‘ میں شائع ہونے والی یہ تحقیق ایک ایسے ایندھن کے بغیر چلنے والے، نیئر انفراریڈ کے تئیں ردِعمل دینے والے نینو بوٹ کو متعارف کراتی ہے جو حیاتیاتی طور پر موافق شعاعوں کے تحت روشنی کی رہنمائی میں ہونے والی فعال حرکت (فوٹو ٹیکسس) کو یکجا کرتا ہے، اور حیاتیاتی میڈیا میں لیزر کی شدت، پی ایچ اور گلوٹاتھائیون کی مقدار کے ذریعے قابو میں رہنے والے فولک ایسڈ پر مبنی کینسر خلیات کی شناخت کے ذریعے ہدف بند ترسیل کو ممکن بناتا ہے۔

یہ منفرد امتزاج مقامی سطح پر علاجی کارروائی کے ذریعے چھاتی کی رسولیوں کے بالکل درست، بیرونی طور پر کنٹرول شدہ اور انتہائی کم جراحی والے علاج کی اجازت دے گا۔

پبلیکشن لنک: DOI: 10.1021/acsami.5c20372

 

**********

 

(ش ح –ا ب ن)

U.No:1450


(रिलीज़ आईडी: 2295270) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी