ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: پروٹو ٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 3:30PM by PIB Delhi
کلپکم، تمل ناڈو میں مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار کیے گئے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر) نے 6 اپریل 2026 کو کامیابی کے ساتھ پہلی بار کریٹیکلٹیحاصل کی۔ یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب ایک نیا جوہری ری ایکٹر پہلی مرتبہ قابو شدہ سلسلہ وار جوہری ردعمل شروع کرتا ہے۔ پی ایف بی آر تین مرحلوں پر مشتمل ہندوستان کے جوہری توانائی پروگرام کے دوسرے مرحلے کا اہم حصہ ہے۔ پہلی کریٹیکلٹی کا حصول اور اس کے بعد بجلی کی پیداوار کا آغاز دوسرے مرحلے کی توسیع کی راہ ہموار کرے گا اور تیسرے مرحلے کی بنیاد فراہم کرے گا، جس کا مقصد مستقبل میں طویل مدتی توانائی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
فاسٹ بریڈر ری ایکٹر ہندوستان کی طویل مدتی جوہری توانائی حکمت عملی کا ایک اہم ستون ہیں۔ یورینیم-پلوٹونیم مکسڈ آکسائیڈ (ایم او ایکس) ایندھن اور یورینیم-238 کمبل کا استعمال کرتے ہوئے یہ ری ایکٹر فیزائیل (قابل انشقاق مادہ) پلوٹونیم-239 پیدا کرتے ہیں۔ پی ایف بی آر ایسا ری ایکٹر ہے جو استعمال کیے جانے والے ایندھن سے زیادہ نیا ایندھن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ہندوستان کا پہلا تجارتی فاسٹ ری ایکٹر ہے۔
اندرا گاندھی سینٹر فار اٹامک ریسرچ (آئی جی سی اے آر)، جو محکمۂ جوہری توانائی (ڈی اے ای) کا ایک ذیلی ادارہ ہے، نے پی ایف بی آر کے مرکزی ڈیزائن ادارے کے طور پر کام کیا اور اس کی ترقی، جانچ اور کمیشننگ کے تمام مراحل میں جامع تکنیکی معاونت فراہم کی۔ آئی جی سی اے آر کی جانب سے پی ایف بی آر کے لیے کیے گئے اہم اقدامات درج ذیل ہیں:
انجینئرنگ اور جانچ:
سوڈیم نظام، اجزا کی اسمبلی اور آلات کے ڈیزائن، تجزیے، جانچ اور توثیق کے لیے جامع تکنیکی معاونت فراہم کی گئی، نیز منصوبے کے ہر مرحلے میں سخت نگرانی کو یقینی بنایا گیا۔
مواد اور سوڈیم ٹیکنالوجی:
خصوصی جوہری معیار کے مواد کا انتخاب، جدید سوڈیم ہینڈلنگ نظام، صفائی کی تکنیک، آلات کاری اور کنٹرول نظام تیار کیے گئے، جبکہ اہم اجزا کے لیے مینوفیکچرنگ کے طریقۂ کار بھی وضع کیے گئے۔
آلات کی تصدیق:
ری ایکٹر میں استعمال ہونے والے تمام سینسرز، آلات اور نظاموں کی سخت جانچ، بہتری اور مکمل تصدیق کا عمل انجام دیا گیا۔
ڈیزائن اور حفاظتی جائزہ:
تابکاری سے بچاؤ، تھرمو ہائیڈرو ڈائنامکس اور ری ایکٹر فزکس کے لیے مقامی کمپیوٹیشنل کوڈز تیار کیے گئے۔
مقامی تیاری (انڈیجینائزیشن):
ہندوستانی صنعتوں کے ساتھ وسیع تعاون کے ذریعے پی ایف بی آر کے تقریباً 90 فیصد آلات اور نظاموں کی مقامی تیاری کا ہدف حاصل کیا گیا۔ صنعتوں کو تکنیکی رہنمائی بھی فراہم کی گئی تاکہ وہ فاسٹ ری ایکٹر کے نظام کے لیے درکار سخت معیار کے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔
مربوط کمیشننگ:
مربوط کمیشننگ کے مختلف مراحل کے دوران تکنیکی معاونت اور ماہر افرادی قوت فراہم کی گئی، اور باہمی تعاون و مؤثر تال میل کے ذریعے مختلف چیلنجز کا کامیابی سے سامنا کیا گیا۔ محفوظ ابتدائی ایندھن لوڈنگ اور پہلی کریٹیکلٹی کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے آئی جی سی اے آر نے متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کرتے ہوئے کئی اہم کام انجام دیے:
خصوصی ایندھن انتظامی نظام:
جوہری ایندھن کی محفوظ ابتدائی لوڈنگ کے لیے درکار عمودی ایندھن انتظامی مشینوں کو ڈیزائن، جانچ اور کمیشن کیا گیا، جبکہ کمیشننگ سے وابستہ عملے کو خصوصی تربیت بھی فراہم کی گئی۔
سوڈیم کے اندر الٹراسونک امیجنگ:
شفاف نہ ہونے والے مائع سوڈیم کے اندر معائنہ کرنے کے لیے جدید الٹراسونک امیجنگ آلات استعمال کیے گئے، جن کے ذریعے آپریٹروں کو ری ایکٹر کے اندرونی نظام کی معلومات حاصل ہوئیں اور ایندھن کی کامیاب لوڈنگ کو یقینی بنایا گیا۔
اعلیٰ درجۂ حرارت پر روبوٹک معائنہ:
دیشا نامی خصوصی ریموٹ کنٹرول روبوٹک گاڑی کو ری ایکٹر کے برتنوں کے درمیان موجود اہم ویلڈز کے معائنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے ذریعے بلند درجۂ حرارت والے علاقوں میں حفاظتی تقاضوں کے مطابق معائنہ یقینی بنایا گیا۔
ضابطہ جاتی اور ری ایکٹر فزکس معاونت:
ری ایکٹر فزکس سے متعلق اہم تکنیکی معاونت فراہم کی گئی تاکہ ضابطہ جاتی منظوریوں کے حصول میں مدد مل سکے، اور جامع توثیقی رپورٹس پیش کی گئیں۔ نظریاتی طور پر پیش گوئی کیے گئے ری ایکٹر فزکس کے پیرامیٹرز پی ایف بی آر کی پہلی کریٹیکلٹی کے دوران حاصل ہونے والی حقیقی کارکردگی سے قریب تر پائے گئے۔
یورینیم-238 کا ایک کمبل پی ایف بی آر کے ری ایکٹر کور کو گھیرے ہوئے ہے۔ تیز رفتار نیوٹران اس زرخیز مادے کو فیزائیل (قابل انشقاق مادہ) پلوٹونیم-239 میں تبدیل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ری ایکٹر استعمال کیے جانے والے ایندھن سے زیادہ ایندھن پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔ ری ایکٹر کو مستقبل میں کمبل کے حصے میں تھوریم-232 کے استعمال کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تبدیلی کے عمل کے ذریعے تھوریم-232 کو یورینیم-233 میں تبدیل کیا جائے گا، جو ہندوستان کے تھوریم پر مبنی جوہری توانائی پروگرام کے تیسرے مرحلے کے لیے ایندھن فراہم کرے گا۔
مقامی طور پر تیار کیے جانے والے 10 عدد 700 میگاواٹ صلاحیت کے پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹروں (پی ایچ ڈبلیو آرز) کا پہلا بیڑا، جس کی مجموعی صلاحیت 7000 میگاواٹ ہے، عمل درآمد کے مختلف مراحل میں ہے۔ اس بیڑے میں ماہی بانسواڑہ جوہری بجلی منصوبے کے یونٹس 1 سے 4 (4 × 700 میگاواٹ) بھی شامل ہیں، جنہیں این پی سی آئی ایل کی ذیلی کمپنی اشونی اور نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (این پی سی آئی ایل) و نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن (این ٹی پی سی) کے مشترکہ منصوبے کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔
اس بیڑے کے پہلے منصوبے کائیگا-5 اور 6 (2 × 700 میگاواٹ) کے لیے پہلا کنکریٹ ڈالنے کے ساتھ تعمیراتی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ بیڑے میں شامل دیگر منصوبوں کے لیے قبل از تعمیر سرگرمیاں جاری ہیں۔ فلیٹ موڈ میں تیار کیے جانے والے ری ایکٹروں کے لیے طویل مدت تک استعمال ہونے والے آلات اور اجزا کی خریداری مرحلہ وار کی جا رہی ہے۔ ماہی بانسواڑہ منصوبے کا سنگ بنیاد معزز وزیر اعظم نے رکھا ہے۔ اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (اے ای آر بی) کی منظوری کے بعد ماہی بانسواڑہ راجستھان اٹامک پاور پروجیکٹ یونٹس 1 اور 2 کے لیے کھدائی کا کام جاری ہے۔
ان فلیٹ موڈ منصوبوں کی مرحلہ وار تکمیل کے بعد موجودہ نصب شدہ صلاحیت 8,780 میگاواٹ سے بڑھ کر 2031-32 تک 22,480 میگاواٹ ہو جائے گی۔ اس میں 500 میگاواٹ صلاحیت کا پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر (پی ایف بی آر) بھی شامل ہے، جسے بھارتیہ نابھکیہ ودیوت نگم لمیٹڈ (بھاوینی) کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان تین مرحلوں پر مشتمل جوہری توانائی پروگرام پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد طویل مدتی توانائی خود کفالت کو یقینی بنانا ہے۔ یہ پروگرام بند ایندھن چکر (کلوزڈ فیول سائیکل) پر مبنی ہے، جو یورینیم کے محدود وسائل کا مؤثر استعمال کرتا ہے اور ملک میں دستیاب تھوریم کے وسیع ذخائر سے فائدہ اٹھانے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
پہلے مرحلے میں ملک میں دستیاب قدرتی یورینیم کو پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹروں (پی ایچ ڈبلیو آرز) میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ان ری ایکٹروں میں استعمال شدہ ایندھن کی دوبارہ پروسیسنگ کے ذریعے پلوٹونیم حاصل کیا جاتا ہے۔
دوسرے مرحلے میں فاسٹ بریڈر ری ایکٹروں (ایف بی آرز) میں یورینیم-238 کو پلوٹونیم-239 میں تبدیل کیا جاتا ہے، جبکہ پلوٹونیم-239 کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تیسرے مرحلے میں، جب مناسب تعداد میں ایف بی آرز قائم ہو جائیں گے، تو تھوریم کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا جائے گا۔ اس مرحلے میں بریڈر ری ایکٹروں میں تھوریم سے تیار کردہ(قابل انشقاق مادہ) فیزائیل یورینیم-233 کو استعمال کیا جائے گا، جس کے لیے ابتدائی طور پر پلوٹونیم-239 کو معاون ایندھن (ڈرائیور فیول) کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
اٹامک منرلز ڈائریکٹوریٹ فار ایکسپلوریشن اینڈ ریسرچ (اے ایم ڈی)، جو محکمۂ جوہری توانائی (ڈی اے ای) کا ایک ذیلی ادارہ ہے، کو ملک میں یورینیم کے معدنی وسائل کی تلاش، شناخت، تشخیص اور مقدار کے تعین کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اب تک اے ایم ڈی نے آندھرا پردیش، تلنگانہ، جھارکھنڈ، میگھالیہ، راجستھان، کرناٹک، چھتیس گڑھ، اتر پردیش، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور مہاراشٹر میں مجموعی طور پر 4,42,800 ٹن یورینیم آکسائیڈ (U₃O₈) کے وسائل کی نشاندہی کی ہے۔
ملک میں یورینیم کی تلاش کو فروغ دینے کے لیے اے ایم ڈی نے ایک مربوط اور کثیر شعبہ جاتی حکمت عملی اختیار کی ہے، جس میں ارضیاتی، جیو فزیکل، جیو کیمیکل اور ریڈیو میٹرک سروے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں شناخت شدہ ترجیحی علاقوں میں ڈرلنگ شامل ہے۔ مزید برآں، اے ایم ڈی معدنی امکانات کی نقشہ سازی کے لیے منتخب ارضیاتی علاقوں میں ہوائی جیو فزیکل سروے اور جدید ٹیکنالوجی، جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ (ایم ایل)، کا استعمال کر رہا ہے۔ تلاش کے پروگرام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اے ایم ڈی کے آلات کے بیڑے میں جدید تجزیاتی آلات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
یہ معلومات وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*****
UR-1420
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2295268)
आगंतुक पटल : 10