ایٹمی توانائی کا محکمہ
پارلیمانی سوال: چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں کی تنصیب
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 3:32PM by PIB Delhi
مرکزی بجٹ 2025-26 میں اعلان کردہ نیوکلیئر انرجی مشن (این ای ایم) کا مقصد کم از کم پانچ مقامی چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں (ایس ایم آرز) کے ڈیزائن، ترقی اور آپریشن کو یقینی بنانا ہے۔ اس مشن کا ہدف 2047 تک 100 گیگاواٹ برقی (جی ڈبلیو ای) جوہری توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا بھی ہے۔ اس مقصد کے تحت بھابھا اٹامک ریسرچ سنٹر (بارک) نے 220 میگاواٹ برقی صلاحیت کے حامل بھارت سمال ماڈیولر ری ایکٹر (بی ایس ایم آر-200)، 55 میگاواٹ برقی صلاحیت کے حامل سمال ماڈیولر ری ایکٹر (ایس ایم آر-55) اور ہائی ٹمپریچر گیس کولڈ ری ایکٹر (ایچ ٹی جی سی آر) کے ڈیزائن، ترقی اور تنصیب کا کام شروع کر دیا ہے۔ ایچ ٹی جی سی آر 5 میگاواٹ تک حرارتی صلاحیت کے ساتھ ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام منصوبے نمائشی ری ایکٹروں کے طور پر قائم کیے جائیں گے۔ بی ایس ایم آر-200 سے حاصل ہونے والے تجربے کی بنیاد پر مستقبل میں اس کی صلاحیت کو 300 میگاواٹ برقی تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
مقامی پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹروں (پی ایچ ڈبلیو آرز) کی ترقی، تیاری اور تعمیر کے دوران حاصل ہونے والی مہارت اور صلاحیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، بارک نے ملکی صنعتوں کے اشتراک سے مقامی چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں (ایس ایم آرز) کی ترقی کا آغاز کیا ہے۔ ان ری ایکٹروں کی تیاری اور تنصیب کے لیے درکار ٹیکنالوجی ملک میں دستیاب ہے، جبکہ زیادہ تر آلات کی تیاری کی صلاحیت بھی ہندوستانی صنعتوں کے پاس موجود ہے۔ اس عمل میں بارک تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔
بی ایس ایم آر-200 اور ایس ایم آر-55 کے ری ایکٹر پریشر ویسلز کے لیے خصوصی مادہ ایڈوانسڈ پیور ری ایکٹر ویسل الائے (اپوروا) اور فورجنگ ٹیکنالوجی ہندوستانی صنعتوں کے تعاون سے مقامی طور پر تیار کی گئی ہے۔ اسی طرح کنٹرول راڈ ڈرائیو میکانزم بھی ملک میں ہی تیار کیا گیا ہے۔
نیوکلیئر انرجی فار ٹرانسفارمنگ انڈیا (شانتی) ایکٹ، 2025 کو وزارت قانون و انصاف نے نافذ کیا اور 21 دسمبر 2025 کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیا۔ یہ ایک جامع قانون ہے، جس کا مقصد پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے شعبے میں سرکاری اور نجی شعبے کی وسیع تر شراکت کو ممکن بنانا ہے۔ اس قانون میں تحقیق، ترقی، ڈیزائن، تعمیر، تنصیب، آپریشن اور متعلقہ سرگرمیوں میں نجی شعبے کی شرکت کی گنجائش فراہم کی گئی ہے، جبکہ جوہری شعبے پر حکومت کا خودمختار کنٹرول برقرار رکھا گیا ہے۔ مزید برآں، ضابطہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اس قانون کے تحت اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (اے ای آر بی) کو قانونی حیثیت دی گئی ہے تاکہ سخت ضابطہ جاتی نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس قانون میں ذمہ داری سے متعلق نظام میں بھی اصلاحات کی گئی ہیں تاکہ اسے بین الاقوامی معاہدوں اور رائج عالمی طریقوں کے مطابق بنایا جا سکے۔ اس کے تحت تنصیب کی نوعیت اور ری ایکٹر کی صلاحیت کی بنیاد پر مختلف سطحوں کی ذمہ داریاں متعین کی گئی ہیں، جس سے وسیع تر شراکت داری کی راہ ہموار ہوگی۔
ضابطہ جاتی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ (اے ای آر بی) نے ہلکے پانی کے ری ایکٹروں، پریشرائزڈ ہیوی واٹر ری ایکٹروں اور سوڈیم کولڈ فاسٹ ری ایکٹروں پر مبنی جوہری بجلی گھروں کے لیے حفاظتی تقاضے مقرر کیے ہیں۔ یہ تقاضے موجودہ بین الاقوامی معیارات، بالخصوص بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معیارات، کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں۔ اے ای آر بی نے جوہری بجلی گھروں کی لائسنسنگ اور حفاظتی نگرانی کے لیے ضابطہ جاتی طریقہ کار بھی وضع کیا ہے، جو عموماً ٹیکنالوجی سے غیر وابستہ (Technology Neutral) نوعیت کا ہے۔ یہی ضابطہ جاتی فریم ورک چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں (ایس ایم آرز) سمیت کسی بھی مجوزہ جدید ری ایکٹر کی لائسنسنگ اور حفاظتی جانچ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم ٹیکنالوجی سے متعلق بعض پہلوؤں میں ضرورت کے مطابق نظرثانی کی جا سکتی ہے۔
نیوکلیئر انرجی مشن (این ای ایم) کے تحت چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں (ایس ایم آرز) کی تحقیق، ترقی اور تنصیب کے لیے مجموعی طور پر 20,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں کی موجودہ پیش رفت درج ذیل ہے:
بی ایس ایم آر-200: انجینئرنگ اور تعمیر کے لیے اصولی منظوری دی جا چکی ہے۔ انتظامی اور مالی منظوری کی تجویز اٹامک انرجی کمیشن (اے ای سی) سے منظور ہو چکی ہے، جبکہ بااختیار ٹیکنالوجی گروپ (ای ٹی جی) کی منظوری بھی حاصل ہو گئی ہے۔ اٹامک انرجی کمیشن نے مہاراشٹر کے تاراپور کو اس منصوبے کے مقام کے طور پر منظور کیا ہے۔
ایس ایم آر-55: انجینئرنگ اور تعمیر کے لیے اصولی منظوری دی جا چکی ہے۔ اٹامک انرجی کمیشن نے مہاراشٹر کے تاراپور کو اس منصوبے کے مقام کے طور پر منظور کیا ہے۔
ایچ ٹی جی سی آر: انجینئرنگ اور تعمیر کے لیے اصولی منظوری دی جا چکی ہے۔ اس منصوبے کے لیے مجوزہ مقام بارک، وشاکھاپٹنم ہے، جہاں مقام کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔ ماحولیاتی منظوری کے لیے وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی سے شرائطِ حوالہ (ٹرمز آف ریفرنس) موصول ہو چکی ہیں۔
ان نمائشی چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں (ایس ایم آرز) کی تعمیر مکمل ہونے کا تخمینہ انتظامی اور مالی منظوری کی تاریخ سے تقریباً 60 سے 72 ماہ ہے۔
یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے عملہ، عوامی شکایات و پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
***
UR-1420
(ش ح۔اس ک )
(रिलीज़ आईडी: 2295250)
आगंतुक पटल : 6