خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
گود لینے کے عمل میں تاخیر کم کرنے اور شفافیت برقرار رکھنے کے لیے سی اے آر اے نے مشن واتسلیہ پورٹل کے تحت گود لینے کے ماڈیول کے ذریعے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے
تمام خصوصی گود لینے والی ایجنسیوں (ایس اے اے) کو لازمی طور پر مربوط کیئرنگز–مشن واتسلیہ نظام سے منسلک کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے گود لینے کے تمام معاملات کی ابتداء سے اختتام تک ڈیجیٹل طریقے سے کارروائی انجام دی جاتی ہے
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 4:22PM by PIB Delhi
خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ ساوتری ٹھاکر نے ایک سوال کے جواب میں راجیہ سبھا میں بتایا کہ خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت، کم عمر بچوں کے انصاف (بچوں کی نگہداشت اور تحفظ) ایکٹ، 2015 کی نوڈل وزارت ہے۔ یہ قانون نگہداشت اور تحفظ کے ضرورت مند بچوں اور قانون کے قصور وار بچوں کے تحفظ، سلامتی، وقار اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے بنیادی قانون ہے، جو ان کی بنیادی ضروریات کو نگہداشت، تحفظ، نشو و نما، علاج، بحالی اور سماجی باز آباد کاری کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ ملک میں کم عمر بچوں کے انصاف (بچوں کی نگہداشت اور تحفظ) ایکٹ، 2015 (جے جے ایکٹ) اور ہندو گود لینے اور نان و نفقہ ایکٹ، 1956 (ایچ اے ایم اے ) کے تحت انجام دیا جاتا ہے۔ ہندو گود لینے اور نان و نفقہ ایکٹ، 1956 کا انتظام و انصرام قانون و انصاف کی وزارت کرتی ہے۔ جے جے ایکٹ، 2015 کے تحت، بچوں کی بہبود کی کمیٹیوں (سی ڈبلیو سی) کو نگہداشت اور تحفظ کے ضرورت مند بچوں، بشمول یتیم، لا وارث اور رضا کارانہ طور پر سپرد کیے گئے بچوں، کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ انہیں بچوں کی نگہداشت کے اداروں (سی سی آئیز) کے کام کاج کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔ یہ قانون بچوں کی نگہداشت کے اداروں میں رہنے والے بچوں کے بہترین مفاد کے تحفظ کے لیے نگہداشت اور تحفظ کے معیارات کا تعین کرتا ہے اور ادارہ جاتی نگہداشت کے بجائے خاندانی ماحول فراہم کرنے کے مقصد سے غیر ادارہ جاتی نگہداشت کی خدمات، جن میں کفالت، رضاعی نگہداشت اور بعد از نگہداشت شامل ہیں، کو فروغ دیتا ہے۔
ممکنہ گود لینے والے والدین (پی اے پیز) کے انتظار کی مدت کا انحصار ان بچوں کی دستیابی پر ہوتا ہے ، جنہیں بچوں کی بہبود کی کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی جانب سے قانونی طور پر گود لینے کے لیے آزاد قرار دیا گیا ہو۔ یہ مدت اس بات پر بھی منحصر ہوتی ہے کہ ممکنہ گود لینے والے والدین کسی مخصوص ریاست سے بچے کو گود لینا چاہتے ہیں یا نہیں اور وہ کس عمر کے بچے کو ترجیح دیتے ہیں۔
ممکنہ گود لینے والے والدین (پی اے پیز) کے لیے انتظار کی مدت ، اس لیے ہوتی ہے کیونکہ گود لینے کے خواہش مند والدین کی تعداد، گود لینے کے لیے دستیاب بچوں کی تعداد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ تاہم، بچوں کو اداروں میں انتظار نہیں کرنا پڑتا کیونکہ قانونی طور پر گود لینے کے لیے آزاد قرار دیے گئے بچوں (ایل ایف اے) کو جلد گود لینے کے لیے ایک آن لائن حوالہ جاتی نظام موجود ہے۔ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کم عمر بچوں کے انصاف (بچوں کی نگہداشت اور تحفظ) ایکٹ، 2015 کی دفعات 65 اور 66 کے مطابق، گود لینے سے متعلق ضوابط، 2022 (ضابطہ 3 اور 5) کے تحت ہر ضلع میں کم از کم ایک خصوصی گود لینے والی ایجنسی (ایس اے اے) قائم کریں۔
خصوصی گود لینے والی ایجنسیوں (ایس اے اے) کے قیام اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے مالی معاونت مشن واتسلیہ اسکیم کے تحت فراہم کی جاتی ہے۔ تمام خصوصی گود لینے والی ایجنسیوں کو لازمی طور پر مربوط کیئرنگز–مشن واتسلیہ نظام سے منسلک کیا گیا ہے، جس کے ذریعے گود لینے کے معاملات کی ابتداء سے اختتام تک ڈیجیٹل کارروائی، بشمول سونپے جانے ، مطابقت سازی اور دستاویزات کی تکمیل کی جاتی ہے۔ اس عمل کی نگرانی مرکزی اور ریاستی سطح پر حقیقی وقت کے ڈیش بورڈز کے ذریعے اور وقفے وقفے سے منعقد ہونے والے جائزہ اجلاسوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔
29 جولائی ، 2026 ء تک تمام ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی انتظامیہ کے لیے مشن واتسلیہ اسکیم کے تحت 795 خصوصی گود لینے والی ایجنسیوں (ایس اے اے) کو منظوری دی جا چکی ہے۔
گود لینے سے متعلق ضوابط، 2022 کے شیڈول 14 کے مطابق، ہر متعلقہ فریق کے لیے مدتِ کار مقرر کی گئی ہے۔ گود لینے کے عمل میں تاخیر کم کرنے اور شفافیت برقرار رکھنے کے لیے مرکزی ادارۂ وسائل برائے گود لینے ( سی اے آراے ) نے مشن واتسلیہ پورٹل کے تحت گود لینے کے ماڈیول کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے۔ گود لینے کے عمل سے متعلق حکام اور ایجنسیوں کے لیے گود لینے سے متعلق ضوابط، 2022 کے شیڈول 14 میں مقررہ مدت کے مطابق، اس عمل کو تیز کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں سمیت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ باقاعدہ نگرانی اور فالو اَپ کیا جا رہا ہے۔
*************
( ش ح ۔ ا ع خ ۔ ع ا )
U.No. 1396
(रिलीज़ आईडी: 2295004)
आगंतुक पटल : 6