خلا ء کا محکمہ
پارلیمانی سوال: اسرو کی جانب سے ٹکراؤ سے بچاؤ کے لیے کیے گئے حفاظتی تدابیر
प्रविष्टि तिथि:
05 AUG 2026 2:28PM by PIB Delhi
زمین کے قریب نچلے مدار (لو ارتھ آربٹ) یعنی 2000 کلومیٹر سے کم بلندی پر گردش کرنے والے سیارچے خلائی ملبے اور دیگر خلائی اجسام کی زیادہ تعداد کے باعث ٹکراؤکے خطرات سے زیادہ دوچار رہتے ہیں۔ اس وقت بھارت کے 22 فعال سیارچوں میں سے 20 اسی مدار میں موجود ہیں، اس لیے انہیں تصادم کا نسبتاً زیادہ خطرہ لاحق ہے۔
خلائی تحقیق کے بھارتی ادارے (اسرو) نے سال 2025 کے دوران ممکنہ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے 20 حفاظتی مدار تبدیلی اقدامات انجام دیے، جبکہ سال 2026 میں اب تک ایسے 9 اقدامات کیے جا چکے ہیں۔
بھارتی خلائی آبجیکٹ سے تیسرے فریق کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کے سلسلے میں ریاست کی ذمہ داری، بیمہ اور متعلقہ امور سے متعلق پالیسی فریم ورک اور رہنما خطوط، جنہیں انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ آتھرائزیشن سینٹر (ان-اسپیس) نے تیار کیا ہے، اس وقت زیر غور ہیں۔
بھارت خلائی ملبے کے موثر انتظام سے متعلق بین الاقوامی تعاون کے مختلف پلیٹ فارمز میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان میں بین ادارہ جاتی خلائی ملبہ رابطہ کمیٹی(آئی اے ڈی سی)، اقوام متحدہ کا خلائی سرگرمیوں کے طویل مدتی استحکام سے متعلق ورکنگ گروپ(یو این -ایل ٹی ایس)، خلائی صورتحال سے آگاہی کے ماہرین کا گروپ (ایس ایس اے)، بین الاقوامی اکیڈمی برائے خلانوردی (آئی اے اے)کا خلائی ٹریفک مینجمنٹ ( ایس ٹی ایم)ورکنگ گروپ (ڈبلیو جی)اور بین الاقوامی خلانوردی فیڈریشن( آئی اے ایف) کا خلائی ملبہ ورکنگ گروپ شامل ہیں، جہاں خلائی ملبے میں کمی سے متعلق تکنیکی اور پالیسی امور پر غور و خوض کیا جاتا ہے۔
اسرو نے بین ادارہ جاتی خلائی ملبہ رابطہ کمیٹی کی نظرثانی شدہ خلائی ملبہ کم کرنے سے متعلق رہنما ہدایات کی تیاری میں نمایاں تعاون کیا ہے اور اپنی تکنیکی مطالعات کی بنیاد پر اہم تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ خلائی ملبے میں کمی کے اپنے عزم کے تحت بھارت نے 2024 میں ’ملبہ سے پاک خلائی مشن‘ اقدام کا اعلان کیا تھا۔ اسرو کا ہدف ہے کہ مستقبل قریب میں سرکاری اور نجی، دونوں شعبوں کے تمام بھارتی خلائی ادارے صفر خلائی ملبہ کے مقصد کو حاصل کریں۔
فی الوقت سری ہری کوٹا میں نصب ملٹی آبجیکٹ ٹریکنگ رڈار ( ایم او ٹی آر)نچلے زمینی مدار میں موجود بڑے خلائی اجسام کی نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے ایسے اجسام کی مسلسل نگرانی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ نیترا (این ای ٹی ای آر اے)منصوبے کے تحت لداخ کے ہنلے میں نصب کیا جانے والا جدید بصری دوربین اپنی تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے، جو جغرافیائی مدار میں 30 سینٹی میٹر یا اس سے بڑے خلائی اجسام کی نگرانی کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔
انسانی خلائی پرواز پروگرام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حیاتیاتی طبی اور لائف سپورٹ نظام سمیت کئی اہم جدید ٹیکنالوجیاں پہلی بار تیار کی جا رہی ہیں۔ یہ تمام ٹیکنالوجیاں اس وقت تیاری اور زمینی آزمائش کے مختلف مراحل سے گزر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی جانچ اور توثیق گگن یان مشنوں کے ذریعے کی جائے گی۔ انسانی خلائی پرواز کے لیے تیار کی جانے والی ان نئی ٹیکنالوجیوں کے کامیاب مظاہرے کے بعد، ضرورت کے مطابق ان کا استعمال عوامی فلاح اور دیگر سماجی شعبوں میں بھی کیا جا سکے گا۔
یہ معلومات سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
*********
ش ح۔م م ع۔ص ج
Urdu No-1374
(रिलीज़ आईडी: 2294834)
आगंतुक पटल : 9