صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
صحت کی تحقیق کے شعبے کومضبوط بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات
حکومت کی جانب سے صحت سے متعلق تحقیق کے لیے مالی معاونت میں نمایاں اضافہ ؛ قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر)کا بجٹ 25-2024 کے 2,732.13 کروڑ روپے سے بڑھا کر 27-2026 میں 4,000 کروڑ روپے کیا گیا
حکومت نے قومی طبی تحقیقاتی کونسل کے نئے مالیاتی فریم ورک اور اسٹریٹجک تحقیقی پروگراموں کے ذریعے صحت سے متعلق تحقیق کے نظام کو مضبوط بنایا
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 4:09PM by PIB Delhi
صحت و خاندانی بہبود کے مرکزی وزیرِ مملکت جناب پرتاپ راؤ جادھو نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایاکہ حکومت نے صحت سے متعلق تحقیق کے لیے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور ساتھ ہی نئی اسکیمیں اور اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں تاکہ تحقیقی گرانٹس کے حصول کے عمل کو زیادہ مسابقتی، شفاف اور محققین کے لیے آسان بنایا جا سکے۔قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) کا بجٹ 25–2024 کے بجٹ تخمینوں میں 2,732.13 کروڑ روپے سے بڑھا کر 26–2025 کے بجٹ تخمینوں میں3,125.50 کروڑ روپے اور 27–2026 کے بجٹ تخمینوں میں 4,000.00 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ 27–2026 کے لیے مختص بجٹ، 26–2025 کے نظرِثانی شدہ تخمینے 3,150.00 کروڑ روپے کے مقابلے میں تقریباً21 فیصد زیادہ ہے۔
حکومت نے صحت سے متعلق تحقیق کے لیے مالی معاونت کے نظام کو مزید وسیع اور مضبوط بنانے کے لیے بھی متعدد اقدامات کیے ہیں۔ قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) کے مطابق، اس نے اپنے اندرونی اور بیرونی تحقیقی گرانٹس کے نظام کو ازسرنو منظم اور وسعت دی ہے، تاکہ تحقیقی منصوبوں کی نوعیت، مطابقت، خطرے کی سطح اور عملی استعمال کے مرحلے کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب مالی معاونت فراہم کی جا سکے۔ آئی سی ایم آر نے ابتدائی تحقیقی گرانٹس سے حاصل ہونے والے نتائج اور دریافتوں کو آگے بڑھانے کے لیے نئی تکمیلی تحقیقی گرانٹس بھی متعارف کرائی ہیں، تاکہ تحقیق کو مزید مؤثر انداز میں فروغ دیا جا سکے۔
موجودہ مالی معاونتی ڈھانچے کے تحت چھوٹی یا ‘‘انویشن’’گرانٹس کے لیے2 کروڑ روپے تک، درمیانی یا ‘‘نشچایک انویشن’’گرانٹس کے لیے 2 کروڑ سے 8 کروڑ روپے تک، ‘‘ فرسٹ ان دی رولڈ چیلنج’’ کے تحت مختلف مراحل سے منسلکہ گرانٹ 8 کروڑ روپے تک، جبکہ اعلیٰ تحقیقی مراکز کے لیے 15 کروڑ روپے تک کی مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔یہ مالی معاونتی منصوبے محققین کی جانب سے پیش کیے جانے والے تحقیقی منصوبوں، پروف آف کانسیپٹ پر مبنی مطالعات، نئی مداخلتوں کی توثیق، زیادہ خطرے مگر زیادہ نتائج کی صلاحیت رکھنے والے اختراعات، کثیر شعبہ جاتی تحقیق اور اعلیٰ درجے کے تحقیقی پروگراموں کی معاونت کرتے ہیں۔
قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) نے مزید بتایا ہے کہ سرکاری طبی کالجوں اور اسپتالوں کے تحقیقی بجٹ میں اضافہ اور اسے مزید مضبوط بنانے کے لیے اس نے تزویراتی تحقیق کے لیے درج ذیل مالی معاونتی گرانٹس کا آغاز کیا ہے۔
- ٹاپ ٹائر گلوبل لیڈر شپ فنڈنگ اسکیم: یہ ایک اہم اور نمایاں اقدام ہے، جس کا مقصد این آئی آر ایف میں سرفہرست دس طبی اداروں کو تحقیق کے میدان میں عالمی سطح پر نمایاں قیادت فراہم کرنا اور ان کی عالمی درجہ بندی بہتر بنانا ہے۔
- قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) اور قومی طبی کمیشن (این ایم سی) کی جوائنٹ کال: اس اقدام کے تحت این آئی آر ایف میں شامل سرفہرست 100 طبی اداروں کو طبی تعلیم کے معیار کو مضبوط اور بہتر بنانے کے لیے تحقیق کی خاطر مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ اس کا مقصد اختراعی اور عملی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ قابلیت پر مبنی تعلیم، ڈیجیٹل تدریس اور امتحان و جانچ کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے طبی تعلیم کے معیار اور نتائج کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
- iii. دہلی میں واقع تین مرکزی سرکاری طبی کالجوں میں داخلی تحقیقی صلاحیت کے فروغ کے لیے قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) کا اقدام
- انوسندھان قومی تحقیقاتی فاؤنڈیشن (اے این آر ایف) نے قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) اور گیٹس فاؤنڈیشن کے اشتراک سے اعلیٰ اثرات کے حامل شعبوں میں پیش رفت کے مشن(ایم اے ایچ اے)- میڈیکل ٹیکنالوجی(مہا–میڈ ٹیک) کا آغاز کیا ہے۔ اس اہم اقدام کا مقصد ہندوستان میں طبی ٹیکنالوجی کے شعبے میں اختراع کو تیز کرنا، مہنگی درآمدات پر انحصار کم کرنا اور معیاری، کفایتی طبی ٹیکنالوجی تک سب کے لیے مساوی رسائی کو فروغ دینا ہے۔
- قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) کی طبی نگہداشت میں عمدگی کی پہل: اس کے تحت غیر متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے ملک کے مختلف مراکز پر طبی آزمائشیں (ملٹی سینٹر کلینیکل ٹرائلز) انجام دی جائیں گی۔
- قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) کے اعلیٰ تحقیقی مرکز کے قیام کے لیے خصوصی تجاویز کی کال(سی اے آر) جس کا مقصد ایسے ترجیحی طبی آلات اور تشخیصی ٹیکنالوجیز کی تیاری کے لیے اعلیٰ تحقیقی مراکز قائم کرنا ہے، جو مریضوں کی ان اہم طبی ضروریات کو پورا کریں جن کی نشاندہی قومی طبی تحقیقاتی کونسل نے مختلف متعلقہ فریقوں سے تفصیلی مشاورت کے بعد کی ہے۔ اس کے ذریعے کفایتی، آسانی سے دستیاب اور مقامی سطح پر تیار کی جانے والی صحت کی ٹیکنالوجیز کی ترقی کو فروغ دیا جائے گا، جن سے قومی صحتِ عامہ کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ وسیع عوامی مفاد اور طبی ٹیکنالوجی کے شعبے میں طویل مدتی خود انحصاری کو بھی تقویت ملےگی۔ ترجیحی طبی آلات اور تشخیصی ٹیکنالوجیز کی نشاندہی ایک جامع عمل کے ذریعے کی گئی، جس میں ملک بھر کے مختلف طبی مراکز سے تعلق رکھنے والے ممتاز معالجین، بشمول پہلے، دوسرے اور تیسرے درجے کے شہروں کے ماہرین، شریک ہوئے۔ اس مشاورتی عمل کے نتیجے میں تقریباً 100 ایسی ترجیحی طبی آلات اور تشخیصی ٹیکنالوجیز کی فہرست تیار کی گئی، جو ابھی تک پوری نہ ہونے والی اہم طبی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
- اعلیٰ معیار کی مسکن نگہداشت کی خدمات کے فروغ کے لیے قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) کا کثیر ریاستی عملی تحقیقی مطالعہ، جس کامقصد ہندوستان میں صحت کی موجودہ خدمات کے ساتھ مربوط، قابلِ توسیع مسکن نگہداشت (پالیئیٹو کیئر) کا مؤثر نمونہ تیار کرنا، اسے نافذ کرنا اور اس کا جامع جائزہ لینا ہے۔ اس تحقیق کے ذریعے اس ماڈل کی لاگت کے لحاظ سے تاثیر، عملی افادیت اور قابلِ عمل ہونے کا بھی جائزہ لیا جائے گا، تاکہ حاصل شدہ شواہد کی بنیاد پر پورے ملک میں مسکن نگہداشت کی خدمات کو مؤثر انداز میں وسعت دینے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
قومی طبی تحقیقاتی کونسل (آئی سی ایم آر) جدید ترین سائنسی ٹیکنالوجی سے متعلق متعدد بیرونی تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت کر رہی ہے، جن میں ریکومبیننٹ ویکسین، حیاتیاتی ادویات، خلیاتی اور جینیاتی علاج، روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت پر مبنی آلات کی تیاری شامل ہے۔ اب تک جدید ٹیکنالوجی سے متعلق 22 تحقیقی منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں، جن میں سی اے آر-ٹی سیل تھراپی، سرطان کے لیےہدف بند روبوٹک علاج، دل کی خودکار مالش اور روٹ کینال کے روبوٹک علاج جیسے منصوبے شامل ہیں۔ آئی سی ایم آر نے 97 مقامی طور پر تیار کردہ طبی آلات اور تشخیصی ٹیکنالوجی کی تیاری میں بھی معاونت فراہم کی ہے، جبکہ 11 ٹیکنالوجی کی لاگت کم کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ‘‘ فرسٹ ان دی ورلڈ چیلنج’’ کے تحت 60 سے زائد اختراعی تحقیقی منصوبوں کی مالی معاونت بھی کی جا چکی ہے۔
حیاتیاتی ادویات اور ان کے متبادل (بایوسِمیلرز) کے شعبے میں ملک کی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور عالمی مسابقت بڑھانے کے لیے حکومت نے بایوفارما شکتی اسکیم کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے لیے پانچ برسوں کے دوران 10,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد حیاتیاتی ادویات اور بایوسِمیلرز کے لیے عالمی معیار کا مقامی ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہے، تاکہ ہندوستان میں کفایتی اور معیاری علاج کو فروغ ملے اور ملک عالمی سطح پر بایوفارما کی تیاری اور اختراع کا ایک نمایاں مرکز بن سکے۔ اس کے علاوہ، یہ اسکیم تحقیق و ترقی کی حوصلہ افزائی، طبی آزمائشوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور جامعات، تحقیقی اداروں اور صنعتوں کے درمیان اشتراک کو فروغ دے کر بایوفارما کے شعبے میں مقامی اختراع اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی۔ حکومت کو توقع ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے وقت کے ساتھ درآمدات پر انحصار میں کمی آئے گی اور عالمی بایوفارما کے بازار میں ہندوستان کی موجودگی مزید مستحکم ہوگی۔ اس اسکیم کا طویل مدتی ہدف حیاتیاتی ادویات کی اختراع میں عالمی قیادت حاصل کرنا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی جانے والی حیاتیاتی ادویات، جدید علاج اور صحت کی انفرادی ضروریات کے مطابق درست معالجہ (پریسیژن میڈیسن) کو فروغ دینا شامل ہے، تاکہ یہ سہولتیں زیادہ سستی، معیاری اور عام لوگوں کی دسترس میں آ سکیں۔
*********
ش ح۔م ش ع۔ش ت
Urdu No-1353
(रिलीज़ आईडी: 2294692)
आगंतुक पटल : 6