ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری کی وزارت (ایم ایس ڈی ای)، حکومت ہند کی رہنمائی میں برکس-ٹی سی اے سمپوزیم اور جے ایم سی اجلاس کا انعقاد
دو روزہ برکس-ٹی سی اے اجلاس میں ڈیجیٹل، سبز اور آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا جو ہنرمندی اور افرادی قوت کی ضروریات کو متاثر کر رہی ہیں
بھارت نے جے ایم سی کے سامنے برکس بین الاقوامی اسکل گیپ اسٹڈی، برکس اسکلز مقابلے اور بہترین طریقہ کار کے مجموعے کی تجاویز پیش کیں
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 7:10PM by PIB Delhi
برکس ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ کوآپریشن الائنس (برکس-ٹی سی اے) ریسرچ سمپوزیم اور جوائنٹ مینجمنٹ کمیٹی (جے ایم سی) کا اجلاس 3 سے 4 اگست 2026 کے دوران نئی دہلی کے کوشل بھون میں منعقد ہوا۔
”پائیدار اور ڈیجیٹل طور پر فعال ٹی وی ای ٹی: برکس کا نقطۂ نظر“ کے موضوع پر منعقدہ اس دو روزہ اجلاس میں برکس ممالک، بین الاقوامی تنظیموں، علمی و تحقیقی شعبے، صنعت اور تربیتی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس تقریب کا انعقاد نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) نے حکومت ہند کی وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری (ایم ایس ڈی ای) کی رہنمائی میں کیا۔
ایم ایس ڈی ای کی سکریٹری محترمہ دیباشری مکھرجی نے کہا، ”ہنرمندی اب محض ایک سماجی اقدام نہیں رہی؛ یہ ایک اہم اقتصادی بنیادی ڈھانچہ ہے جو پیداواری صلاحیت، صنعتی مسابقت اور افرادی قوت کی لچک کو تشکیل دیتی ہے۔ دنیا کی 40 فیصد سے زائد آبادی کی نمائندگی کرنے والی برکس قوموں کے طور پر ہمارے پاس چست، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہنرمندی کے نظام وضع کرنے کا موقع بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ لیبر مارکیٹ انٹیلی جنس، ادارہ جاتی استحکام، مشترکہ تحقیق اور مصنوعی ذہانت (AI) اور گرین ٹیکنالوجیز جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں گہری شراکت داری کے ذریعے برکس-ٹی سی اے ہماری مشترکہ آبادیاتی طاقت کو مشترکہ خوش حالی اور زیادہ مضبوط عالمی افرادی قوت میں تبدیل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔“
وزارت تعلیم کے ایڈیشنل سکریٹری جناب آنند راؤ وی پاٹل نے زندگی بھر سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا، ”اب کوئی ڈگری سیکھنے کے عمل کے اختتام کی علامت نہیں ہو سکتی۔ تعلیمی نظام کو چاہیے کہ وہ سیکھنے والوں کو پوری زندگی کلاس روم، کام کی جگہ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے درمیان لچک کے ساتھ منتقل ہونے کے مواقع فراہم کرے۔ بھارت کی قومی تعلیمی پالیسی 2020 کثیر شعبہ جاتی تعلیم، کریڈٹ کی منتقلی اور پیشہ ورانہ و اعلیٰ تعلیم کے انضمام کے ذریعے اس کی حمایت کرتی ہے۔ برکس تعاون مشترکہ نصاب، ادارہ جاتی تبادلوں اور اسناد اور مائیکرو کریڈنشل کی وسیع تر منظوری کے ذریعے اس عمل کو آگے بڑھا سکتا ہے۔“
وزارت خارجہ کے جوائنٹ سکریٹری جناب راجیو بودواڑے نے اسکل ڈپلومیسی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، ”بھارت کی برکس چیئرمین شپ کے تحت ہنرمندی کے شعبے میں تعاون کو ہماری مشترکہ آبادیاتی اور اقتصادی طاقتوں کو عملی اور عوام پر مرکوز نتائج میں تبدیل کرنا چاہیے۔ اسکل ڈپلومیسی پر زیادہ توجہ سے رکن ممالک کے درمیان منظم نقل و حرکت، قابل اعتماد سرٹیفیکیشن اور زیادہ قریبی ادارہ جاتی رابطہ کاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ بھارت ڈیجیٹل اسکلنگ پلیٹ فارموں اور شفاف نقل و حرکت کے نظام میں اپنے تجربات کا اشتراک کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ گلوبل ساؤتھ میں محفوظ اور باہمی طور پر مفید افرادی قوت کے راستوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔“
نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (این ایس ڈی سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور برکس-ٹی سی اے کے روٹیشنل چیئر جناب ارون کمار پلئی نے عملی تعاون کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، ”برکس بیک وقت تین بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ 2030 تک 86 فیصد آجر توقع کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور معلوماتی پروسیسنگ ٹیکنالوجیز کاروباری سرگرمیوں میں تبدیلی لائیں گی، جبکہ 39 فیصد کارکنوں کی بنیادی مہارتوں میں تبدیلی کا امکان ہے۔ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں پہلے ہی عالمی سطح پر 1.66 کروڑ ملازمتیں موجود ہیں۔ اسی دوران، بعض رکن ممالک میں نوجوان افرادی قوت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دیگر ممالک کو افرادی قوت کی ساختی قلت کا سامنا ہے۔ یہ ایک اہم موقع ہے، لیکن اصل چیلنج ہنرمندی کے نظاموں کے درمیان اعتماد اور باہمی منظوری کا ہے۔ تقابلی نوعیت کی اسناد، قابل تصدیق ڈیجیٹل اسناد اور مشترکہ معیارات اس آبادیاتی طاقت کو نقل و حرکت، مواقع اور مشترکہ ترقی میں تبدیل کر سکتے ہیں۔“
افتتاحی اجلاس کی صدارت محترمہ دیب شری مکھرجی، سکریٹری، وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری؛ جناب دلیپ کمار، ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریننگ؛ جناب آنند راؤ وی پاٹل، ایڈیشنل سکریٹری، وزارت تعلیم؛ جناب نرنجن کمار سدھانشو، ایڈیشنل سکریٹری، وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری؛ محترمہ منیشا سین شرما، سینئر اقتصادی مشیر، وزارت ہنرمندی کی ترقی و صنعت کاری؛ جناب راجیو بودواڑے، جوائنٹ سکریٹری، وزارت خارجہ اور جناب ارون کمار پلئی، روٹیشنل چیئر، برکس-ٹی سی اے اور چیف ایگزیکٹو آفیسر، نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے کی۔
افتتاحی اجلاس کے بعد ایک مکمل اجلاس منعقد ہوا، جس میں برکس کے رکن ممالک، بشمول برازیل، روس، چین، متحدہ عرب امارات، ایران اور بھارت نے پیشہ ورانہ تعلیم اور ہنرمندی کی ترقی کے حوالے سے اپنے اپنے اہم اقدامات پیش کیے۔ مکمل اجلاس کے بعد دو پینل مباحثے ہوئے، جن کے موضوعات تھے: ’پائیداری کے اقدامات کے لیے گرین اسکلز ڈیولپمنٹ اور مالی اعانت کے طریقۂ کار‘ اور ’ٹی وی ای ٹی کے لیے ڈیجیٹل تبدیلی اور اے آئی، وی آر اور اے آر‘۔
4 اگست کو منعقدہ جوائنٹ مینجمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں ریسرچ سمپوزیم کے مباحثوں کے خلاصے پر غور کیا گیا اور مستقبل کی ترجیحات کے حوالے سے رکن ممالک سے تجاویز حاصل کی گئیں۔ بھارت کی چیئرمین شپ کے تحت تین تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ پہلی تجویز کے طور پر برکس کے لیے بین الاقوامی اسکل گیپ اسٹڈی کے ایک فریم ورک پر غور کیا گیا، جس کا مقصد ابھرتے ہوئے پیشوں اور افرادی قوت کی کمی میں موجود خلا کی نشاندہی کرنا ہے؛ دوسری تجویز کے تحت پیشہ ورانہ مہارت میں عمدگی اور قابلیت کی مشترکہ تفہیم کو فروغ دینے کے لیے برکس اسکلز مقابلہ منعقد کیا جائے گا اور تیسری تجویز کے تحت ٹی وی ای ٹی میں بہترین طریقۂ کار کا ایک مجموعہ تیار کیا جائے گا، جس میں صنعت کے ساتھ شراکت داری، ڈیجیٹل لرننگ، اسناد اور مالی اعانت کے طریقۂ کار جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔
نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت، عالمی بینک، بین الاقوامی محنت تنظیم (آئی ایل او)، یونیسکو، یونیورسٹیوں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں، بشمول سیکٹر اسکل کونسل نے بھی ان مباحثوں میں شرکت کی۔






************
ش ح۔ ف ش ع
U: 1324
(रिलीज़ आईडी: 2294634)
आगंतुक पटल : 5