زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
تلہن بیجوں اور پام آئل کی پیداوار
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 6:12PM by PIB Delhi
حکومت ہند نے 3 اکتوبر 2024 کو قومی مشن برائے خوردنی تیل۔ تلہن بیج کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد ملک میں تلہن بیجوں کی پیداوار میں اضافہ اور خوردنی تیل کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنا ہے۔ اس مشن کے تحت تیل دار بیجوں کی بنیادی پیداوار کو 23-2022 کے 3 کروڑ 90 لاکھ ٹن سے بڑھا کر 31-2030 تک 6 کروڑ 97 لاکھ ٹن تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ مشن کلسٹر پر مبنی حکمت عملی کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔ ملک بھر میں 600 سے زائد ویلیو چین کلسٹرز کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کا انتظام فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز، کوآپریٹو اداروں اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔ ان کلسٹرز کے تحت کسانوں کو زیادہ پیداوار دینے والی نئی اقسام کے معیاری بیج مفت فراہم کیے جاتے ہیں اور انہیں بہتر زرعی طریقوں کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ مشن کے تحت فصل کی کٹائی کے بعد بنیادی ڈھانچے، خصوصاً آئل ملوں کے قیام اور جدید کاری میں بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ تیل کے حصول کی شرح میں اضافہ کیا جا سکے۔
مشن کے تحت تصدیق شدہ بیجوں کی دستیابی کو مضبوط بنانے کے لیے بریڈر بیجوں کی خریداری پر سو فیصد مالی معاونت، سرکاری شعبے میں نئے سیڈ ہبز اور خصوصی بیج ذخیرہ گاہوں کے قیام کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، تاکہ بیجوں کی پیداوار اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہو۔
یہ مشن فرنٹ لائن مظاہروں، کلسٹر فرنٹ لائن مظاہروں اور بلاک سطح کے مظاہروں کے ذریعے پیداوار بڑھانے پر بھی توجہ دے رہا ہے، تاکہ کسان جدید اقسام اور بہتر زرعی طریقوں کو اپنائیں۔
تیل دار بیجوں کی پیداوار 24-2023 میں 3 کروڑ 96 لاکھ 70 ہزار ٹن سے بڑھ کر 26-2025 میں 4 کروڑ 30 لاکھ 60 ہزار ٹن ہو گئی ہے، جو محکمہ زراعت کے تیسرے پیشگی تخمینے کے مطابق ہے۔ مشن کے تحت 26-2025 میں ویلیو چین کلسٹرز کے ذریعے 13 لاکھ 52 ہزار ہیکٹر رقبے میں مفت بیج تقسیم کیے گئے، جبکہ سالانہ ہدف 10 لاکھ ہیکٹر تھا۔ اسی عرصے میں نئی اقسام کے بریڈر بیج تیار کرنے کے لیے 60 سیڈ ہبز اور 50 خصوصی بیج ذخیرہ گاہوں کی منظوری دی گئی۔
محکمہ خوراک و سرکاری نظام تقسیم کے ڈائریکٹوریٹ آف شوگر اینڈ ویجیٹیبل آئلز کے مطابق، ہندوستان نے 26-2025 کے دوران 1 کروڑ 60 لاکھ 72 ہزار ٹن خوردنی تیل درآمد کیا، جس میں 75 لاکھ 17 ہزار ٹن پام آئل شامل تھا، جو مجموعی درآمدات کا 46.77 فیصد بنتا ہے۔
حکومت ہند نے اگست 2021 میں قومی مشن برائے خردنی تیل۔ آئل پام کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد خصوصاً شمال مشرقی ریاستوں میں آئل پام کی کاشت کو فروغ دینا ہے۔ یہ مشن اس وقت 15 ریاستوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت کسانوں کو معیاری پودے، بین الفصلی کاشت کے لیے ضروری وسائل، چار سالہ نشوونما کے دوران دیکھ بھال کے اخراجات، پرانے اور غیر پیداواری باغات کی دوبارہ شجرکاری، زرعی مشینری، آبپاشی کی سہولت، سیڈ گارڈن، نرسریوں اور کسٹم ہائرنگ مراکز کے قیام میں مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں آئل پام پروسیسنگ ملوں کے قیام کے لیے بھی خصوصی امداد دی جا رہی ہے۔
2021-22 سے 26-2025 کے دوران 2 لاکھ 73 ہزار ہیکٹر رقبہ آئل پام کی کاشت کے تحت لایا گیا، جس کے بعد 31 مارچ 2026 تک اس کی مجموعی زیر کاشت اراضی 6 لاکھ 40 ہزار ہیکٹر ہو گئی۔ اس مدت میں 11 کروڑ 46 لاکھ 60 ہزار ٹن تازہ پھلوں کے گچھوں کی پیداوار حاصل ہوئی، جس سے 20 لاکھ 10 ہزار ٹن خام پام آئل تیار کیا گیا۔ اس وقت ملک بھر میں 27 آئل پام پروسیسنگ ملیں کام کر رہی ہیں۔
مشن کے تحت آئل پام کاشتکاروں کی مدد کے لیے ویابلیٹی گیپ پیمنٹ کی بھی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔ اب تک اس مد میں 18.90 کروڑ روپے کی رقم 9 ہزار 244 آئل پام کاشتکاروں کو گوا، تمل ناڈو، گجرات، کرناٹک، اڈیشہ، اروناچل پردیش، آسام اور میزورم میں ادا کی جا چکی ہے۔
یہ معلومات وزیر مملکت برائے زراعت و کسانوں کی بہبود جناب رامناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں فراہم کیں۔
************
ش ح ۔ م ع ۔ م ص
(U : 1335 )
(रिलीज़ आईडी: 2294600)
आगंतुक पटल : 7