سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
حکومت نے درج فہرست ذاتوں کے طلبا میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم کو مزید مضبوط کیا
نظرثانی شدہ فنڈنگ پیٹرن، براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) اور مکمل آن لائن کارروائی کے ذریعے زیادہ شفافیت اور اسکالرشپ کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا گیا
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 7:07PM by PIB Delhi
مرکزی حکومت درج فہرست ذاتوں (ایس سی) سے تعلق رکھنے والے طلبا میں اعلیٰ تعلیم کے مجموعی داخلہ تناسب (جی ای آر) میں نمایاں اضافہ کرنے کے مقصد سے درج فہرست ذاتوں کے لیے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ (پی ایم ایس) اسکیم نافذ کر رہی ہے، بالخصوص ان طلبا کے لیے جو غریب ترین گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اسکیم میٹرک کے بعد اور ثانوی تعلیم کے بعد کی سطحوں پر مالی امداد فراہم کرتی ہے، جس سے اہل درج فہرست ذاتوں کے طلبا کو اپنی تعلیم جاری رکھنے اور مکمل کرنے میں مدد ملتی ہے۔
وزیر مملکت برائے سماجی انصاف و عطائے اختیارات جناب رام داس اٹھاولے نے راجیہ سبھا میں جناب گولا بابو راؤ کے تحریری سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ آندھرا پردیش میں پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیم 2020-21 سے مسلسل نافذ کی جا رہی ہے۔ ریاست کے تمام اضلاع میں اہل درخواست گزاروں کو اسکالرشپ کی رقم فراہم کی گئی ہے۔
دستیاب تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، آندھرا پردیش کو 2026-27 کے دوران (24 جولائی 2026 تک) 149.03 کروڑ روپے کی مرکزی امداد موصول ہوئی، جس سے 81,667 طلبا مستفید ہوئے ہیں۔
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ اسکیم کے فنڈنگ پیٹرن میں 2020-21 میں نظرثانی کی گئی ہے، جس کے تحت پہلے رائج ریاستی واجب الادا ذمہ داری کے تصور کو ختم کرتے ہوئے مرکز اور ریاست کے درمیان فنڈ کی شراکت کا مقررہ تناسب 60:40 کر دیا گیا، جبکہ شمال مشرقی ریاستوں کے لیے یہ تناسب 90:10 مقرر کیا گیا ہے۔ نظرثانی شدہ فنڈنگ پیٹرن سے ریاستوں پر مالی بوجھ کم ہوا ہے اور اسکیم میں مرکزی حکومت کی مالی شراکت میں اضافہ ہوا ہے۔
ایوان کو یہ بھی بتایا گیا کہ اسکیم کے تحت کارکردگی، شفافیت اور جواب دہی کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ ان میں درخواستوں کی مکمل آن لائن کارروائی، دستیاب ڈیٹا بیس سے منسلک کرکے اہلیت کی ڈیجیٹل تصدیق، تیز تر جانچ پڑتال، مسلسل نگرانی، ایک ہی مستفید کو متعدد بار فائدہ پہنچنے کی روک تھام اور اسکالرشپ کے فوائد کی بروقت فراہمی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، حکومت نے 2021-22 سے اسکیم کے تحت براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے ذریعے اسکالرشپ کی رقم اہل طلبا کے آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں براہِ راست منتقل کی جاتی ہے۔ اس اقدام سے فنڈز کی منتقلی کا عمل آسان ہوا ہے، شفافیت میں اضافہ ہوا ہے اور مستفیدین کی درست نشاندہی یقینی ہوئی ہے۔ درخواستیں مقررہ ریاستی اسکالرشپ پورٹل یا نیشنل اسکالرشپ پورٹل کے ذریعے طلب کی جاتی ہیں، جبکہ مرکزی حصے کی رقم کی فراہمی ریاستی حکومت کے متعلقہ حصے کی بروقت فراہمی سے مشروط ہے۔
وزیر موصوف نے یہ بھی بتایا کہ ریاستوں کی جانب سے درخواستوں کی تصدیق میں تاخیر اور ریاستی حصے کی رقم جاری کرنے میں تاخیر کے نتیجے میں اہل مستفیدین کو مرکزی امداد کی فراہمی میں بھی تاخیر ہو سکتی ہے۔ حکومت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ اسکالرشپ کی بروقت تصدیق اور تقسیم یقینی بنائی جا سکے اور اہل درج فہرست ذاتوں کے طلبا کو بلا تاخیر مالی امداد حاصل ہو۔
***
ش ح۔ ف ش ع
U: 1320
(रिलीज़ आईडी: 2294582)
आगंतुक पटल : 8