زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مٹی کے انحطاط کی روک تھام

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 6:18PM by PIB Delhi

حکومت نے مٹی کے انحطاط کو روکنے اور کسانوں میں کھادوں، نامیاتی کھادوں اور جڑی بوٹی مار ادویات کے معقول استعمال کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جو درج ذیل ہیں۔

  • سوائل ہیلتھ اینڈ فرٹیلٹی اسکیم کے تحت 2014-15 سے کھادوں کے متوازن استعمال کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کے تحت سوائل ہیلتھ کارڈ (ایس ایچ سی) تیار کیے جاتے ہیں، جن میں مٹی کی غذائی حیثیت کی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہی معلومات کی بنیاد پر کسانوں کو فصل کے لحاظ سے کھادوں کے استعمال سے متعلق سفارشات دی جاتی ہیں، جس سے غذائی اجزا کے متوازن اور مؤثر انتظام کو فروغ ملتا ہے۔ سوائل ہیلتھ کارڈ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، کاشت کی لاگت میں کمی اور پائیدار زراعت کے فروغ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اب تک 26.09 کروڑ سوائل ہیلتھ کارڈ تیار کرکے کسانوں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ ملک بھر میں 1,30,627 کسانوں کو تربیت دی گئی، 7.17 لاکھ عملی مظاہرے منعقد کیے گئے اور 7,425 کسان میلوں/مہمات کا انعقاد کیا گیا، جن میں سوائل ہیلتھ کارڈ کی سفارشات سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔
  • نیشنل مشن آن نیچرل فارمنگ (این ایم این ایف) کو مرکزی کابینہ نے 25 نومبر 2024 کو منظوری دی تھی۔ یہ مشن فارم میں دستیاب وسائل کے استعمال کے ذریعے کیمیکل سے پاک اور فطرت پر مبنی کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دیتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت اب تک 23.13 لاکھ کسانوں کا اندراج کیا جا چکا ہے اور 11.44 لاکھ ہیکٹر رقبہ اس کے دائرۂ کار میں لایا گیا ہے۔ حکومت نے 1985 سے مربوط کیڑوں کے انتظام (انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ - آئی پی ایم) کو مجموعی فصلی پیداوار پروگرام میں پودوں کے تحفظ کے بنیادی اصول اور بنیادی حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا ہے۔ آئی پی ایم ایک ماحول دوست طریقۂ کار ہے، جس میں ثقافتی، میکانکی، حیاتیاتی اور ضرورت کے مطابق کیمیائی کنٹرول کے اقدامات شامل ہوتے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ آف پلانٹ پروٹیکشن، قرنطینہ اینڈ اسٹوریج (ڈی پی پی کیو اینڈ ایس) کا انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ-کم-ٹڈی دل ڈویژن، ملک کی 28 ریاستوں اور 2 مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں قائم اپنے 48 سنٹرل انٹیگریٹڈ پیسٹ مینجمنٹ سینٹروں (سی آئی پی ایم سی) اور ٹڈی دل-کم-سی آئی پی ایم سی کے ذریعے آئی پی ایم کو فروغ دے رہا ہے۔ کسانوں کو فارمر فیلڈ اسکولوں (ایف ایف ایس) کے تحت دو روزہ انسانی وسائل کی ترقی کے پروگراموں اور کیڑے مار ادویات کے محفوظ اور معقول استعمال سے متعلق آگاہی پروگراموں کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے۔ یہ پروگرام کسانوں کو ثقافتی، میکانکی اور حیاتیاتی کنٹرول کے اقدامات کو مؤثر انداز میں یکجا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔
  • موجودہ خریف سیزن 2026 کے دوران محکمہ زراعت اور کسانوں کی بہبود (ڈی اے اینڈ ایف ڈبلیو) اور انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کے ذریعے کھادوں کے متوازن استعمال کے بارے میں خصوصی بیداری مہم اور کھیت بچاؤ ابھیان چلایا گیا، جس کے تحت مجموعی طور پر 2,94,554 پروگرام منعقد کیے گئے، جن سے 1,36,73,465 کسان مستفید ہوئے۔ اس مہم کے دوران کسانوں کو قدرتی اور نامیاتی کاشتکاری، بایو اِن پٹس، متبادل کھادوں اور دیگر متعلقہ موضوعات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
  • پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی) 2015-16 سے نافذ ہے۔ یہ اسکیم پیداوار، پروسیسنگ، سرٹیفیکیشن اور مارکیٹنگ سمیت مکمل معاونت فراہم کرکے نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دیتی ہے۔ اب تک 18.93 لاکھ ہیکٹر رقبہ نامیاتی کاشتکاری کے تحت لایا جا چکا ہے اور 33.63 لاکھ کسان اس سے مستفید ہوئے ہیں۔
  • مشن آرگینک ویلیو چین ڈیولپمنٹ فار نارتھ ایسٹرن ریجن (ایم او وی سی ڈی این ای آر) شمال مشرقی ریاستوں میں نامیاتی کاشتکاری کے فروغ کے لیے 2015-16 سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اب تک 2.36 لاکھ ہیکٹر رقبہ نامیاتی کاشتکاری کے تحت لایا جا چکا ہے اور 2.74 لاکھ کسان اس سے مستفید ہوئے ہیں۔
  • حکومت کھادوں کے معقول استعمال کے ایک حصے کے طور پر مٹی میں نامیاتی کاربن کی مقدار بڑھانے والی خمیر شدہ نامیاتی کھاد (ایف او ایم) اور مائع خمیر شدہ نامیاتی کھاد (ایل ایف او ایم) کے استعمال کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ 2024-25 کے دوران ایف او ایم/ایل ایف او ایم کی سالانہ کھپت 3.36 ایل ایم ٹی رہی، جبکہ موجودہ خریف سیزن (یکم اپریل 2026 سے 16 جولائی 2026 تک) کے دوران اس کی کھپت 11.86 ایل ایم ٹی ریکارڈ کی گئی ہے۔
  • انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) کا ڈائریکٹوریٹ آف ویڈ ریسرچ، جبل پور تحقیق، عملی مظاہروں، صلاحیت سازی اور توسیعی پروگراموں کے ذریعے مختلف فصلوں اور زرعی نظاموں میں جڑی بوٹی مار ادویات کے معقول استعمال کے لیے پائیدار انٹیگریٹڈ ویڈ مینجمنٹ (آئی ڈبلیو ایم) کو فروغ دے رہا ہے۔ ڈائریکٹوریٹ موبائل پر مبنی خدمات، سوشل میڈیا، مطبوعہ لٹریچر اور گاؤں کی سطح پر توسیعی پروگراموں کے ذریعے سائنسی مشورے فراہم کرتا ہے تاکہ جڑی بوٹی مار ادویات کے مؤثر اور ماحول دوست استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، ڈائریکٹوریٹ مٹی اور غذائی زنجیر میں جڑی بوٹی مار ادویات کی باقیات کا تجزیہ بھی کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر کسانوں کو فصلوں کے انتظام سے متعلق مناسب مشورے دیتا ہے۔ ان اقدامات نے جڑی بوٹی مار ادویات کے بے جا استعمال میں نمایاں کمی لانے کے ساتھ ساتھ مٹی کی صحت اور فصلوں کی پیداوار میں بہتری لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

یہ معلومات زراعت اور کسانوں کی بہبود کے وزیر مملکت، جناب رام ناتھ ٹھاکر نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے ذریعے فراہم کیں۔

***

UR-1325

(ش ح۔اس ک  )


(रिलीज़ आईडी: 2294546) आगंतुक पटल : 5
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी