صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
این ایف ایچ ایس-6 کی تازہ پیش رفت
این ایف ایچ ایس-6 کے حقائق نامے (فیکٹ شیٹس) کے اشاریوں کو حکومت کے ڈیٹا ہم آہنگی اقدام کے مطابق تکنیکی مشاورتی کمیٹی نے حتمی شکل دی
این ایف ایچ ایس-6 کے حقائق ناموں میں اہم ہم آہنگ شدہ اشاریوں پر توجہ مرکوز کی گئی؛ خون کی کمی (انیمیا) کے تخمینے آئی سی ایم آر کے گولڈ اسٹینڈرڈ سروے کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 4:11PM by PIB Delhi
وزارتِ صحت و خاندانی بہبود(ایم او ایچ اینڈ ایف ڈبلیو) کی جانب سے قومی خاندانی صحت سروے (این ایف ایچ ایس) کے نام سے ایک مربوط سروے کرایا جاتا ہے۔ یہ سروے صحت اور خاندانی بہبود سے متعلق معلومات کے ساتھ ساتھ آبادی کی خصوصیات، شرحِ پیدائش اور پیدائش سے متعلق ترجیحات، خاندانی منصوبہ بندی، زچہ و بچہ کی صحت، غذائیت، بیماریوں اور صحت خدمات، خواتین کو بااختیار بنانے سمیت دیگر متعلقہ شعبوں سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرتا ہے۔
این ایف ایچ ایس کے چھٹے دور (2023-24) کے قومی اور ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقے کے حقائق نامے (فیکٹ شیٹس) 29 مئی 2026 کو جاری کیے گئے۔
این ایف ایچ ایس-6 کے قومی اور ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے حقائق ناموں میں شامل کیے جانے والے اشاریوں کو این ایف ایچ ایس-6 کے لیے تشکیل دی گئی تکنیکی مشاورتی کمیٹی (ٹی اے سی) کی سفارشات کی بنیاد پر حتمی شکل دی گئی۔ اس کمیٹی میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے نمائندے شامل تھے، جن میں محکمہ پینے کے پانی اور صفائی (ڈی ڈی ڈبلیو ایس)، خواتین و اطفال کی بہبودکی وزارت، شماریات و پروگرام عمل درآمدکی وزارت، رجسٹرار جنرل و مردم شماری کمشنر دفتر، نیتی آیوگ، معذور افراد کو بااختیار بنانے کامحکمہ (ڈی ای پی ڈبلیو ڈی) وغیرہ شامل ہیں۔
تکنیکی مشاورتی کمیٹی نے سفارش کی کہ حقائق ناموں کے لیے اشاریوں کی فہرست کو حکومتِ ہند کے ڈیٹا ہم آہنگی اقدامات کے مطابق حتمی شکل دی جائے، تاکہ مختلف سرکاری اعداد و شمار کے ذرائع میں موجود الگ الگ اور غیر ہم آہنگ معلومات کے باعث پیدا ہونے والی تضادات سے بچا جا سکے۔ کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ حقائق ناموں میں صرف اہم اشاریوں کو شامل کیا جائے، خاص طور پر صحت اور خاندانی بہبود سے متعلق اشاریوں کو، تاکہ سروے کے اہم نتائج کو زیادہ مؤثر انداز میں پیش کیا جا سکے۔
اس کے علاوہ، صحت و خاندانی بہبودکی وزارت نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا کہ خون کی کمی (انیمیا) کی شرح کے اعداد و شمار انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کی جانب سے کیے جانے والے ایک آزاد سروے سے حاصل کیے جائیں گے، جس میں ہیموگلوبن کی جانچ کے لیے گولڈ اسٹینڈرڈ انٹراوینس طریقۂ کار استعمال کیا جائے گا۔
یہ معلومات صحت و خاندانی بہبودکی مرکزی وزیر مملکت محترمہ انوپریا پٹیل نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔
******
( ش ح ۔ م م ۔ م ا )
Urdu.No-1293
(रिलीज़ आईडी: 2294393)
आगंतुक पटल : 9