بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی آبی گزرگاہوں میں نجی سرمایہ کاری اور توسیع

प्रविष्टि तिथि: 04 AUG 2026 3:41PM by PIB Delhi

مال برداری اور مسافر برداری کے لیے قومی آبی گزرگاہوں (این ڈبلیوز) کے آپریشنل نیٹ ورک کو وسعت دینے اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے قومی آبی گزرگاہیں (جیٹیوں/ٹرمینلز کی تعمیر) ضوابط، 2025 جاری کیے ہیں، تاکہ نجی اداروں کے ذریعے ٹرمینلز کی تعمیر اور ان کے آپریشن کو آسان بنایا جا سکے۔ مزید برآں، اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں پر مال برداری کو فروغ دینے کے لیے جل واہک اسکیم شروع کی گئی ہے، جس کے تحت مراعات کی شکل میں 35 فیصد تک مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت طویل مدتی رعایتی معاہدوں کے تحت ٹرمینلز کے آپریشن اور دیکھ بھال (او اینڈ ایم) کی ذمہ داری سونپ کر عوامی-نجی شراکت داری (پی پی پی) ماڈل کے ذریعے نجی شعبے کی شمولیت کو بھی فروغ دے رہی ہے۔

جل یان اور ناوک پورٹل، جو اندرونِ ملک جہازوں اور عملے کے لیے ایک مرکزی قومی رجسٹری کے طور پر کام کرنے والا "ایک ملک، ایک رجسٹریشن" سنگل ونڈو نظام ہے، مکمل طور پر فعال ہو چکا ہے۔ 18 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اس پورٹل سے منسلک کیا جا چکا ہے، جبکہ 30 جولائی 2026 تک اس پورٹل پر 9,953 اندرونِ ملک جہاز اور 1,215 عملے کے ارکان کا اندراج ہو چکا ہے۔

قومی آبی گزرگاہوں پر مال برداری اور مسافر آمد و رفت میں اضافے کی راہ میں اہم چیلنجز میں آبی گزرگاہوں کے اطراف محدود صنعتی سرگرمیاں، موزوں اندرونِ ملک جہازوں کی محدود دستیابی، ابتدائی اور آخری مرحلے کے رابطہ نظام کی کمی، محدود ملٹی- ماڈل لاجسٹک بنیادی ڈھانچہ اور مال بردار اداروں و آپریٹروں میں اندرونِ ملک آبی نقل و حمل (آئی ڈبلیو ٹی) کے فوائد کے بارے میں کم آگاہی شامل ہیں۔ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن کی تفصیلات ضمیمہ میں دی گئی ہیں۔

ضمیمہ

قومی آبی گزرگاہوں پر مال برداری اور مسافر آمد و رفت میں اضافے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات:

ملٹی -ماڈل ٹرمینلز، انٹرملٹی-ماڈل ٹرمینلز، کمیونٹی جیٹیاں، تیرتے ہوئے ٹرمینلز اور مال برداری کے تجمیعی مراکز(ایگریگیشن ہبز) تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ ملٹی-ماڈل رابطے کو مضبوط بنایا جا سکے اور مال کی بلارکاوٹ نقل و حمل کو آسان بنایا جا سکے۔

اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کے ذریعے مال برداری کو فروغ دینے اور نقل و حمل کے ذرائع کو سڑک اور ریل سے آبی راستوں کی جانب منتقل کرنے کے لیے جل واہک اسکیم نافذ کی جا رہی ہے۔

ٹرمینل اور جیٹی بنیادی ڈھانچے میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے قومی آبی گزرگاہیں (جیٹیوں/ٹرمینلز کی تعمیر) ضوابط، 2025 جاری کیے گئے ہیں۔

اندرونِ ملک جہازوں کے استعمال کے لیے سازگار ماحول تیار کیا جا رہا ہے، جس کے تحت آبی راستوں کی گہرائی اور گزرگاہی حالات کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور جہاز رانی کے شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

علاقائی رابطے کو بہتر بنانے اور مال برداری میں اضافے کے لیے بھارت-بنگلہ دیش پروٹوکول (آئی بی پی) کے تحت مزید راستوں کو فعال کیا جا رہا ہے۔

سیاحت اور علاقائی مسافر نقل و حمل کو فروغ دینے کے لیے موزوں قومی آبی گزرگاہوں پر مسافر اور کروز بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جا رہا ہے۔

موزوں مال برداری کو اندرونِ ملک آبی گزرگاہوں کی جانب منتقل کرنے اور قومی آبی گزرگاہوں کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں، سرکاری شعبے کے اداروں اور نجی شعبے کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔

قومی آبی گزرگاہوں کے ساتھ ملٹی-مادل لاجسٹک پارکس (ایم ایم ایل پیز) تیار کیے جا رہے ہیں۔

دریائی تربیتی کاموں، آبی گزرگاہوں کی دیکھ بھال، راستوں کی نشاندہی اور ہائیڈروگرافک سروے کے ذریعے آبی گزرگاہوں کی روانی اور محفوظ نقل و حمل کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

یہ معلومات بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں فراہم کیں۔

******

( ش ح ۔ م م ۔ م ا )

Urdu.No-1288


(रिलीज़ आईडी: 2294340) आगंतुक पटल : 10
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: हिन्दी , English