بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
جہاز سازی کے فروغ اور بحری مالی معاونت
प्रविष्टि तिथि:
04 AUG 2026 3:40PM by PIB Delhi
حکومت نے جہاز سازی مالی معاونت اسکیم (ایس بی ایف اے ایس) کو منظوری دےدی ہے، جو جہاز سازی مالی معاونت پالیسی (ایس بی ایف اے پی) کی توسیع ہے۔ اس اسکیم کے لیے 24,736 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ عالمی جہاز ساز اداروں کے مقابلہ میں ہندوستانی شپ یارڈز کو درپیش لاگت کے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔ ایس بی ایف اے ایس کو نافذ کرنے کے لیے اسکیم کے رہنما اصول 26 دسمبر 2025 کو جاری کیے گئے ہیں۔
سمندری ترقیاتی فنڈ (ایم ڈی ایف) کو 25,000 کروڑ روپے کے سرمایہ کے ساتھ قائم کیا گیا ہے جس کا مقصد جہاز سازی اور بحری شعبہ کو طویل مدتی مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس میں 20,000 کروڑ روپے کا بحری سرمایہ کاری فنڈ (ایم آئی ایف) شامل ہے، جس میں حکومت ہند کی 49 فیصد شراکت ہوگی، تاکہ بحری شعبہ میں ایکویٹی سرمایہ کاری کی معاونت کی جا سکے۔ اس کے علاوہ 5,000 کروڑ روپے کا سود ترغیبی فنڈ (آئی آئی ایف) بھی شامل ہے، جس کا مقصد شپ یارڈز کے لیے قرض کی مؤثر لاگت کو کم کرنا ہے۔ ایم ڈی ایف کے لیے رہنما اصول 20 فروری 2026 کو جاری کیے گئے ہیں۔ ایس بی آئی وینچرز لمیٹڈ کو 26 مئی 2026 کو ایم آئی ایف کے لیے فنڈ منیجر مقرر کیا گیا ہے۔
قومی جہاز سازی مشن (این ایس بی ایم)، جو ایک بین الوزارتی ادارہ ہے کو جہاز سازی سے متعلق اسکیموں، یعنی جہاز سازی مالی معاونت اسکیم (ایس بی ایف اے ایس) اور جہاز سازی ترقیاتی اسکیم (ایس بی ڈی ایس) کے نفاذ کی نگرانی کے لیے نوڈل ایجنسی کے طور پر قائم کیا گیا ہے۔ جہاز سازی ترقیاتی اسکیم کے تحت آندھرا پردیش، گجرات اور تمل ناڈو میں نئے جہاز سازی کلسٹرز کے قیام کے لیے تجاویز، نیز موجودہ مختلف شپ یارڈز کی صلاحیت میں توسیع سے متعلق تین منصوبوں کو این ایس بی ایم کی جانچ کے بعد اصولی منظوری دے دی گئی ہے۔
ان اقدامات کا مقصد میری ٹائم انڈیا ویژن -2030 اور میری ٹائم امرت کال ویژن - 2047 کے مطابق ہندوستان کو جہاز سازی اور بحری شعبہ میں ایک عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔
یہ معلومات بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے ایوان بالا- راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں دی۔
*****
ش ح- ظ الف– ن ع
UR No. 1289
(रिलीज़ आईडी: 2294323)
आगंतुक पटल : 6